بدھ , 27 مئی 2020

کورونا کا پھیلاؤ، ڈاکٹروں کا دمہ کے مریضوں کو مشورہ

دمہ کے مریضوں کی عام حالت کورونا کی علامات سے مختلف نہیں، کھانسی اور سانس لینے میں دشواری کا سامنا دمہ کے مریضوں کو ہر وقت ہی رہتا ہے، ایسے می ماہرین صحت نے دمہ کے مریضوں کو خصوصی احتیاط کرنے اور بلا ناغہ دوا استعمال کرنے کا مشورہ دیا ہے۔سڈنی سے تعلق رکھنے والے پھیپھڑوں کے امراض کے ماہر ڈاکٹر برائن اولیور کا کہنا ہے کہ دمے کے مریضوں کے لیے کورونا کی تشخیص کے حوالے سے کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا، تاہم انہوں نے مشورہ دیا کہ ایسے لوگ جو سانس کی بیماری میں مبتلا ہیں وہ لوگوں سے ملنے جلنے سے پرہیز کریں، اگر کوئی دوائی زیر استعمال ہے تو اسے بلا ناغہ جاری رکھیں۔عالمی ادارہ صحت نے بھی اس سے قبل امراض قلب، ذیابیطس، سانس کی بیماریوں میں مبتلا افراد کے کورونا سے متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا تھا۔سڈنی کی یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی کے پروفیسر برائن اولیور کا کہنا ہے کہ ’کرونک آبسٹرکٹو پلمونری ڈیسیز‘ (سی او پی ڈی) کے نام سے جانی جانے والی بیماری کے کورونا کے خاتمے پر تیزی سے بڑھنے کے خدشات ہیں، اس کی علامات میں بھی سانس لینے میں دشواری شامل ہے ، اس بیماری میں مریض کے پھیپڑوں میں ہوا کے دباؤکو کمی کا سامنا ہوگا۔دمے کے مریضوں میں کورونا کی تشخیص کے حوالے سے ڈاکٹر برائن نے کہا کہ اگر دمے میں مبتلا شخص کو اس کی زیر استعمال دوائیوں سے کوئی فرق محسوس نہیں ہورہا تو فوراً ہی اپنا کورونا کی تشخیص کا ٹیسٹ کروائے تاکہ ابتدائی علامات میں ہی علاج ممکن ہوسکے۔

یہ بھی دیکھیں

کورونا وائرس کو ختم کرنے والے ماسک پر تحقیق کا آغاز

کینٹکی: چند روز قبل ایم آئی ٹی اور ہارورڈ یونیورسٹی کے ماہرین نے ایسے ماسک …