بدھ , 2 دسمبر 2020

چینی بحران رپورٹ اور شفافیت کے دعوے

رپورٹ: ٹی ایچ بلوچ

موجودہ حکومت کا دور صرف بحرانوں کا دور ہے، لیکن کوئی نہ کوئی حادثہ اقتدار کے طول اور عوامی غیض و غضب سے بچائے رکھتا ہے۔ عمران خان گذشتہ حکمرانوں کیخلاف رشوت ستانی اور بدعنوانی کے الزامات کو اپنا نعرہ بنا کر اقتدار میں آئے۔ ساتھ ہی انہوں نے شفافیت کے دعوے کیے، لوگوں کو خواب دکھائے لیکن ایک سال ہی میں انکی حقیقت سامنے آ گئی۔ اب بحران زدہ ملک میں لوگوں کو موجودہ حکومت سے کوئی توقع نہیں۔ اس کا ایک اور ثبوت بھی سامنے آ چکا ہے۔ احتساب کمیشن کے چئیرمین اب بھی ایک ہی منہ سے دو باتیں کرتے ہوئے لوگوں کا مذاق اڑا رہے ہیں۔ انہوں نے نہایت ڈھٹائی سے کہا ہے کہ چینی کی قلت کا بحران حکمران جماعت کے لوگوں نے پیدا کیا ہے اور وزیر اعظم نے کہا ہے کہ یہ رپورٹ پبلک کی جائے۔ نہ ہی وزیراعظم نے کسی کو سزا دینے کا کہا نہ ہی کسی کاروائی کیلئے کوئی حکم جاری کیا ہے۔

یہ اب واضح ہے کہ چینی کے بحران کی تحقیقات کے لیے تشکیل دی گئی کمیٹی کی رپورٹ عوام کے سامنے آگئی جس میں کہا گیا ہے کہ چینی کی برآمد اور قیمت بڑھنے سے سب سے زیادہ فائدہ جہانگیر ترین کے گروپ کو ہوا جبکہ برآمد اور اس پر سبسڈی دینے سے ملک میں چینی کا بحران پیدا ہوا۔ ایف آئی اے کے ڈائریکٹر جنرل واجد ضیا کی سربراہی میں تشکیل دی گئی کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق رواں سال گنے کی پیداوار گزشتہ سال کے مقابلے میں درحقیقت ایک فیصد زیادہ ہوئی، پچھلے سال کے مقابلے میں کم رقبے پر گنے کی کاشت کی گئی۔ معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر کے مطابق وزیراعظم کا نقطہ نظر یہ تھا کہ کہ چونکہ انہوں نے عوام سے رپورٹ منظر عام پر لانے کا وعدہ کیا تھا اس لیے اب یہ وقت ہے کہ وعدہ پورا کیا جائے۔ لیکن ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ وزیراعظم اور تحقیقاتی کمیٹی کے اراکین رپورٹ منظر عام پر لائے جانے کے سنگین نتائج سے خوفزدہ تھے۔

دوسری طرف وزیراعظم رپورٹ دیکھ کر اس بات پر خوش ہوئے کہ انکوائری کمیٹی نے سال 19-2018ء کی برآمدات اور اس پر دی گئیں سبسڈی کی تحقیقات کی ہیں۔ یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ گزشتہ چند سالوں کے دورن چینی کی پیداوار مقامی ضرورت نے کہیں زیادہ تھی جس کی وجہ سے اس پہلو کی تحقیقات کرنا اور اسے شامل کرنا ضروری تھا کہ چینی کی برآمدات میں دی گئی سبسڈی، مقامی سطح پر چینی کی قیمت پر مرتب ہونے والے اثرات اور ان سبسڈی سے کس نے سب سے زیادہ فائدہ اٹھایا۔ دستاویز کے مطابق سال 17-2016 اور 18-2017ء میں چینی کی پیداوار مقامی کھپت سے زیادہ تھی اس لیے اسے برآمد کیا گیا۔ پاکستان میں چینی کی سالہ کھپت 52 لاکھ میٹرک ٹن ہے جبکہ سال 17-2016ء میں ملک میں چینی کی پیداوار 70 لاکھ 80 ہزار میٹرک ٹن ریکارڈ کی گئی اور سال 18-2017ء میں یہ پیداوار 66 لاکھ 30 ہزار میٹرک ٹن تھی۔

لیکن انکوائری کمیٹی کی تحقیقات کے مطابق جنوری 2019ء میں چینی کی برآمد اور سال 19-2018ء میں فصلوں کی کٹائی کے دوران گنے کی پیدوار کم ہونے کی توقع تھی اس لیے چینی کی برآمد کا جواز نہیں تھا جس کی وجہ سے مقامی مارکیٹ میں چینی کی قیمت میں تیزی سے اضافہ ہوا۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ برآمد کنندگان کو 2 طرح سے فائدہ ہوا، پہلا انہوں نے سبسڈی حاصل کی دوسرا یہ کہ انہوں نے مقامی مارکیٹ میں چینی مہنگی ہونے سے فائدہ اٹھایا جو دسمبر 2018ء میں 55 روپے فی کلو سے جون 2019ء میں 71.44 روپے فی کلو تک پہنچ گئی تھی۔ یہ بھی پیش گوئی کی گئی تھی کہ کرش کیے گئے گنے کی مقدار گزشتہ سال کے مقابلے میں زیادہ ہوگی اور ہمارے پاس رواں سال کے ضرورت کے مطابق کافی چینی ہوگی۔

