جمعہ , 19 اکتوبر 2018

5 امریکی غلطیاں جن کے نتائج سے نمٹنے کیلئے دنیا مجبور

0,,16628976_303,00

تسنیم خیالی
برطانیہ کا 2003 میں عراق پر امریکی جارحیت میں شرکت کرنے کے اسباب پر غور کرنے کے لئے قائم کردہ انکوائری کمیٹی تا حال اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ عراق پر جارحیت ایک غلطی تھی جس کا خمیازہ تا حال دنیا بھگت رہی ہے، جبکہ تجزیہ نگاروں کا ماننا ہے کہ ایسی 4 اور غلطیاں ہیں جن کا خمیازہ دنیا بھگت رہی ہے،جس کے نتائج سے نمٹنے کے لئے بھی مجبور ہو چکی ہے اور یہ پانچوں غلطیاں امریکہ کا کیا دہرا ہے،عراق پر جارحیت کے علاوہ نیٹو کی توسیع تجزیہ نگاروں کے مطابق ایک بہت بڑی امریکی غلطی تھی اس توسیع میں نیٹو روس کے ساتھ والے ممالک کو اپنی تنظیم میں شامل کر لیا تھا جس کی وجہ سے یورپ میںنہ صرف کشیدگی بڑھی بلکہ یورپ کو لاحق ممکنہ خطرات میں بھی کوئی کمی واقع نہ ہوسکی،11/9 کے بعد افغانستان پر جارحیت بھی امریکہ کی ان غلطیوں میں سے ایک ہے،امریکہ کی افغانستان میں جنگ امریکی تاریخ کی سب سے لمبی جنگ ہے،جس میں وہ اس جارحیت کے اہداف کو بھی حاصل کرنے میں ناکام رہا اور یہ ہدف جن میں اہم ترین ہدف طالبان کی شکست تھی،یاد رہے کہ 2014 میں جب امریکی اور نیٹو فورسز کا افغانستان سے انخلا شروع ہوا تب طالبان کا افغانستان کے 70 فیصد رقبے پر قبضہ تھا،لیبیاکے سابق صدر کرنیل معمر قذافی کی حکومت کا خاتمہ بھی ان پانچ غلطیوں میں سے ایک ہے ،امریکہ اور اس کے اتحادی لیبیا میں قذافی مخالف فورسز کی بھر پور مدد کرتے رہے فورسز پر فضائی کارروائیاں بھی کیں اور بالآخر معمر القذافی اپنے مخالفین کے ہاتھوں مارے گئے،اس سب کا نتیجہ یہ نکلا کہ لیبیا میں حالات پھر کبھی ٹھیک نہ ہوسکے اور عراق کی طرح وہاں بھی داعش مضبوط طاقت بن کر ابھر آئی ،ایک اور غلطی شام کے صدر بشار الاسد کے خلاف سازشوں اور ان کی حکومت کو ختم کرنے کی کوشش بھی ہے جو تاحال جاری ہے جس میں امریکہ شام میں بشارالاسد کے خلاف برسر پیکار دہشت گردتنظیموں کی بھر پور مدد اور معاونت کرر ہا ہے، تاکہ بشارالاسد کی حکومت کا خاتمہ کیا جاسکے اور اگر خدانخواستہ امریکہ اپنے اس مقصد میں کامیاب ہوجاتا ہے تو ایک اور لیبیا معرض وجود میں آجائے گا،جو کہ سارے خطے کے لئے ایک بہت بڑا خطرہ ثابت ہوگا۔

یہ بھی دیکھیں

خاشقجی کے قتل کے انتظامات کس نے کیے؟

(تسنیم خیالی) آہستہ آہستہ اور انتہائی سست روی سے سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل ...