جمعرات , 13 مئی 2021

طرابلس میں لیبیا کی فوج کے ہاتھوں ترکی کا ڈرون تباہ

لیبیا میں جنرل خلیفہ حفتر کی فوج کا کہنا ہے کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے پیر اور منگل کی درمیانی شب ترکی کے ایک عسکری ڈرون طیارے کو مار گرایا۔ لیبیا کی فوج کے مطابق طیارے کو معیتیقہ کے عسکری اڈے سے اڑان بھرنے کے فورا بعد نشانہ بنایا گیا۔ یہ طیارہ دارالحکومت طرابلس کے جنوب میں لیبیا کی فوج کے عسکری ٹھکانوں پر حملہ کرنے کے مشن پر تھا۔تقریبا ایک ہفتے سے طرابلس اور مصراتہ کے جنوبی علاقوں اور سرت شہر کے مغرب میں لڑائی کے محاذوں پر گھمسان کے معرکے دیکھے جا رہے ہیں۔ یہ لیبیا کی فوج اور وفاق حکومت کی فورسز کے درمیان جنگ بندی کے اعلان کے بعد سے ہونے والی شدید ترین لڑائی ہے۔ اس دوران بھاری توپ خانوں ، لڑاکا طیاروں اور ڈرون طیاروں کا استعمال کیا گیا۔ لیبیا کی فوج نے لڑائی کے بیچ درالحکومت طرابلس کے وسطی علاقے کی سمت پیش قدمی کی۔ ساتھ ہی تیونس کی سرحد کے نزدیک واقع تزویراتی ایمیت کے حامل علاقوں پر اپنا کنٹرول یقینی بنا لیا۔

وفاق حکومت نے جمعرات کے روز "امن کی آندھی” کے نام سے ایک فوجی آپریشن کا آغاز کیا تھا۔ اس کے نتیجے میں آنے والے دنوں کے دوران ممکنہ طور پر عسکری جارحیت کا سلسلہ بڑھ سکتا ہے۔ مذکورہ آپریشن کا آغاز اقوام متحدہ کی جانب سے فائر بندی کے مطالبات کے باوجود کیا گیا۔ اقوام متحدہ نے زور دیا ہے کہ اس وقت تمام تر روجہ کرونا وائرس کے پھیلاؤ کی روک تھام کے لیے کوششوں پر مرکوز کی جائے۔چند روز قبل لیبیا کی فوج نے تیونس کی سرحد کے نزدیک واقع شہروں زليطن، الجميل، رقدالين اور دیگر علاقوں پر کنٹرول حاصل کر لیا تھا۔ تاہم اسے وادی زمزم، بوقرین الہشہ کے علاقوں میں وفاق حکومت کی فورسز کی جانب سے شدید مزاحمت کا سامنا ہے۔لیبیا کی فوج نے دارالحکومت طرابلس کو وفاق حکومت کی ہمنوا مسلح ملیشیاؤں سے آزاد کرانے کے لیے فوجی آپریشن کا آغاز 4 اپریل 2019 کو کیا تھا۔ آپریشن کو تقریبا ایک سال گزرنے کے بعد اس وقت فریقین اپنے ٹھکانوں کو برقرار رکھنے اور زمینی طور پر نئی پیش رفت کو یقینی بنانے کے واسطے سر دھڑ کی بازی لگا رہے ہیں۔ وفاق حکومت کی فورسز کی جانب سے "امن کی آندھی” آپریشن کے جواب میں لیبیا کی فوج بھی نئے عسکری آپریشن کے واسطے اپنی افواج کو اکٹھا کر رہی ہے۔ یہ آپریشن فریقین کے درمیان تصادم کے آغاز کے بعد اب تک کا شدید ترین ٹکراؤ ہو سکتا ہے۔

یہ بھی دیکھیں

ایران و چین معاہدے پر امریکہ چراغ پا

امریکی صدر نے ایران اور چین کے 25 سالہ معاہدے پر سخت تشویش کا اظہار …