ملک میں چینی کے بحران اور قیمتوں میں اضافے کی تحقیقات کے لیے تشکیل دی گئی کمیٹی کی رپورٹ میں 2018ء میں چینی کی برآمد کی اجازت دینے کے فیصلے اور اس کے نتیجے میں پنجاب کی جانب سے 3 ارب روپے کی سبسڈی دینے کو بحران کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق 2018ء میں تحریک انصاف اقتدار میں آئی تو اس وقت میں ملک میں چینی ضرورت سے زیادہ تھی، اس لیے مشیر تجارت، صنعت و پیداوار کی سربراہی میں شوگر ایڈوائزری بورڈ (ایس اے بی) نے 10 لاکھ ٹن چینی برآمد کرنے کی سفارش کی جس کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے بھی منظوری دی، حالانکہ سیکریٹری فوڈ سیکیورٹی نے اگلے سال گنے کی کم پیداوار کا امکان ظاہر کرتے ہوئے اس فیصلے پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔ تاہم چینی کی برآمد کی اجازت دے دی گئی اور بعد میں پنجاب حکومت نے اس پر سبسڈی بھی دی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جنوری سے مئی 2019ء تک پنجاب میں چینی کی برآمد پر سبسڈی دی جاتی رہی، اس عرصے میں مقامی مارکیٹ میں چینی کی فی کلو قیمت 55 روپے سے بڑھ کر 71 روپے ہوگئی، لہٰذا چینی برآمد کرنے والوں کو دو طریقوں سے فائدہ ہوا۔ ایک یہ کہ انہوں نے 3 ارب روپے کی سبسڈی حاصل کی جبکہ مقامی مارکیٹ میں قیمت بڑھنے کا بھی انہیں فائدہ ہوا۔ کمیٹی کی رپورٹ میں چینی کی برآمد اور قیمت میں اضافے سے زیادہ فائدہ اٹھانے والوں کے نام بھی سامنے لائے گئے ہیں جس کے مطابق اس کا سب سے زیادہ فائدہ جے ڈی ڈبلیو (جہانگیر خان ترین) کو ہوا اور اس نے مجموعی سبسڈی کا 22 فیصد یعنی 56 کروڑ 10 لاکھ روپے حاصل کیا۔ رپورٹ کے مطابق اس کے بعد سب سے زیادہ فائدہ آر وائی کے گروپ کو ہوا جس کے مالک مخدوم خسرو بختیار کے بھائی مخدوم عمر شہریار خان ہیں اور انہوں نے 18 فیصد یعنی 45 کروڑ 20 روپے کی سبسڈی حاصل کی۔

اس گروپ کے مالکان میں چوہدری منیر اور مونس الہٰی بھی شامل ہیں جبکہ اس کے بعد تیسرے نمبر پر زیادہ فائدہ المُعیز گروپ کے شمیم احمد خان کو 16 فیصد یعنی 40 کروڑ 60 لاکھ روپے کی صورت میں ہوا۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ شمیم احمد خان کی ملکیت میں موجود کمپنیوں نے گزشتہ برس چینی کی مجموعی پیداوار کا 29.60 فیصد حصہ برآمد کیا اور 40 کروڑ 60 لاکھ روپے کی سبسڈی حاصل کی۔ رپورٹ کے مطابق اومنی گروپ جس کی 8 شوگر ملز ہیں اس نے گزشتہ برس برآمداتی سبسڈی کی مد میں 90 کروڑ 10 لاکھ روپے حاصل کیے، خیال رہے کہ اومنی گروپ کو پی پی پی رہنماؤں کی طرح منی لانڈرنگ کیس کا بھی سامنا ہےْ۔ تحقیقاتی کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں اس اہم پہلو کو بھی اٹھایا ہے کہ برآمدی پالیسی اور سبسڈی کا سب سے زیادہ فائدہ اٹھانے والے سیاسی لوگ ہیں جن کا فیصلہ سازی میں براہ راست کردار ہے، حیران کن طور پر اس فیصلے اور منافع کمانے کی وجہ سے ملک میں چینی کا بحران پیدا ہوا اور اس کی قیمت بڑھی۔

