اتوار , 31 مئی 2020

کورونا وائرس اور امریکی زایونسٹ اتحاد

تحریر: محمد سلمان مہدی

یوں تو کورونا وائرس نے پوری دنیا کو لپیٹ میں لے کر کافی حد تک لپیٹ کر رکھ دیا ہے اور یہ بھی حقیقت ہے کہ کورونا وائرس میں مبتلا سب سے زیادہ مریض یونائٹڈ اسٹیٹس آف امریکا میں ہیں۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ اموات کے لحاظ سے تاحال اٹلی اور فرانس پوری دنیا سے آگے ہیں۔ گو کہ اس حوالے سے ایران کی صورتحال بھی کم پریشان کن نہیں، کیونکہ مریضوں کی تعداد کے لحاظ سے ابھی تک دنیا میں ساتویں نمبر پر اور اموات کے لحاظ سے چھٹے نمبر پر ایران متاثرہ ملک ہے۔ مگر کورونا وائرس کے بعد کی دنیا کو لاحق ایک اور خطرہ اس سے بھی زیادہ بڑا اور زیادہ پریشان کن ہے اور وہ خطرہ ہے امریکا اور زایونسٹ لابی کا اتحاد۔ یہاں امریکا سے مراد درحقیقت وہ اصل حکمران طبقہ ہے کہ جس کا صرف ایک چہرہ اور سہولت کار امریکی حکومت اور سرکاری ادارے ہیں۔ ورنہ اصل امریکا تو کارپوریٹوکریسی ہے۔ کورونا وائرس کے بعد اس امریکا و زایونسٹ اتحاد نے جس طریقے سے فائدے سمیٹے ہیں، اس وقت دنیا اس سے غافل دکھائی دیتی ہے۔ ورنہ کورونا وائرس ایفیکٹس کو دیکھیں تو اس اتحاد نے بین الاقوامی تجارتی جنگ میں چین کی ایسی کی تیسی کر دی۔ اس کی ساکھ کو بھی نقصان پہنچایا تو معیشت کو بھی نقصان پہنچایا۔

اسی طرح ایران کی صورتحال پر ایک نظر کریں۔ امریکا نے ایران پر اقتصادی پابندیاں برقرار رکھیں بلکہ نئی پابندیاں بھی لگا دیں۔ حتیٰ کہ ایران کی اقتصادی نسل کشی کے ساتھ ساتھ اب طبی دہشت گردی کی نئی تاریخ رقم کر دی۔ یعنی امریکی پابندیوں کی وجہ سے ایران دنیا کے کسی بھی ملک یا ادارے سے مطلوبہ طبی ساز و سامان بھی نہیں خرید سکتا۔ امریکی زایونسٹ سعودی اتحاد کے ادھار اور دباؤ کی وجہ سے پاکستان میں بھی ایران کا میڈیا ٹرائل کیا جاتا رہا۔ پہلی مرتبہ پاکستانی قوم نے دیکھا کہ کسی مرض کو غلط طور پر کسی ایک ملک اور کسی ایک مذہب، مسلک یا فرقے سے جوڑا جاتا رہا، حالانکہ کورونا وائرس ایران سے پہلے امریکا، اٹلی، جرمنی، اسپین، برطانیہ سمیت کئی ممالک میں پہلے ہی رپورٹ ہوچکا تھا۔

بات یہیں تک محدود نہیں رہی، بلکہ امریکی حکومت نے اپنی افواج کی عراق میں غیر قانونی فوجی موجودگی کو مطالبات کے بعد بھی ختم نہیں کیا اور اب فالس فلیگ آپریشن کے ذریعے عراق میں مزید حملوں کی تیاریوں میں مصروف ہے۔ کورونا وائرس کے بعد بھی امریکا عراق میں غیر قانونی فوجی موجودگی کو نئی شکل دے کر جاری رکھ رہا ہے۔ ایک ایسے وقت کہ ان امریکی فوجیوں کو ان کے اپنے ہم وطن افراد، اپنے خاندان کے پاس ان کی مدد کے لئے ہونا چاہیئے، وہ کارپوریٹوکریسی اور زایونسٹ لابی کی سہولت کار ٹرمپ حکومت کے احکامات کے تحت عراق میں موجود ہیں اور نہ صرف موجود ہیں بلکہ عراق کے غیرت مند بیٹوں کو ان کی اپنی سرزمین پر قتل کر رہے ہیں۔ ان میں نفرتیں پھیلا رہے ہیں۔ کورونا وائرس کے بعد کی تباہ کاریاں بھی ایسے سرکش عناصر کو سرکشی سے باز رکھنے میں ناکام ہیں۔

یہ سلسلہ عراق تک بھی محدود نہیں۔ لبنان کو دیکھ لیجیے۔ 1982ء سے 2000ء تک جنوبی لبنان پر 18 برس اسرائیل کا قبضہ رہا۔ اس دوران اسرائیل کی پراکسی کے طور پر کام کرنے والی ساؤتھ لبنان آرمی بھی لبنانیوں پر ظلم و ستم ڈھاتی رہی۔ درمیانی عرصے میں عامر فاخوری نام کا لبنانی نژاد امریکی ساؤتھ لبنان آرمی کے رکن کی حیثیت سے جنوبی لبنان کی خیام جیل کا نگران رہا۔ اس کی سرپرستی میں لبنانی قیدیوں پر ظلم و تشدد کیا جاتا رہا۔ بعد ازاں اسے لبنان کے سرکاری اداروں نے پکڑ لیا۔ اس پر مقدمہ چل رہا تھا۔ پچھلے ماہ امریکا نے جج پر دباؤ ڈال کر نہ صرف عامر فاخوری کی رہائی کے احکامات جاری کروائے بلکہ اسے امریکا بھی منتقل کر دیا۔ حالانکہ اس فیصلے کے خلاف اپیل ابھی ہونا باقی تھی اور قانونی تقاضوں کی تکمیل تک اسے مقدمے کا سامنا کرنا تھا۔ مگر امریکی حکومت نے لبنان کی خود مختاری پر ایک اور اعلانیہ حملہ کرکے لبنانیوں کے قاتل کو نہ صرف چھڑوا لیا بلکہ لبنان سے فرار بھی کروا دیا۔

