جمعہ , 7 مئی 2021

امریکا نے ایران کے سامنے گھٹنے ٹیک دیئے؛ بڑی پابندیاں ختم کر دی

امریکا نے ایران کو جوہری پابندیوں پر دی گئی نرمی میں مزید توسیع کرتے ہوئے روس، یورپی ممالک اور چینی کمپنیوں کو ایران کے ساتھ کام کرنے کی اجازت دے دی۔غیر ملکی خبر ایجنسی ‘اے پی’ کی رپورٹ کے مطابق امریکا کے سیکریٹری اسٹیٹ مائیک پومپیو نے پابندیوں میں نرمی میں توسیع کے حوالے سے دستاویزات پر دستخط کیے، تاہم انہوں نے ایران کے ایٹمی پروگرام پر پابندیاں جاری رکھنے کا عزم کیا۔

رپورٹ کے مطابق ان معاملات سے باخبر سابق اور موجودہ عہدیداروں کا کہنا تھا کہ پومپیو نے پابندیوں میں نرمی کی مخالفت کی تھی جن میں 2015 کے جوہری معاہدے کے چند نکات شامل ہیں اور ٹرمپ انتظامیہ نے ان شقوں کو اب تک ختم نہیں کیا ہے۔امریکی عہدیداروں کا کہنا تھا کہ سیکریٹری خزانہ اسٹیون منوچن نے گزشتہ ہفتےہونے والے اندرونی مباحثے میں دلائل دیے تھے کہ کورونا وائرس کے باعث ایران پر پابندیاں عائد کرنے کے حوالے انتظامیہ کو تنقید کا سامنا ہے۔خیال رہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے گزشتہ ہفتے ایران کی 20 شخصیات اور اداروں پر مزید پابندیاں عائد کردی تھیں جن پر عراق میں مختلف ملیشیا کو امریکی تنصیبات پر حملوں کے لیے تعاون کرنے کا الزام عائد کردیا گیا تھا۔امریکا نے ان پابندیوں کے باوجود عراقی حکومت کو ایران سے توانائی کے حوالے سے درآمدات جاری رکھنے کی اجازت دی تھی۔یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 2018 میں ایران سے جوہری معاہدہ ختم کرنے کا اعلان کرکے بتدریج پابندیاں عائد کی تھیں جس میں معاشی پابندیاں بھی شامل تھیں۔تاہم امریکا نے ایران پر پابندیوں کے باوجود معاہدے میں شامل دیگر ممالک کے ساتھ کئی معاملات میں نرمی رکھی تھی جس میں غیر ملکی کمپنیوں کو ایران کے مخصوص جوہری تنصیبات کے ساتھ کام کرنے کی اجازت بھی شامل تھی۔امریکا کے اس اقدام کو معاہدے کے حامیوں نے عالمی ماہرین کے لیے ایران کے ایٹمی پروگرام تک رسائی کو ایک راستے سے تعبیر کیا تھا اور ادویات بنانے کے لیے استعمال ہونے والے چند مراکز کو انسانی بنیادوں پر اہم قرار دیا تھا۔

رپورٹ کے مطابق ان معاملات سے باخبر سابق اور موجودہ عہدیداروں کا کہنا تھا کہ پومپیو نے پابندیوں میں نرمی کی مخالفت کی تھی جن میں 2015 کے جوہری معاہدے کے چند نکات شامل ہیں اور ٹرمپ انتظامیہ نے ان شقوں کو اب تک ختم نہیں کیا ہے۔امریکی عہدیداروں کا کہنا تھا کہ سیکریٹری خزانہ اسٹیون منوچن نے گزشتہ ہفتےہونے والے اندرونی مباحثے میں دلائل دیے تھے کہ کورونا وائرس کے باعث ایران پر پابندیاں عائد کرنے کے حوالے انتظامیہ کو تنقید کا سامنا ہے۔خیال رہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے گزشتہ ہفتے ایران کی 20 شخصیات اور اداروں پر مزید پابندیاں عائد کردی تھیں جن پر عراق میں مختلف ملیشیا کو امریکی تنصیبات پر حملوں کے لیے تعاون کرنے کا الزام عائد کردیا گیا تھا۔امریکا نے ان پابندیوں کے باوجود عراقی حکومت کو ایران سے توانائی کے حوالے سے درآمدات جاری رکھنے کی اجازت دی تھی۔

یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 2018 میں ایران سے جوہری معاہدہ ختم کرنے کا اعلان کرکے بتدریج پابندیاں عائد کی تھیں جس میں معاشی پابندیاں بھی شامل تھیں۔تاہم امریکا نے ایران پر پابندیوں کے باوجود معاہدے میں شامل دیگر ممالک کے ساتھ کئی معاملات میں نرمی رکھی تھی جس میں غیر ملکی کمپنیوں کو ایران کے مخصوص جوہری تنصیبات کے ساتھ کام کرنے کی اجازت بھی شامل تھی۔امریکا کے اس اقدام کو معاہدے کے حامیوں نے عالمی ماہرین کے لیے ایران کے ایٹمی پروگرام تک رسائی کو ایک راستے سے تعبیر کیا تھا اور ادویات بنانے کے لیے استعمال ہونے والے چند مراکز کو انسانی بنیادوں پر اہم قرار دیا تھا۔

دوسری جانب امریکی کانگریس میں موجود ایران مخالف اراکین سیکریٹری پومپیو پر پابندیوں میں نرمی کو بھی ختم کرنے پر زور دے رہے تھے، دیگر اراکین مختلف تنصیبات کے ساتھ کام کرنے کے لیے اس حوالے سے توسیع کی منظوری دے چکے ہیں۔امریکا کی جانب سے جنوری میں پابندیوں پر نرمی میں 60 دنوں کی توسیع کردی گئی تھی جس میں اب ایک مرتبہ پھر 60 روز کی توسیع کردی گئی ہے۔اسی دوران امریکا نے خطے کو غیر مستحکم کرنے کے الزام میں ایران کے 8 اعلیٰ عہدیداروں کے خلاف پابندیوں کا اعلان کیا تھا۔امریکی سیکریٹری خزانہ نے وائٹ ہاؤس میں بریفنگ میں صحافیوں کو بتایا تھا کہ 8 اعلیٰ عہدیداروں کے ساتھ ایران میں کان کنی اور دھاتوں کی پیداوار کی ایک درجن سے زائد کمپنیوں پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے۔واشنگٹن کی جانب سے ایران کے اعلیٰ قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری علی شمخانی، ایرانی مسلح افواج کے نائب چیف آف اسٹاف محمد رضا اشتیانی اور بسیج ملیشیا کے سربراہ غلام رضا سلیمانی سمیت دیگر اعلیٰ عہدیداروں پر پابندی عائد کی گئی تھی۔

یہ بھی دیکھیں

ایران و چین معاہدے پر امریکہ چراغ پا

امریکی صدر نے ایران اور چین کے 25 سالہ معاہدے پر سخت تشویش کا اظہار …