بدھ , 2 دسمبر 2020

سینیٹائزرکے زیادہ استعمال کے جلد پرکیااثرات مرتب ہوسکتے ہیں؟

سینیٹائزر کا حد سے زیادہ استعمال الرجی کی وجہ بن گیا جس سے کہنیوں تک الرجی کی شکایات بڑھ رہی ہیں، آنکھوں میں جلن بھی ہوتی ہے جب کہ کچھ کو خشک خارش بھی رہنے لگی ہے۔ماہرین جلد کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس سے محفوظ رہنے کے لیے بیشتر لوگ سینیٹائزر کا استعمال کررہے ہیں، بعض لوگ تو چوبیس گھنٹے میں پندرہ پندرہ مرتبہ ہاتھوں کو سینیٹائزر لگاتے ہیں جس سے الرجی کی شکایات بڑہ رہی ہیں۔

ماہرین جلد کے مطابق سینیٹائزر میں الکوہل، سپرٹ اور دیگر جراثم کش مواد شامل ہوتے ہیں جس سے انگلیوں، ہاتھوں بلکہ کہنیوں تک الرجی کی شکایات بڑھ رہی ہیں، آنکھوں میں جلن بھی ہوتی ہے، کچھ کو خشک خارش بھی رہنے لگی ہے۔ماہرین جلد نے مشورہ دیا ہے کہ سینیٹائزر کا استعمال دن میں صرف دو سے تین مرتبہ کیا جائے ،پانچ چھ مرتبہ سادہ پانی سے ہاتھ منہ دھوئیں بالخصوص آنکھوں کو صاف رکھیں۔ پھر بھی الجھن محسوس ہو تو رات کو سونے سے پہلے سرسوں کا تیل لگائیں، الرجی، خشکی اور خارش سے نجات مل جائے گی۔

یہ بھی دیکھیں

برطانیہ کورونا ویکسین کو استعمال کرنے والا پہلا ملک بن گیا

برطانیہ نے بڑا قدم اٹھاتے ہوئے کرونا ویکسین کے وسیع پیمانے پر استعمال کی منظوری …