منگل , 11 مئی 2021

این ایچ ایس، 20 ہزار سابقہ ملازمین کورونا کیخلاف جنگ کیلئے ملازمت پر واپس آگئے، بورس جانسن

لندن (پی اے) وزیر اعظم بورس جانسن نے اپنے آن لائن پوسٹ کئے گئے ایک پیغام میں اظہار کیا ہے کہ این ایچ ایس کے سابقہ 20 ہزار ملازمین کورونا کے خلاف جنگ کیلئے ملازمت پر واپس آگئے۔ کورونا کا مثبت ٹیسٹ آنے کے بعد تنہائی اختیار کرنے والے بورس جانسن نے کہا ہے کہ ملک متحد ہو کر ہی اس بحران سے نکل سکتا ہے۔ وزیراعظم نے یہ پیغام انگلینڈ کے چیف میڈیکل افسر کے اس بیان کے بعد دیا ہے، جس میں انھوں نے کہا تھا کہ ملک میں معمولات زندگی بحال ہونے میں6 ماہ لگ سکتے ہیں۔ تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق برطانیہ میں کورونا کے سبب ہلاک ہونے والوں کی تعداد ایک ہزار 228 ہوگئی ہے۔ ہلاک ہونے والوں میں کوئنز ہسپتال برٹن کے کان، ناک اور گلے (ای این ٹی) کے امراض کے ماہر 55 سالہ ڈاکٹر امجد الہورانی شامل ہیں، گزشتہ ہفتہ اعضا کی تبدیلی کے ایک کنسلٹنٹ بھی کورونا کا ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد ہلاک ہوگئے تھے، رائل کالج آف فزیشنز کے پروفیسر اینڈریو گوڈ ڈارڈ کا کہنا ہے کہ ان کی 25 فیصد افرادی قوت یا تو کورونا کیعلامت کی وجہ سے یا فیملی کے کسی رکن میں علامات کے اظہار کی وجہ سےخود تنہائی اختیار کرنے کے سبب کام نہیں کررہی۔ انھوں نے کہا کہ میرے بہت سے ساتھی اپنی فیملی کے ساتھ گھروں پر بیٹھے ہوئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ان میں کورونا کی کوئی علامات نہیں اور ان کو کام پر واپس لانے کیلئے قائل کرنے کی ضرورت ہے۔ انھوں نے کہا کہ بڑے پیمانے پر کورونا کے ٹیسٹ سے عملے کے جو ارکان بیمار نہیں ہیں، انھیں کام پر واپس لایا جاسکتا ہے۔

برطانوی حکومت نے کہا ہے کہ وہ این ایچ ایس کے فرنٹ لائن ورکرز کے ٹیسٹ کے عمل کو تیز کر رہی ہے۔ اپنی ویڈیو میں وزیراعظم بورس جانسن نے 1979 سے 1990 تک وزیراعظم رہنے والی مارگریٹ تھیچر کے اس خیال کی تردید کی ہے کہ سوسائٹی کوئی چیز نہیں ہوتی۔ انھوں نے اپنی ویڈیو میں ڈاکٹروں، نرسوں اور این ایچ ایس میں واپس آنے والے عملے کے دیگر ارکان کے علاوہ رضاکارانہ طورپر مدد کیلئے سامنے آنے والے ساڑھے7لاکھ افراد کا شکریہ ادا کیا۔ انھوں نے کہا کہ ہم اس مرض کا مقابلہ کر رہے ہیں اور متحد ہو کر اس کو شکست دیں گے۔ انھوں نے کہا کہ کورونا وائرس سے یہ ثابت ہوگیا ہے کہ سوسائٹی بھی ایک حقیقت ہے۔ وزیراعظم کورونا کی وجہ سے خود اختیار کردہ تنہائی میں رہتے ہوئے اپنی ڈائوننگ اسٹریٹ کی سرکاری رہائش گاہ سے اس وبا کے خلاف ملک کی قیادت کر رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اس وائرس کے پھیلائو کو سست کرنے کیلئے عوام حکومت کی ہدایات پر عمل کر رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اس کی وجہ سے ٹرین میں سفر کرنے والوں کی شرح میں 95 فیصد اور بسوں میں سفر کرنے والوں کی تعداد میں 75 فیصد کمی ہوئی ہے۔ امپیریل کالج لندن کے پروفیسر نیل فرگوسن نے بی بی سی کو بتایا کہ برطانیہ میں اس وبا کے سست پڑنے کی علامات نظر آنے لگی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اگر ہم اس مرض کے مریضوں کے ہسپتال میں داخل ہونے کی شرح کا اندازہ لگائیں تو ظاہر ہوتا ہے کہ مرض میں کچھ کمی آئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ اگرچہ مریضوں کی تعداد روزبروز بڑھ رہی ہے لیکن اس اضافے کی شرح کم ہے۔ جب ان سے سوال کیا گیا کہ برطانیہ میں کتنے افراد اس وائرس سے متاثر ہوئے ہیں تو انھوں نے کہا کہ پورے ملک میں اس کی شرح مختلف ہے، سینٹرل لندن میں 3 سے 5 فیصد افراد اس سے متاثر ہوئے ہیں، ہوسکتا ہے کہ بعض مقامات پر اس کی شرح کچھ زیادہ بھی ہو اور جہاں تک پورے برطانیہ کا تعلق ہے تو بحیثیت پورے برطانیہ میں اس کی شرح 2 سے 3فیصد ہوگی۔

ادھر اطلاعات کے مطابق کورونا وائرس کے مریضوں کیلئے خوشخبری یہ ہے کہ یونیورسٹی کالج لندن کے انجینئروں نے کورونا کے مریضوں کو انتہائی نگہداشت میں جانے سے بچانے کیلئے مرسڈیز فارمولہ ون کے ساتھ مل کر کام شروع کردیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق اسکاٹ لینڈ میں پولیس نے دکانیں کھولنے اور کورونا وائرس کی روک تھام کیلئے جاری کردہ پابندیوں کی خلاف ورزی کرنے پر گزشتہ اختتام ہفتہ 25افراد پر جرمانے کئے۔ فورس کا کہنا ہے کہ اسے قوانین توڑے جانے کے حوالے سے لوگوں کے ٹیلی فون موصول ہورہے ہیں۔ کورونا وائرس کے حوالے سے غلط اطلاعات اور تصورات کا تدارک کرنے کیلئے کیبنٹ آفس کے اندر ایک ریپڈ ریسپانس سینٹر سوشل میڈیا کے اداروں سے مل کر کام کر رہا ہے۔ ادھر جنوبی کوریا میں قرنطینہ کی پابندی توڑ کر باہر نکلنے اور لوگوں سے ملنے جلنے والے ایک 30ایک سالہ برطانوی شہری کو ملک بدر کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

یہ بھی دیکھیں

ایران و چین معاہدے پر امریکہ چراغ پا

امریکی صدر نے ایران اور چین کے 25 سالہ معاہدے پر سخت تشویش کا اظہار …