اتوار , 31 مئی 2020

کچھ تو بدلنا چاہیے

تحریر: ایاز امیر

جب اس بیماری کی وجہ سے پوری دنیا ہل چکی ہے تو ہم انسانوں کے عمومی رویوں میں کچھ تو تبدیلی آنی چاہیے۔ روزمرّہ کی زندگی پہ بندش کی وجہ سے شہروں میں ٹریفک اتنی کم ہو گئی ہے کہ اب سڑکوں پہ بہ آسانی نکلا جا سکتا ہے۔ گئے زمانوں میں شام کو میں چہل قدمی باقاعدگی سے کرتا تھا۔ پھر شہروں میں بھیڑ بڑھنے کی وجہ سے اس معمول کو برقرار رکھنا مشکل ہو گیا۔ چکوال ہوتا تو اپنے کوٹھے پہ ہی کچھ وقت کے لئے چہل قدمی کر لیتا۔ جب سے کورونا آیا ہے سیر کا پرانا معمول پھر سے اپنا لیا ہے۔

حیرانی البتہ اس بات پہ ہوتی ہے کہ شہر میں اور قریب کے مضافات میں گندگی کا عالم وہی ہے جو پہلے ہوا کرتا تھا۔ شاپروں کے ڈھیر، نالیاں گندگی سے بھری ہوئی اور جہاں کہیں تھوڑی ڈھلوان ہو وہاں گندا پانی۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ جس ریلیف پیکیج کا اعلان حکومت کر رہی ہے اُس کا کچھ حصہ چھوٹے شہروں تک پہنچتا اور صفائی پہ لگا دیا جاتا۔ میونسپل کمیٹیوں کے پاس صفائی کے لئے محدود تعداد میں ورکرز ہوتے ہیں لیکن ایمرجنسی طور پہ دیہاڑی پہ مزدور لگائے جا سکتے تھے، شہروں اور دیہات سے گندگی کے ڈھیر اُٹھانے کی غرض سے۔ بیماری نے اپنا وقت لینا ہے لیکن کتنا اچھا ہوتا کہ بیماری کے خلاف جنگ کے ساتھ ساتھ شہروں اور دیہات میں صفائی تھوڑی نمایاں ہو جاتی۔

جہاں لوگوں کو ہاتھ دھونے اور دوسروں سے فاصلہ رکھنے کی تلقین ہو رہی ہے وہاں یہ بھی کہا جا سکتا تھا کہ آس پاس کی صفائی کا خیال رکھا جائے۔ ایسا کچھ نہیں ہوا۔ جہاں گندگی کے ڈھیر پڑے ہیں اُنہیں کوئی چھیڑ نہیں رہا۔ ایسی تلقین کا کام صوبائی حکومتوں کا ہے۔ ٹھیک ہے، پہلی ترجیح کورونا وائرس کے حوالے سے اقدامات کی ہے لیکن مجموعی صفائی پہ بھی دھیان نہیں دیا جا سکتا؟

صفائی کے ساتھ یہاں ماحولیاتی آلودگی کا بھی مسئلہ ہے۔ ٹریفک کی بندش سے ماحولیاتی آلودگی بہت کم ہو گئی ہے۔ ہر کسی نے اس بات کا مشاہدہ کیا ہے کہ آسمان صاف نظر آتا ہے، رات کو تارے کچھ زیادہ جگمگا رہے ہوتے ہیں۔ جب وبا پہ کنٹرول پا لیا جائے تب بھی خیال ہونا چاہیے کہ شہروں میں بے دریغ ٹریفک کو کس طریقے سے کم کیا جائے۔ پاکستان میں جو ماڈل چل رہا ہے کہ ہر سال سڑکوں پہ دھڑا دھڑ مزید کاریں آئیں یہ تو سسٹین ایبل (sustainable) نہیں ہے۔ یہ بیماری جہاں وسیع پیمانے پہ تکلیف پہنچا رہی ہے وہاں انسانیت کو کچھ سبق بھی دے رہی ہے۔

سب سے بڑا سبق تو یہ ہے کہ دنیا کا موجودہ معاشی ماڈل سسٹین ایبل نہیں ہے۔ اس طرزِ ترقی کی متحمل زمین ہو نہیں سکتی۔ ہم انسانوں نے دنیا کے موسم بدل ڈالے ہیں۔ کلائمیٹ چینج ایک آفت کے طور پہ آسمانوں سے نہیں آئی۔ یہ ہماری پیدا کردہ ہے۔ جب وبا کی شدت تھم جائے تو موجودہ طرزِ ترقی میں کچھ تبدیلی کا سوچا جائے۔

