بدھ , 27 مئی 2020

کیا انسانوں کی بیداری کیلئے یہ ایک جھٹکا ہی کافی ہے؟

تحریر: ثاقب اکبر

کرونا کا جھٹکا اگرچہ ابھی جاری ہے اور یہ نہیں کہا جاسکتا کہ ابھی مزید کتنا عرصہ اور کس قوت سے جاری رہے گا۔ تاہم اب تک جو حقائق سامنے آئے ہیں، ان کی بنیاد پر کچھ مستقبل کا اندازہ کیا جاسکتا ہے، نیز یہ سوال بھی کیا جاسکتا ہے کہ کیا انسانوں کی بیداری کے لیے یہ ایک جھٹکا ہی کافی ہوگا یا نہیں؟ اس میں کوئی شک نہیں کہ کرونا نے دنیا کے بنے ہوئے باطل استبدادی اور طاغوتی نظام کو ایک مرتبہ تو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد جو ورلڈ آرڈر امریکا کی سپر میسی میں بڑی طاقتوں نے قائم کیا تھا، وہ بہت کمزور ثابت ہوا ہے۔ آج سب سے زیادہ لرزہ براندام خود امریکا ہی دکھائی دے رہا ہے۔ سرحدیں بے معنی ہوگئی ہیں، قوموں کی تقسیم مٹ گئی ہے، مذاہب اور ادیان کی بنیاد پر انسانوں کی تفریق بھی پادر ہوا ہوگئی ہے۔ کرونا نے جرنیلوں، سیاستدانوں، حکمرانوں، علماء، مشائخ، ڈاکٹروں اور عام لوگوں میں سے کسی کو پرکاہ کی اہمیت نہیں دی۔ مشرق و مغرب اور شمال و جنوب سب کرونا کے ہاتھوں بے حال دکھائی دیتے ہیں۔ گورے اور کالے، سب کے ساتھ کرونا ایک طرح سے برتائو کر رہا ہے۔ البتہ بعض کو بعض پر بوجوہ فوقیت حاصل ہے۔

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق امریکا میں اموات کی رفتار تمام ملکوں کی نسبت تیز ہوگئی ہے۔ کرونا وائرس کے شکار لوگ بھی امریکا میں دیگر تمام ممالک کی نسبت بڑھ گئے ہیں۔ امریکی پینٹاگون نے ہدایات جاری کی ہیں کہ فوجی اہلکاروں کے ساتھ کرونا کے سلوک کی کوئی خبر نشر نہ کی جائے۔ امریکی صدر پاگل پن کے مظاہرے پر اتر آئے ہیں، ان کی دماغی صحت پر ویسے تو پہلے روز سے ہی سوالات اٹھ رہے ہیں، لیکن اس وقت وہ بالکل بائولے معلوم ہو رہے ہیں۔ وہ اپنے قریب ترین دوستوں کو دھمکیاں دے رہے ہیں۔ وہ اپنے اتحادیوں کی لوٹ مار پر کمر بستہ ہیں، انہوں نے یو این او کے اہم ترین اداروں کے خلاف اقدامات شروع کر دیئے ہیں۔ امریکا نے جرمنی اور کینیڈا کے طبعی وسائل لوٹنے میں کوئی شرم محسوس نہیں کی۔ صدر ٹرمپ نے کرونا کی دوا کے لیے اپنے یار غار مودی کو بھی دھمکی دے ڈالی ہے اور اب مختلف حیلوں بہانوں سے انہوں نے ڈبلیو ایچ او کو دی جانے والی امداد روک دینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ یہ سلسلہ آگے بڑھتا رہا تو ہوسکتا ہے کہ امریکا جو اقوام متحدہ کو سب سے زیادہ امداد دینے والا ملک ہے اور جس کی وجہ سے وہ اقوام متحدہ میں زیادہ اثر و رسوخ بھی رکھتا ہے، اس کی سرپرستی سے ہاتھ اٹھا لے، جس دن امریکا نے یہ فیصلہ کیا، اس دن موجودہ عالمی نظام کے گویا سرکاری طور پر خاتمے کا اعلان ہو جائے گا۔

