جمعرات , 13 مئی 2021

ڈاکٹرز اور نرسوں کو ڈیوٹی ختم کرنے کے بعد شناخت چھپانے کی ہدایت، این ایچ ایس ڈاکٹر کورونا وائرس سے ہلاک

راچڈیل: ڈاکٹروں سے بدزبانی اور گالیاں نہ نکالی جائیں کیونکہ وہ مسیحا ہیں قوم کی خدمت کر رہے ہیں۔یہ صور تحال انتہائی خطرناک ہے ڈاکٹرز اور نرسیں ڈیوٹی ختم کر نے کے بعد اپنی شناخت اور وردی پہننا بند کر دیں تاکہ این ایچ ایس کے عملے کے ساتھ بدسلوکی کے واقعات ان پر تھوکنے یہاں تک کے ان کے ساتھ بدزبانی کے واقعات کی روک تھام ہو سکے۔ رائل کالج آف نرسنگ کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں میں این ایچ ایس کے ملازمین جو فرنٹ لائن پر کام کرنے کی وجہ سے بیماری پھیلانے والے پکارے جاتے ہیں اور یہ افسوسناک بات ہے ہمیں معلوم ہے کہ لوگ شدید پریشان ہیں اور وہ اپنی پریشانی کا اظہار ہم پر کرتے ہیں اور این ایچ ایس کا عملہ ہی ان کا آسان ترین ہدف ہیں سرکاری طور پر این ایچ ایس کے عملے اور نرسوں کو ایک ای میل بھیجی گئی جس میں انہیں ڈیوٹی آف ہونے کے بعد وردی نہ پہننے کا مشورہ دیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ وہ اپنا این ایچ ایس کا کارڈ بھی نہ دکھائیں اور اس امر کا پابند کیا گیا ہے جب تکتمام عملہ اپنے کام کی جگہ نہیں پہنچ جاتا اپنی وردی پہننے سے گریز کریں اور اپنی حفاظت کا انتظام کریں۔

چند دن قبل ایسکیس میں ایک ڈاکٹر کو تین نوجوانوں نے زبردستی کیش مشین پر لے جا کر اس سے نقد رقم نکلوا لی جب کہ مانچسٹر سے تعلق رکھنے والی ایک کمیونٹی نرس کی گاڑی سے ا س کی میڈیکل کٹ اور نقد رقم بھی اڑا لی گئی جبکہ لیو شام ہسپتال کے باہر دو ڈاکٹروں کو چوروں نے نشانہ بنایا اور ان کے این ایچ ایس کے بیج چرانے کی کوشش کی یہ سب کچھ بیروزگاری اور لاک ڈائون کی وجہ سے ہو رہا ہے ۔علاوہ ازیںاین ایچ ایس کے کنسلٹنٹ ڈاکٹر امیجڈ الہورانی کورونا وائر س کا شکار ہو کر وفات پا گئے وہ کوئین ہسپتال برٹن میں ناک ‘ کان اور گلے کے ماہر تھے وہ اے اینڈ ا ی میں بھی رضا کارانہ خدمات سر انجام دے چکے تھے کورونا وائر س کا شکار ہونے پر انہیں لیسٹر کے گلین فیلڈ ہسپتال میں داخل کرایا گیا جہاں وہ انتقال کر گئے ۔

ان کےہل خانہ نے کہا ہے کہ وہ ہمارے خاندان کی چٹان تھے برٹش میڈیکل نے متنبہ کیا ہے کہ ڈاکٹر الہورانی کی موت سے این ایچ ایس کے عملے میں دوبارہ تبدیلی آجائے گی جو حفاظتی سامان کی عدم دستیابی پر تشویش کا شکار ہو رہے ہیں۔گزشتہ ہفتے ٹریڈ یونین نے یہ الزام عائد کیا تھا کہ مریضوں میں ڈاکٹروں کے ذریعے لباس ‘ ماسک اور راشن تقسیم کیا جا رہا ہے۔ بی ایم اے کے ڈاکٹر روب ہار ووڈ نے کہا ہے کہ ڈاکٹروں کو خوف ہے کہ ان مریضوں کی دیکھ بھال جاری رکھنا ا ن کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے جبکہ کچھ ڈاکٹروں کا موقف ہے کہ سامان کی اتنی کم فراہمی ہے کہ عملہ اسے الماریوں میں بند کر کے رکھے ہوئے ہے۔

ڈاکٹروں کا یہ موقف ہے کہ عام فلو کہہ کر جان چھڑانے کی بجائے اسے سنجیدہ لیا جائے کنسلٹنٹ ڈاکٹر کی موت بھی ناکافی حفاظتی اقدامات کی وجہ سے ہوئی ہے ۔دوسری جانب ا ب برطانیہ کے بڑے بڑے شاپنگ سٹورز پر ضرورت سے زائد اشیائے خوردونوش اکٹھا کرنے کی اجازت نہیں ہو گی بلکہ ضرورت کے مطابق ایک بریڈ‘ روٹی ‘ انڈے اور ٹائلٹ رولز خریدے جا سکتے ہیں ۔یہ بھی کہا گیا ہے کہ خریدار مکمل حفاظتی پوشاک پہن کر سٹوروں میں داخل ہوں اور تمام خریدار سپر مارکیٹ میں ایک دوسرے سے چھ فٹ کے فاصلے پر کھڑے ہوں اور اپنی باری کا انتظار کریں اس امر کا اعلان برطانیہ کے مختلف بڑے بڑے سٹوروں نے حکومت کی ہدایات کے مطابق کیا ہے تاکہ ملک میں خوراک اور دیگر سامان کی ذخیرہ اندوزی پر قابو پایا جا سکے اور یہ سٹور کورونا وائرس کے پھیلائو کا سبب نہ بنیں۔ یہ ہدایات بھی دی گئی ہیں کہ کورونا وائرس کرنسی نوٹوں اور سکوں پر بھی موجود ہو سکتا ہے لہٰذا دستانے پہن کر کرنسی کا لین دین کیا جائے ان کرنسی نوٹوں اور سکوں کو بعد ازاں سپرے کر کے کورونا وائرس سے پاک کیا جا رہا ہے جبکہ آن لائن خریداری پر صرف تین اشیاء کی بکنگ کرائی جا سکتی ہے یہ امر قابل ذکر ہے کہ برطانیہ میں بہت کم ایسے سٹور ہیں جہاں طلب سٹور میں رکھے ہوئے سامان سے زیاد ہ ہے اور کچھ مصنوعات پر پابندیاں بھی لگانے کی ضرورت پیش آ سکتی ہے تاکہ ہر خریدار کو اسکی ضر ورت کی چیز مل سکے ۔

یہ بھی دیکھیں

ایران و چین معاہدے پر امریکہ چراغ پا

امریکی صدر نے ایران اور چین کے 25 سالہ معاہدے پر سخت تشویش کا اظہار …