فہرست تو بہت لمبی ہے لیکن چند مثالیں بے جا نہ ہوں گی۔ اس شوگر سکینڈل کو لے لیجیے۔ گنے کی فصل ایسی ہے کہ وہ پانی پیتی ہے۔ پانی کے بغیر وہ تیار نہیں ہو سکتی۔ ہمارے ملک میں وافر پانی نہیں ہے۔ ہمیں تو ایسی فصلیں اُگانی نہیں چاہئیں جو زیادہ پانی مانگتی ہوں۔ بس ہم اتنی چینی پیدا کریں جو ہماری ملکی ضرورت کے مطابق ہو۔ یہ شوگر کے بڑے بڑے سیٹھ کہاں سے آ گئے؟ یہ تو ایک سیاسی چال تھی کہ جو سیاست میں آیا اُس نے شوگر مل لگانے کی سوچی کیونکہ پیسہ کمانے کا یہ ایک آسان طریقہ تھا۔

شوگر ملوں پہ ہی اکتفا نہ کیا گیا، کیونکہ اس میں بڑے بڑے لوگ شامل تھے تو شوگر انڈسٹری کو بے جا مراعات کا حق دار بھی سمجھا گیا۔ شوگر مل والے گنے کے کاشتکاروں کے ساتھ زیادتی کریں اور اُنہیں ذلیل کریں، کوئی پوچھنے والا نہیں۔ حکومتوں کا جھکاؤ بھی شوگر مل والوں کی طرف۔ ضلعی انتظامیہ بھی اُنہی کی طرف دار۔ مراعات بھی ملیں ان بڑے مگرمچھوں کو۔ یہ کہاں کا انصاف ہے؟

سیمنٹ انڈسٹری کو لے لیجیے۔ سیمنٹ ترقی کے لئے ضروری ہے، اس میں کوئی دو رائے نہیں۔ لیکن یہ بات بھی ذہن نشین ہو کہ سیمنٹ کی پیداوار سے ماحولیات پہ نہایت بُرا اثر پڑتا ہے۔ تین اجزا سیمنٹ کی پروڈکشن کے لئے ضروری ہیں : مٹی، پانی اور لائم سٹون۔ پانی اتنا استعمال ہوتا ہے کہ جس جگہ سیمنٹ فیکٹری لگے وہاں پانی کی سطح بہت گر جاتی ہے۔ جن پہاڑوں سے لائم سٹون نکالا جائے وہ تا قیامت کسی اور کام کے لئے بیکار ہو جاتے ہیں۔ درخت اورگھاس واپس اُگ آتے ہیں لائم سٹون دوبارہ نہیں بنتا۔ زمین کی تباہی دیکھنی ہو تو اُن جگہوں کا معائنہ کیا جائے جہاں سے لائم سٹون نکالا جاتا ہے۔

ماڈرن کنسٹرکشن البتہ سیمنٹ کے بغیر نہیں ہو سکتی۔ اس لئے کچھ نہ کچھ سیمنٹ تو تیار ہونا ہے۔ لیکن اتنا ہی تیار ہو جتنا قومی مانگ کے لئے ضروری ہو۔ یعنی ہمیں سیمنٹ میں خود کفیل ہونا چاہیے باہر سے نہ منگوانا پڑے، لیکن اتنا سیمنٹ بھی نہ بنے جو قومی ضرورت سے زیادہ ہو۔ سیمنٹ کی برآمد گھاٹے کا سودا ہے کیونکہ آپ اور ملکوں کے لئے سیمنٹ اپنی ماحولیاتی آلودگی کے عوض تیار کرتے ہیں۔ کابل اور افغانستان جو ہمارا سیمنٹ جا رہا ہے اُس سے پاکستانی سرزمین تباہ ہو رہی ہے، لیکن سیمنٹ کے جو سیٹھ ہیں اُن کا جگر ٹھنڈا نہیں ہوتا۔