ایک طرف نیویارک میں لاشیں اٹھانے اور دفنانے کا نظام ناکارہ ہوگیا ہے تو دوسری طرف امریکی عوام اسلحہ خرید رہے ہیں، کسی وقت بھی ملک کے اندر لوٹ مار اور خانہ جنگی کی کیفیت پیدا ہوسکتی ہے، ایسے میں کئی امریکی ریاستوں میں علیحدگی کی تحریکیں پہلے کی نسبت زیادہ زور و شور سے سر اٹھانے لگی ہیں۔ آج تک جس کا دعویٰ تھا کہ أَنَا رَبُّكُمُ الْأَعْلَىٰ۔۔۔ وہ دوسروں کی گداگری کرنے لگا ہے۔ اس امر کا امکان موجود ہے کہ پوری دنیا میں پھیلی ہوئی امریکا کی فوجی مشینری کو واپس بلانا پڑے۔ یہ مشینری امریکا کے عالمی اقتدار کی علامت ہے، لیکن یہ سب کچھ چھوٹے بڑے ملکوں کے وسائل لوٹنے اور امریکی دھونس کو قائم رکھنے کے لیے ہے۔ وہ ممالک جن کے وسائل ہتھیانے کے لیے امریکا کے بحری بیڑے اور فوجی اڈے مختلف علاقوں میں موجود ہیں، وہاں اب حکومتیں اور ریاستیں بھتہ دینے کی پوزیشن میں نہیں رہیں اور ان تمام بحری بیڑوں اور فوجی اڈوں کے اخراجات اٹھانے کی امریکی معیشت متحمل نہیں ہوسکتی۔ چند ہفتے مزید اگر اسی طرح سے سلسلہ جاری رہا تو اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ دنیا کہاں تک جا پہنچے گی۔ امریکا کی اتحادی ریاستیں جن میں برطانیہ، جرمنی، اٹلی، سپین اور فرانس پیش پیش ہیں، وہ کرونا کے عذاب سہنے والوں میں بھی پیش پیش ہیں۔ اس وقت سب کو اپنی اپنی پڑ چکی ہے۔

اس ساری صورت حال کو دیکھ کر ہی ہم نے یہ سوال اٹھایا ہے کہ کیا انسانوں کی بیداری کے لیے یہ ایک جھٹکا ہی کافی ہے؟ کیونکہ ہماری رائے یہ ہے کہ یہ سب کچھ انسانوں کے اپنے کیے دھرے کا نتیجہ ہے، جیسا کہ قرآن فرماتا ہے: ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ أَيْدِي النَّاسِ۔ "انسانوں نے جو کچھ اپنے ہاتھوں سے کمایا، اس کے نتیجے میں بحر و بر میں خرابی ظاہر ہوگئی” اس خرابی کے عام اور ظاہر ہونے کا مقصد بھی اس آیت کے اگلے حصے میں واضح کیا گیا ہے: لِيُذِيقَهُم بَعْضَ الَّذِي عَمِلُوا لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ (روم:41) "اس کا مقصد یہ ہے کہ انسانوں نے جو بعض کرتوت کیے ہیں، انھیں ان کا مزہ چکھائے کہ شاید وہ پلٹ آئیں۔” کرونا وائرس کے نتیجے میں یہ بات بالکل واضح ہوگئی ہے کہ دنیا پر ظلم و استبداد کا جو نظام قائم تھا اور جسے قائم رکھنے کے لیے ناٹو کا فوجی اتحاد، اقوام متحدہ، آئی ایم ایف، ورلڈ بینک اور ایف اے ٹی ایف جیسے ادارے قائم کیے گئے تھے، وہ ناکام ہوچکا ہے۔ اگر اب بھی دنیا کی بڑی طاقتیں اور اس نظام سے مستفیض ہونے والے ادارے، لوگ اور گروپس بیدار نہ ہوئے تو یقیناً ان کی بیداری کے لیے اس سے بڑے جھٹکے کی ضرورت ہوگی۔

دوسری طرف اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ ہے کہ وہ اپنے کمزور اور پسے ہوئے بندوں کو ظالموں اور مستکبرین سے نجات دے گا۔ عالمی سطح پر ایک ایسا نظام معرض وجود میں آئے گا، جو ظلم و جور کے خلاف اپنی طاقت صرف کرے گا اور مظلوموں کی نجات کا باعث بنے گا۔ ایسا خدا پرست اور الٰہی قیادت ہی کے ذریعے ممکن ہے۔ اسی کو ہم اپنی مذہبی اصطلاح میں مہدویت کہتے ہیں اور اس کے قائد و رہبر کو مہدی یعنی خدا کی طرف سے ہدایت یافتہ شخص کہا جاتا ہے۔ اس دور کے آنے سے پہلے انسانوں کے ضمیروں کو بیدار کیا جانا ضروری ہے، یہ بھی ضروری ہے کہ انسان حاضر و موجود نظام سے مایوس ہو جائے اور استعماری اور استبدادی نظام سے اپنی امیدیں منقطع کرلے اور اپنے مالک و پروردگار سے لو لگائے۔ بعید نہیں کہ کرونا کا موجودہ جھٹکا اس کے لیے کفایت کر جائے، ہمیں ڈر ہے کہ ایسا نہ ہوا تو پھر انسانوں کو اس سے بھی ایک بڑے جھٹکے کے لیے تیار رہنا چاہیئے۔ خدا نہ کرے، پناہ بہ خدا۔

بشکریہ اسلام ٹائمز

یہ بھی دیکھیں

پاراچنار، عظیم الشان عالمی القدس ریلی

رپورٹ: ایس این حسینی قدس جلوس 2020ء طرح طرح کی دھمکیوں نیز حکومت کی جانب …