اتوار , 31 مئی 2020

خود غرضی حیوانیت کی اعلیٰ ترین صفت ہے

تحریر: شجاعت علی شجاع
میں نے ایم کے بعد فوراً اپنے لیے ذرائع معاش تلاش کرنے کی کوشش شروع کر دی اور اسی کوشش نے مجھے زندگی کی بہت ساری حقیقتوں سے آشنا بھی کر دیا ۔جیسے کہ مجھے محسوس ہونے لگا کہ زندگی ایک جنگ کا میدان ہے یہاں ہر وقت جنگ جاری ہے اور اس جنگ کابنیادی اصول جنگ ہے جینا ہے تو جنگ لڑنا ہے ایک لمحے کے لیے بھی اگر میں یہ سوچو کہ مجھے جنگ نہیں کرنی تو شاید اُسی وقت میں مر جائو ۔خیر میں کہہ رہا تھا معاش کی تلاش میں نے بہت ساری چیزیں دیکھی اور سیکھی ۔جیسے کہ میں نے پڑھا تھا ایک مشہور فلاسفر نے لکھا تھا انسان حیوان ہے ۔ جس وقت میں نے یہ جملہ پڑھا تھا اس وقت تو میں اس خیال سے اتفاق نہیں کرتا تھا سائنسی نقطہ نظر سے بھی اور معاشرتی نقطہ نظر سے بھی لیکن اب مجھے اس جملے کی سمجھ آگئی ہے واقعی انسان حیون ہے اصل میں انسان حیوان کی ایک ترقی یافتہ شکل ہے کسی حیوان کو انسان بننے کے لیےبہت جتن کرنے پڑھتے چاہے وہ ظاہری حوالے سے ہو یا باطنی حوالے سے ۔ میں بہرحال اپنی اس تحریر میں باطنی تبدیلیوں کا ذکر کروں گا۔ ظاہری طور پر تو ہر حیوان انسان لگتا ہے ۔کیا ایسی باطنی یا معنوی تبدیلیاں ضروری ہے جو حیوان کو انسان کے درجے پر لے آتی ہے ۔میری مجبوری ہے کہ میں اپنی تحریر کے موضوع تک محدود رہو اس لیے جو میں نے اپنی تحریر کا موضوع بنایا ہے اس موضوع سے ثابت کروں کہ انسان حیوان کیسے بنتا ہے ۔
غالباً2016کی بات ہے میں کراچی یونیورسٹی میں ایم کا سٹوڈنٹ تھا گھر سے جو پیسے آتے تھے وہ ہاسٹل کے اخراجات میں چلے جاتے تھے اور مجھے اپنی کچھ چھوٹی سی ضروریات کے لیے پریشانی رہتی تھی تو میں نے ایک میگزین میں نوکری کرنی شروع کردی ۔اس میگزین میں سب ایڈیٹر کے طور پر کام کرتا تھا اور مجھے اس میگزین کا مالک تین ہزار پانچ سو روپے دیتا تھا اور میں ہردن پانچ گھنٹے اس کے لیے کام کرتا تھا اچھا تین ہزار پانچ سو دن کے نہیں بلکہ ایک مہینے کے دیتا تھا ۔میں سوچتا تھا کتنا خود غرض انسان ہے ۔آپ بھی سوچ رہے ہونگے ۔ میرااسی شخص کے ساتھ ہونے والا دوسرا تجربہ سن لیں۔یہ جو میگزین کا مالک تھا یہ اصل میں ایئر ایویشن کا کام کرتا تھا ایئر ایویشن کے یوں تو بہت ساری سرگرمیاں ہوتی ہیں لیکن میں نے یہاں جو دیکھا ان کاموں میں یہ لوگوں کو ملک کے ایک شہر سے دوسرے شہر جانے کے لیے ٹکٹ فراہم کرتا تھا اور لوگوں کو بیرون ملک بھجوانے کا کام بھی کرتا تھا علاوہ ازیں یہ ایئر ہوسٹس کی ٹریننگ بھی چلا رہا تھا ۔ لیکن میں اکثر سوچتا تھا یار یہ بندہ میگزین کیوں چلا رہا ہے؟ نہ تویہ بندہ صحافی ہے اور نہ ہی اس کے میگزین میں اس کی اپنی کوشش سے بننے والی خبریں لگتی ہے اور نہ ہی اس کا میگزین بگتا ہے دو سو کی تعداد میں چھپنے کے بعد دفتر میں پڑا رہتا ہے اس کے میگزین میں تو دوسرے اخبارات سےلی گئی خبریں اور مضامین لگتے ہیں جو کہ صحافتی قوانین میں ایک سنگین جرم ہے۔میں اکثر یہ سوچتا رہتا تھا لیکن ایک دن میں نے دیکھا ایک عورت اپنی بیٹی کے ساتھ اس کے دفتر میں آئی میں اپنا کام کر رہا تھا یہ عورت اس شخص سے کہہ رہی تھی کہ میری بیٹی نے انٹر کی ڈگری مکمل کر لی ہے آپ اِسے ایئر ہوسٹس کی ٹریننگ دیں۔ پہلے تو یہ شخص دینیات پر مبنی باتیں کرنے لگا پھر کہنے لگا میں تو انسانیت کی خدمت کر رہا ہوں اِدھر اُدھر کی باتیں کئ دن تک اس ماں بیٹی سے یہ شخص کرنے لگا ایک دن مجھے علم ہوا کہ اس شخص نے لڑکی کی اپلیکیشن قبول کرلی ہے اور اب یہ لڑکی اکیلی آیا کرتی ہے ۔ ایک دن میں اپنے معمول سے ہٹ کے لیٹ آفس آیا تھا میں نے دیکھا دروازہ کھلا تھا گریٹ ون بیٹھا ہوا تھا میں نے پوچھا آج بوس نہیں آئیں ہیں کہنا لگا آئیں ہے کام سے باہر گئے کچھ دیر بعد یہ شخص اس لڑکی کے ساتھ آ جاتے ہیں اور گریٹ ون کو کسی کام کی ذمہ داری دے کر باہر بھیج دیتے ہیں اور لڑکی کے ساتھ آفس سے متصل دوسری کمرے میں لے جاتے ہیں کچھ دیر تک باتیں کرتے ہیں لیکن مجھے وہ باتیں سمجھ نہیں آرہی تھی کیوں آواز بہت دھیمی آ رہی تھی اتنے میں وہ دھیمی آواز بھی بند ہو جاتی ہے آفس سے متصل والے کمرے میں جہاں یہ شخص اور لڑکی گئے ہیں ایک بڑی کھڑی لگی ہوئی تھی جس میں صاف شفاف شیشہ لگا ہوا تھا میں پانی لینے کے لیے جب باہر آیا تو میں نے شیشے سے دیکھا یہ شخص اس لڑکی کے ساتھ سکس کر رہا تھا ۔ ایک اور واقعہ سنئے اس شخص کا ایک دن ایک اور لڑکی آئی اس کو یہ شخص ایئر ہوسٹس کی ٹریننگ کی لالچ دیتا ہے اور پیمائش کے بہانے کمرے میں لے جاتا ہے اور اس کے حساس حصوں سے چھڑتا رہتا تھا اسی طرح کئی لڑکیوں کو میں نے دیکھا ان کی مجبوریوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس شخص نے اپنی حوس کا نشانہ بنایا ۔جب میں نے یہ سب دیکھا تو مجھ اس بات کا جواب مل گیا یہ شخص میگزین کیوں نکلتا ہے ایک تو یہ میگزین کے ذریعے لوگوں کو ڈراتا ہے اور اپنے ایئر ایویشن سے متعلق جو کام میں رکاوٹیں آتی ہے ان کو ہٹاتا ہے اور دونمبری کر کے لوگوں کو بیرون ملک بھیجتا ہے یعنی کہ میگزین کو ڈھال بنایا ہوا ہے۔ شہر کی پولیس سے بھی اس کے اچھے خاصے راوبط تھے پولیس فورس کے بڑے بڑے آفیسر بھی اس کے پاس آتے رہتے تھے ۔ اس شخص سے جڑے جو واقعات میں سنائے وہ یہاں ختم ہو گئے۔بے غیرت تھا انتہا کا خود غرض تھا اور حیوان تھا ۔
یقیناً آپ لوگوں کو میری تحریر کا موضوع سمجھ آ گیاہو گایار میں یہ سارے واقعات سنا کے یہ کہنا چاہ رہاہوں جب انسان خود غرض ہو جاتا ہے تو وہ اس میں حیوانیت آ جاتی ہے یہ شخص اپنی خود غرضی سے ظاہر طور پر انسان تھا لیکن اندر سے حیوان تھا ۔
اچھا اب کچھ سیاسی حیوانوں کی بات کرتے ہیں کل کی خبر تھی کہ وزیر اعظم عمران خان نے چینی اور آٹا بحران سے متعلق ایک تحقیق کروائی تھی جس میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ اس کےپارٹی کے کچھ بندے اور ان کے قریبی ساتھی جہانگیر ترین ماضی قریب میں چینی اور آٹا کے بحران میں ملوث ہیں۔مجھے یہ سن کے حیرت بھی ہوئی اور افسوس بھی ہوا ۔اچھا میں اپنی حیرت اور افسوس بتانے سے پہلے یہ بتا دوں جب چینی اور آٹا بحران پیدا ہوا تھا اس وقت ہم نے یہ خبریں سنی اور پڑھی تھی کہ حکومت نے خود شوگر مالکان کو سبسڈی دی تھی اوربر آمد کی اجازت بھی دی تھی ۔تاہم یہ آج اچانک کیا ہوا کہ اس کے اوپر تحقیقات ہو گئی اور اپنی ہی پارٹی کے اور اپنے ہی قریب ترین جناب جہانگیر ترین کو بھی اس میں ملوث قرار دیدیا گیا ۔