بدھ , 27 مئی 2020

کچن ،کھانا اورانصاف

تحریر:سعد اللہ جان برق

آج کل ہم بڑے خوش ہیں، یوں کہیے کہ ہرطرف دودھ اورشہد کی نہریں رواں ہیں،انصاف توپہلے ہی اپنی دہلیز پر تھا، اب ’’کھان پان‘‘بھی اپنے ’’کچن‘‘ تک پہنچنے کی خبریں آرہی ہیں،اندھے کو اورکیاچاہیے دوآنکھیں۔ دہلیز پر انصاف اورکچن میں خوراک ۔

سب کچھ خدا سے مانگ لیاتجھ کو مانگ کر

اٹھتے نہیں ہاتھ مرے اس دعا کے بعد
بلکہ ’’مستجاب دعا‘‘ کے بعد وزیراعظم نے اعلان کیاہے کہ عوام کو ریلیف دینے کے لیے کچھ بھی کرنا پڑے ہم کریں گے ،جن گھرانوں میں خریدنے کی سکت نہیں،حکومت انھیں راشن دے گی،بنیادی اشیاء عام آدمی کے کچن تک پہنچائیں گے، اب آپ ہی کہیں کہ ہم اس میں بھی خوش نہیں ہوںگے تو کیا ہوں گے۔

ہم خود توان دنوں گھر سے زیادہ باہرنکل نہیں رہے ہیں کیوں کہ اتنا حوصلہ ہی نہیں رہا ہے کہ باہرکی خوشیوں سے کہیں شادی مرگ نہ ہوجائے خصوصاً شہر پشاور تو بالکل بھی نہیں جاتے اس لیے کہ اس کے بے پناہ حسن وخوبی کو دیکھ کرکہیں ’’وہیں‘‘ کے نہ ہوجائیں ۔ایک مرتبہ تو ایسا ہواتھا کہ ہم نے وہیں پر رہنے کا ارادہ کیالیکن پھررشتے دار اوردوست زبردستی کھینچ کھانچ کرلے آئے۔

اورپھر جب اپنے ہی گھر میںسب کچھ میسر ہوجائے تو ضرورت بھی کیاہے،انصاف دہلیز پر، خوراک کچن میں، کارڈجیب میں،گوانگلیاں گھی اور سرکڑاہی میں، لیکن خبریں تو سنتے ہیں جو اخباروں میں آتی ہیں، چینلوں میں گونجتی ہیں اوربیانوں میں دہراتی ہیں اوریہ سب کے سب نہایت ہی سچے باوثوق اوربااعتماد ہیں بلکہ جھوٹ بولنا ان کو آتاہی نہیں اس لیے یقیناً وہی ہورہاہوگا جو یہ کہتے ہیں۔ہمیں اب کرنا صرف اتنا ہے کہ گھر میں ایک عددکچن بنا لیں جس طرح پہلے انصاف کے لیے ’’دہلیز‘‘ بنائی تھی کیوںکہ ہمارا تو نہ دروازہ نہ دہلیز تو انصاف کو کہاں بٹھاتے۔ بہرحال وہ تو ہوگیا ،کسی نہ کسی طرح ہم نے اپنے ’’خانہ بے دروازہ‘‘ میں دہلیزبنائی۔

مانع وحشت خوامی ہائے مجنون کون ہے

خانہ مجنون صحرا’’گردبے دروازہ ‘‘تھا

خانہ مجنون کے گرد بے دروازہ میں دہلیز تو بن چکی، اب کچن ؟ کیوں کہ اپنے ہاں تو صرف ’’چولہا‘‘ہے جسے کچن بنانا پڑے گا۔ اگر کچن نہیں ہوگا تو حکومت راشن کیا پہنچائے گی ،کچن ہوگا تو راشن آئے گا۔کھیت ہوگا تو بارش برسے گی۔ اوراگر ہمارا کھیت نہیں ہوگا تو کسی اورکھیت میں جاکرجل تھل کردے گی۔

سنا ہے رات بھر برسا ہے بادل

پر اپنا کھیت تو پیاسا رہا ہے

ہاں البتہ ایک صورت اورہوسکتی ہے کہ گھر میںبچے بھوک سے روررہے ہوں،ماں نے چولہے پرہانڈی چڑھائی ہو اوراس میں خالی پانی پکارہی ہو اورراستے سے ’’کوئی‘‘ گزرتے ہوئے یہ سب کچھ دیکھ سن لے اور پھر جا کربیت المال سے راشن لاکر اس گھر میں ڈال دے۔ کیوں کہ ریاست مدینہ بھی ہے ۔باخبر رہنے والے بھی ہیں اور…