لبنانیوں کے قاتل کی امریکا پہنچنے کی خبر امریکی وزیر خارجہ مائیکل پومپیو نے دی۔۔ لبنان کے عوام عامر فاخوری کو خائن اور جزار الخیام یعنی خیام کا قصائی کہتے ہیں، لبنانی نژاد امریکی شہری امریکا پہنچا دیا گیا۔ اس کے بعد لبنان کے عوام سڑکوں پر نکلے اور امریکی مداخلت کی مذمت کرتے ہوئے احتجاج کیا۔ انہوں نے لبنان کے عدالتی معاملات میں امریکی مداخلت کی مذمت کی۔ آج کل اسرائیل جنوبی لبنان میں مرجعیون کے علاقے ال وزانی میں میں لبنان کی جغرافیائی حدود اور خود مختاری کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے کھدائی کرکے مٹی کے ٹیلے بنا رہا ہے۔ غجر پر پہلے ہی اسرائیل کا قبضہ برقرار ہے۔ یعنی کورونا وائرس کے بعد بھی امریکی کارپوریٹوکریسی اور زایونسٹ لابی یہ کھیل جاری رکھے ہوئے ہے، بلکہ کورونا وائرس میں مبتلا دنیا کی موجودہ صورتحال کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے یہ سب ناممکن کام ممکن بنا رہی ہے۔  اسی دوران لبنان میں حزب اللہ کے ایک سرکردہ رکن علی محمد یونس کو بھی شہید کر دیا گیا۔

کورونا وائرس کے بعد کے مشرق وسطیٰ کی صورتحال پہلے سے زیادہ نازک ہے۔ یمن پر زایونسٹ اتحادی سعودی فوجی اتحاد کی بلاجواز جنگ بھی ختم نہیں ہوئی، بلکہ سعودی قیادت میں فوجی کوالیشن نے یمن کے مظلوم عرب مسلمانوں کی نسل کشی میں پہلے سے زیادہ شدت دکھائی ہے۔ کورونا وائرس میں مبتلا مسلمان اور عرب ممالک میں زایونسٹ لابی اور کارپوریٹوکریسی کے منظور نظر حکمران امریکی زایونسٹ ایجنڈا کی تکمیل زیادہ آسانی سے کرتے نظر آرہے ہیں، کیونکہ اس وقت پوری دنیا کو اپنی فکر لاحق ہے۔ ہر جگہ کورونا وائرس زیر بحث ہے مگر کارپوریٹوکریسی، زایونسٹ لابی اور ان کے منظور نظر حکمران بہت ہی چالاکی کے ساتھ میڈیا کی طاقت کو استعمال کرتے ہوئے فنڈڈ ایکٹیویسٹ اور زرخرید نام نہاد صحافیوں اور دانشوروں کے ذریعے پوری دنیا کے عوام کی توجہ ہٹانے میں کامیاب دکھائی دیتے ہیں۔ زیادہ تر اہم مسلمان اور عرب ممالک میں عوام کو ادیان، مذاہب، فرقوں اور رنگ و نسل کی بنیاد پر کج بحثی میں لگا کر مذکورہ بالا انسانیت دشمن اہداف حاصل کئے جا رہے ہیں۔

دنیا کے مظلوم و محروم مستضعف انسانوں کو ان دہری مشکلات اور مصائب سے نکالنے کے لئے انسانیت کا درد رکھنے والے خالص اور مخلص انسانوں کو بیک وقت کئی محاذوں پر اپنی صفیں درست کرنے کی ضرورت ہے۔ اس منظم صف بندی میں جھوٹ پر مبنی پروپیگنڈا کے مقابلے میں سچ پر مبنی معلومات کے ذریعے دشمن کو ناکام بنانا ایک اہم کام ہے۔ امدادی سرگرمیوں کی اہمیت سے انکار نہیں، اس محاذ پر بھی منظم طریقے سے بلاتعطل سرگرمیاں جاری رکھیں جائیں، مگر پروپیگنڈا کی جنگ کا محاذ بھی خالی نہ چھوڑا جائے۔ انسانیت کے ماتھے پر کلنک کا ٹیکہ کارپوریٹوکریسی اور زایونسٹ لابی، اس کی سہولت کار امریکی حکومت، ادارے اور مسلمان و عرب ممالک میں ان کے سہولت کاروں کو بے نقاب کئے بغیر کورونا وائرس میں مبتلا دنیا کی نجات ممکن نہیں۔

بشکریہ اسلام ٹائمز

یہ بھی دیکھیں

صحت کے مسائل اور آنے والا بجٹ

تحریر:عمار مسعود دنیا بھر میں جاری اقتصادی بحران کے سبب تمام ہی حکومتیں سخت معاشی …