ہم ضرورت سے زیادہ سیمنٹ تیار کر رہے ہیں لیکن سیٹھوں کی ایک لمبی لائن ہے جو نئے سیمنٹ پلانٹ لگانا چاہتے ہیں۔ اس بارے میں کسی نے سوچا؟ سیمنٹ کے بارے میں کوئی قومی پالیسی ہے؟ نئے سیمنٹ پلانٹوں کے لئے درجن بھر سے زیادہ درخواستیں پنجاب میں پڑی ہوئی ہیں۔ یہ کہنا آسان ہے کہ ترقی کا معاملہ ہے، نئی انڈسٹری لگنی چاہیے، لیکن سوچنا چاہیے کہ کن انڈسٹریز کو ترجیح دی جائے اور کن پہ تھوڑا کنٹرول کی ضرورت ہے۔

فیکٹریوں سے پیدا شدہ آلودگی کا تو میں نے ذکر ہی نہیں کیا حالانکہ وہ بھی بہت بڑا مسئلہ ہے۔ ایک بڑی سیمنٹ فیکٹری جو چوآ سیدنشاہ کے علاقے میں ہے وہ گاؤں تترال کہون سے بالکل متصل ہے۔ وہاں کے مکینوں کا کیا حال ہو گا جب روزانہ کی بنیاد پہ سیمنٹ کے ذرّے اُن کے پھیپھڑوں میں جاتے ہیں۔ گاؤں دوالمیال اس فیکٹری کے بالکل سامنے ہے۔ اس کا بھی یہی حال ہے۔ مطلب یہ سیمنٹ ضرور تیار ہونا چاہیے لیکن ایکسپورٹ کے لئے نہیں صرف اندورنی ضرورت کے لئے۔

موٹر ویز کی وجہ سے معیار کی بسوں پہ سفر کا رجحان بڑھا ہے۔ اسلام آباد سے لاہور کا سفر بذریعہ موٹروے بہت آسان ہو گیا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر عمدہ بسیں موٹرویز پہ چل سکتی ہیں تو اُن کا استعمال شہروں میں کیوں نہیں ہوسکتا؟ لاہور، راولپنڈی اور ملتان کو میٹروبسوں کی ضرورت نہ تھی۔ ان پہ تو قومی پیسہ برباد ہواہے۔ ضرورت ان شہروں میں عمدہ بسوں کی تھی۔ لیکن جو ہوا سو ہوا، جب یہ بیماری کم ہو پھر تو ٹرانسپورٹ کے بارے میں مثبت سوچ پیدا ہونی چاہیے۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ بڑے شہروں میں موٹرکاروں کا استعمال کم سے کم ہو، زیادہ تکیہ پبلک ٹرانسپورٹ پہ کیا جائے۔

لندن جیسے شہر میں موٹرکار کو اندرون شہر لے جانا مصیبت مول لینے کے مترادف ہے۔ پبلک ٹرانسپورٹ زیادہ استعمال ہوتی ہے۔ یہاں پہ ہم نے دو فرلانگ بھی جانا ہو تو موٹرکار پہ جاتے ہیں۔ زندگی مکمل نہیں سمجھی جاتی جب تک ایک عدد موٹرکار استعمال میں نہ ہو۔ اس روّیے میں کچھ تبدیلی آنی چاہیے

ہسپتالوں کی اہمیت کا بھی قوم اور حکومتوں کو کچھ پتہ چل گیا ہو گا۔ اس وبا کے حوالے سے سارا بوجھ سرکاری ہسپتال اوراُن کاسٹاف برداشت کررہے ہیں۔ انگلستان میں نجی ہسپتال نہیں نیشنل ہیلتھ سروس اس آڑے وقت میں کام آرہی ہے۔ ہمارے ہاں بھی صحت کے قومی اداروں کو زیادہ توجہ کا مستحق سمجھنا چاہیے۔ صحت ثانوی کی بجائے اولین قومی ترجیح ہونی چاہیے۔

بہت ساری چیزوں کا از سرِ نو جائزہ لینا پڑے گا۔ قومی دفاع کی کیا ترجیحات ہونی چاہئیں؟ یہ نکتہ بھی ایک نئی سوچ کا تقاضا کرتا ہے۔ اس بیماری اور اس کے اثرات سے ہم کچھ نہ سیکھیں تو یہ بہت ہی افسوسناک امر ہو گا۔

بشکریہ روزنامہ دنیا

یہ بھی دیکھیں

صحت کے مسائل اور آنے والا بجٹ

تحریر:عمار مسعود دنیا بھر میں جاری اقتصادی بحران کے سبب تمام ہی حکومتیں سخت معاشی …