بھوکے بچوں کی تسلی کے لیے

ماں نے پھر پانی پکایا دیر تک

بہرحال باقی تو سب کچھ ٹھیک ہوگیاہے، شاید راشن لانے والے بیت المال سے چل بھی پڑے ہوں، ہمیں صرف کچن بنانا ہے ۔کہ کہیں وہ کچن نہ دیکھ کرویسے ہی چلے جائیں،ویسے اتنی تشویش کی بات یہ بھی نہیں ہے، ان ہی خبروں اخباروں اوبیانوں سے پتہ چلا ہے جو کبھی جھوٹ نہیں بولتے اورجو بھی بولتے ہیں بالکل سچ بولتے ہیں کہ لنگرخانوں ،دارالکفالوں اورمفت کے کھانوں کابھی انتظام ہے ۔جاؤاورجی بھر کر کھاکے آؤ یاوہی پر رہو، پھر کھاؤ پھر پڑرہو۔ کوئی مشکل نہیںکوئی تکلیف نہیںکوئی کمی نہیں۔بلکہ اگر کوئی کسی وجہ سے جابھی نہیں سکتا تو اس کابھی انتظام ہوسکتاہے ۔نظیرپہلے ہی سے موجود ہے کہ ایک شخص نے اخبارمیں اشتہار دیاکہ ضرورت ہے، ایک ایسے نوکر کی جو صرف کھانے کے عوض ملازمت کرے۔

ایک ہم جیسا بے کچن ضرورت مند پہنچ گیا، اس شخص نے پوچھا۔تو تم صرف دووقت کے کھانے پر کام کرنے کو تیارہو؟ امیدوار نے کہا ،جی ہاں، لیکن مجھے کام کیا کرنا ہوگا،مالک نے کہا کچھ بھی نہیں بس تمہیں دووقت فلاں مزارکے لنگرخانے سے اپنے لیے اور میرے لیے کھانالاناہوگا۔

دیکھا جائے ،پھر سوچاجائے اورپھر انصاف کیا جائے تو اس ساری بحث وتمحیص کا نکتہ مرکز ’’کھانا‘‘ ہے یعنی ’’کھانا‘‘ ہی حقیقت ہے باقی سب مایاہے ،دہلیز کچن ہانڈی چولہا، راشن ان سب کاحاصل حصول صرف ’’کھانا‘‘ ہے اوریہ کسی بھی لغت میں نہیں لکھاہے کہ ’’کھانے‘‘ کا کوئی اورمطلب بھی ہوتاہے، کھانا صرف کھانا ہوتاہے جو پیا جاتاہے نہ سونگھا جاتاہے نہ چھواجاتاہے نہ سنا جاتا ہے نہ بولا جاتاہے۔صرف اورصرف کھایاجاتاہے اورجو کچھ کھایاجاتاہے وہی ’’کھانا‘‘ہوتاہے وضاحت کوئی نہیں کہ ’’کیا‘‘؟ یا کیاکیاکھانا۔۔ چنانچہ دھکے، دھوکے، لاتیں گھونسے تھپڑ سب کے سب کھانے کے آئٹم ہیں کیوں کہ یہ سب کھائے جاتے ہیں ،پیئے یاسونگھے نہیں جاتے اورجب کھائے جاتے ہیں تو ’’کھانا‘‘ہوئے یا نہیں ؟ کسی بھی منطق دلیل اورصحبت سے آپ اسے غلط نہیں،ٹھہراسکتے کہ کھاناوہ ہوتاہے جو کھایاجاتاہے اورجو کھایاجاتاہے وہ کھانا ہوتاہے،سمجھ میں یقیناً آگیا ہوگا، اگرنہیں آیاہے تو پھر سنئے کہ کھانا وہ ۔وہ کھانا۔ یعنی کھانا ہی کھانا۔یہی اصول انصاف کابھی ہے جو نصف نصف ہوچاہے۔ کچھ بھی ہو،کسی طرح بھی نصف نصف کیاگیاہو۔یہ نصف ہویاوہ نصف ہو،دونوں ہی نصف نصف ہیں اور اس کانام انصاف ہے اورکھانے کے ساتھ بھی انصاف ہی کیاجاتاہے۔

بشکریہ ایکسپریس

 

یہ بھی دیکھیں

پاراچنار، عظیم الشان عالمی القدس ریلی

رپورٹ: ایس این حسینی قدس جلوس 2020ء طرح طرح کی دھمکیوں نیز حکومت کی جانب …