یقیناً آپ کو بھی حیرت ہو گئی ہوگی میں نے اپنی حیرت کا اظہار تو پہلے ہی کر دیا ہے آپ کی حیرت کی کیا وجہ ہو سکتی ہے وہ آپ لوگ بہتر جانتے ہونگے میری حیرت یہ ہے کہ ایک انسان اپنی خود غرضی کے لیے اس حد تک جاسکتا ہے کہ وہ ایک جنگلی درندے کی طرح اپنے دائیں اور بائیں کے لوگوں کو کھا جائیں ۔جی ! میں عمران خان کو درندہ کہہ رہا ہوں یہ شخص انتہا کا خودغرض ہے اور اپنی خود غرضی کے لیے یہ اپنے ہی بنائیں اصولوں کو توڑتا ہے میں قرضہ نہیں لونگا خود کشی کرلونگا۔یاد تو ہوگا یہ بھی اس شخص کے نامور اصولوں میں سے ایک اصول ہے اچھا تو میں کہہ رہا تھا میں خود غرض انسان کو حیوان سمجھتا ہوں ۔یہ شہرت کا بھوکا حیوان عمران خان جب سے حکومت میں آیا ہے اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے ایسی ایسی حرکتیں کرتا رہتا ہے جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ وزیر اعظم بننے کے لائق نہیں تھا اور نہ ہی یہ ملک کے لیے ہمدردی رکھتا ہے اس شخص کو اگر کوئی فکر ہے تو وہ صرف اور صرف اپنی شہرت باقی رکھنے کی ہے ۔ اس شخص کے بارے میں آپ نے سنا تو ہوگا یہ شخص اپنی دو بیویوں کو طلاق دے چکا ہے اپنے بچوں کو بیرون ملک چھوڑ چکا ہے اور تو اور کسی کی بیوی سے طلاق دلوا کے اس کے ساتھ خود شادی کرچکا ہے ۔یار اتنی حیوانیت کے باوجود بھی کیا آپ اس شخص کو انسان مانتے ہیں میں تو نہیں مانتا ۔اب اس شخص کی حیوانیت کا شکار اپنی ہی پارٹی کے لوگ بن رہے ہیں ۔ اس شخص نے اپنی شہرت اور کرسی کو مضبوط کرنے، خود کو ایماندار ثابت کرنے اور لوگوں کے سامنے اپنی خود غرضی اور اپنی خواہشات چھپانے کے لیے یہ ڈرامہ کیا ہے اور لوگوں کے سامنے یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہا ہے دیکھو میں کتنا ایماندار ، اصول پرست اور قانون پرست ہوں میں اپنی صفوں میں موجود لوگوں کو بھی نہیں بخشتا ۔ اس حیوان کے اس ڈرامے سے شاید اب بھی ہمارے ملک کے معصوم عوام بے وقوف بن رہے ہونگے لیکن صاحب حقیقت یہ ہے کہ یہ شخص ملک کو چلا نہیں سکتا اس لیے یہ ڈرامے رچاتا رہتا ہے ان ڈراموں سے ان کو یہ فائدہ ہوتا ہے کہ ایک تو یہ لوگوں کو یہ باور کرواتا ہے کہ یہ انتہا کا ایماندار بندہ ہے اور ملک کے ساتھ مخلص ہے دوسرا یہ کہ لوگ اس کی ایمانداری کی پٹیاں اپنی آنکھوں میں باندھ لیتے ہیں اور لوگوں کو ان کی ایمانداری کے علاوہ کچھ نظر نہیں آتا اورلوگ اس کی ناکامیوں کو دیکھ نہیں سکتے اور اس کی ناکامیوں سے بے خبر ہو جاتے ہیں تیسری بات یہ کہ ایمانداری کے ڈرامے سے یہ اپنی جھوٹی شہرت کو بھی باقی رکھ رہا ہے۔اس نام نہاد وزیر اعظم عمران خان کی زندگی بری پڑی ہے اس طرح کی حیوانیت سے لیکن میں اپنا قلم روک رہاہوں کیونکہ میری تحریر لمبی ہو تی جا رہی ہے ۔
میں بس آخر میں یہ کہہ کر اپنی تحریر ختم کر رہا ہوں کہ انسانیت حیوانیت کی ترقی یافتہ صورت ہے اور حیوانیت کی اس ترقی یافتہ صورت اس وقت ختم ہوجاتی ہے جب انسان خود غرض بن جاتاہے اس لیے ہر انسان کے لیے ضروری ہے کہ انسان بننے کے لیے خود غرضی کو ترک کر لیں ہمارا دین بھی یہی کہتا ہے کہ جو اپنے لیے پسند کرووہی دوسروں کے لیے بھی پسند کرو۔

یہ بھی دیکھیں

غیر ملکی ڈرامے پاکستانی پروڈکشن کو تباہ کردیں گے، فواد چودھری

 پاکستان میں آج کل ترک ڈرامہ سیریل ارطغرل غازی کے خوب چرچے ہورہے ہیں تاہم …