کمیٹی نے نشان دہی کی ہے کہ اضافی خریداری اور سٹہ سے رمضان تک چینی کی قیمت فی کلو 100 روپے تک جاسکتی ہے۔ کمیٹی نے شبہ ظاہر کیا کہ شوگر ملز مالکان اور چینی کے ہول سیل ڈیلر اس پریکٹس کے پیچھے ہیں، تاہم وفاقی حکومت کی جانب سے تشکیل دیا گیا کمیشن ثبوت اور ملوث فریقین کو بے نقاب کرسکتا ہے۔ کمیٹی نے شوگر ایڈوائزری بورڈ کو مورد الزام ٹھہرایا ہے جو نہ صرف 2019ء میں چینی کی کم پیداوار کے حوالے سے جائزہ لینے میں ناکام ہوا بلکہ اس نے چینی کی قیمت میں اچانک اضافے کے حوالے سے کی گئی نشان دہی کو بھی نظر انداز کیا کیونکہ چینی کی برآمد کے ابتدائی پانچ ماہ میں ہی چینی کی فی کلو قیمت میں 16 سے 17 روپے اضافہ ہوا تھا۔ کمیٹی کی جانب سے گنے کی قیمت فی کلو کم ازکم 190 روپے کرنے پر بھی غور کیا گیا تاہم گنے کی فراہمی کی شرح سپورٹ پرائس سے زیادہ تھی، 2020ء کے لیے گنے کی قیمت 217 روپے فی کلو تھی تاہم کمیٹی نے واضح کیا ہے کہ گنے کی قیمت میں اضافے کا چینی کے بحران یا قیمت میں اضافے سے تعلق نہیں ہے۔

کمیٹی نے یہ بھی کہا ہے کہ گنے کی کاشت کرنے والے چند بڑے گروپس اور شوگر ملز مالکان کا آپس میں مفاد ہے جس کو کمیشن سامنے لائے گا۔ ایک اضافی سوال پر کمیٹی نے گزشتہ 5 برس تک دی گئی سبسڈی سے متعلق دستاویزات کے ساتھ جواب دیا ہے کہ تقریباً 25 ارب روپے دیے گئے جبکہ گزشتہ برس 3 ارب روپے سبسڈی دی گئی۔ دستاویزات کے مطابق ‘آر وائی کے’ گروپ سب سے زیادہ فائدے میں رہا جس کو مجموعی طور پر 4 ارب، جے ڈی ڈبلیو کو 3 ارب، ہنزہ گروپ کو 2 اراب 80 کروڑ، فاطمہ گروپ کو 2 ارب 30 کروڑ، شریف گروپ کو ایک ارب 40 کروڑ اور اومنی کو 90 کروڑ 10 لاکھ روپے کا فائدہ پہنچایا گیا۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ شمیم احمد خان کی ملکیت میں موجود کمپنیوں نے گزشتہ برس چینی کی مجموعی پیداوار کا 29.60 فیصد حصہ برآمد کیا اور 40 کروڑ 60 لاکھ روپے کی سبسڈی حاصل کی۔ رپوورٹ کے مطابق اومنی گروپ جس کی 8 شوگر ملز ہیں اس نے گزشتہ برس برآمداتی سبسڈی کی مد میں 90 کروڑ 10 لاکھ روپے حاصل کیے، خیال رہے کہ اومنی گروپ کو پی پی پی رہنماؤں کی طرح منی لانڈرنگ کیس کا بھی سامنا ہےْ۔

یاد رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے چینی کی قیمتوں میں اضافے کی تحقیقات کے لیے 21 فروری کو ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے کی سربراہی میں تین رکنی کمیٹی قائم کردی تھی۔ وزیر اعظم ہاؤس سے جاری نوٹی فکیشن میں دیگر اراکین کے نام بھی بتائے گئے جن میں ایف آئی اے کے سربراہ واجد ضیا کے علاوہ دیگر اراکین میں انٹیلی جنس بیورو کا نمائندہ جو بنیادی اسکیل 20 یا 21 سے کم نہ ہو اور ڈائریکٹر جنرل انسداد بدعنوانی پنجاب شامل تھے۔ کمیٹی کو تحقیقات کے لیے 13 پہلو بتائے گئے تھے جن کی تفتیش کرکے رپورٹ مرتب کرنے کی ہدایت کی گئی تھی جبکہ اس کے علاوہ کوئی اور وجہ سامنے آئے تو کمیٹی کو اس کی تحقیقات کا بھی مینڈیٹ دیا گیا تھا۔ یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ موجودہ بحران سمیت کئی معاملات میں عدم شفافیت کے متعدد ثبوت سامنے آ چکے ہیں، لیکن کسی حکومتی رکن کو سزا نہیں ہوئی۔ دوسری طرف خود غیر شفاف طریقے سے اقتدار کے ایوانوں تک پہنچنے والے وزیراعظم ہر تقریر میں گذشتہ حکمرانوں کی بدعنوانی کو اپنی عدم کارکردگی کا سبب قرار دیتے ہیں۔ اس سے بڑھ کر پاکستان کی بدقسمتی کیا ہوگی کہ ایک بدعنوان حکومت کو جس الزام کی بنیاد پہ گرایا گیا دوسری حکومت قائم کرنے والے گروہوں اور شخصیات پر لگائے گئے الزامات مسلسل ثبوتوں کے ساتھ سامنے آرہے ہیں۔

بشکریہ اسلام ٹائمز

یہ بھی دیکھیں

اسرائیل کو تسلیم کرنے کا معاملہ

سعودی عرب، اردن اور مصر کی سرحدوں کے سنگم اور بحرِ احمر کے کنارے ایک …