بدھ , 27 مئی 2020

کورونا وائرس کے بعد کی دنیا

تحریر: صابر ابو مریم
سیکرٹری جنرل فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان
پی ایچ ڈی ریسرچ اسکالر، شعبہ سیاسیات جامعہ کراچی

گذشتہ تین ماہ سے دنیا کے بیشتر ممالک کو کورونا وائرس کی وباء کا سامنا ہے، جس کے باعث کئی ہزار اموات ہوچکی ہیں اور لاکھوں افراد ایسے ہیں، جو اس وائرس سے براہ راست متاثر ہوئے ہیں، تاہم دنیا کی آبادی کا ایک بہت بڑا حصہ اور عوام بالواسطہ طور پر اس وائرس کے پھیلنے کے سبب متاثر ہو رہے ہیں۔ حال ہی میں سامنے آنے والی خبروں کے مطابق جس جس ملک میں اس وائرس سے متاثر ہوئے ہیں، وہاں پر باقاعدہ لاک ڈاؤن کے ذریعے اس کا مقابلہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ لاک ڈاؤن ہونے والے ممالک میں چین، اٹلی، فرانس، لبنان، عراق، غزہ، فلسطینی مقبوضہ علاقہ، اردن، غاصب صہیونی ریاست اسرائیل، اسپین، پاکستان اور برطانیہ سمیت امریکہ کی اتحادی ریاستیں بھی شامل ہیں۔ اسی طرح کئی ایک اور ممالک ایسے ہیں جو اس وقت لاک ڈاؤن کا سامنا کر رہے ہیں۔ صورتحال یہاں تک آن پہنچی ہے کہ اس وائرس سے متاثرہ افراد کا علاج کرنے والے میڈیکل اسٹاف اور ڈاکٹر بھی علاج کرتے کرتے اس وائرس کا شکار ہو رہے ہیں۔

ایک عام رپورٹ کے مطابق اس وقت دنیا کے ایک سو پچانوے ممالک اس مہلک وائرس کا شکار ہیں، جس کے باعث دنیا کا نظام اور تعلق بھی منقطع ہوچکا ہے۔ سیاسی و تجارتی تعلقات اور ہر قسم کے روابط محدود ہو کر رہ چکے ہیں، ہر کام ڈیجیٹل ذرائع سے انجام دینے کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ دنیا بھر میں اس وائرس کا مقابلہ کرنے کے لئے سماجی دوری کو حل قرار دیا جا رہا ہے۔ غرض یہ ہے کہ اس وباء سے نمٹنے کے لئے ہر ممکنہ احتیاط اور طریقہ کار کو خاطر میں لایا جا رہا ہے۔ اس طرح کے حالات میں کہ جب پوری انسانیت خطرناک دور سے گزر رہی ہے اور ایک تجزیہ کے مطابق شاید گذشتہ کئی صدیوں میں اس طرح کے بحران کا دنیا کو سامنا نہیں ہوا ہے۔ حالانکہ دو بڑی جنگیں پہلی جنگ عظیم اور دوسری جنگ عظیم کی تباہ کاریاں اپنی جگہ پر، لیکن موجودہ صورتحال تباہ کاری سے کئی گنا زیادہ سنگینی اختیار کرچکی ہے۔ ایسے حالات میں ایک سوال جو تحقیقی حلقوں میں گردش کر رہا ہے، وہ یہ ہے کہ کورونا وائرس کے بعد کی دنیا کیسی ہوگی؟ یقیناً یہ ایک اہم سوال ہے کہ جس نے ہر ذی شعور کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔

ان تمام تر سنگین حالات میں کہ جہاں ایک طرف کورونا وائرس ک باعث نظام زندگی متاثر ہے، وہاں ساتھ ساتھ دنیا میں ان ممالک اور علاقوں کی بات بھی سامنے آنا بہت ضروری ہے کہ جو نہ صرفا اس وباء سے نبرد آزما ہیں، بلکہ ساتھ ساتھ عالمی صہیونزم اور ظلم کا شکار ہیں۔ اس عنوان سے ہمارے سامنے آج کی موجودہ صورتحال میں فلسطین کا مسئلہ سب سے اہمیت کا حامل ہے، اسی طرح کشمیر میں بھی بھارت کی ریاستی دہشت گردی کا سلسلہ جاری ہے، شام کے سرحدی علاقوں پر ترک افواج کی جارحانہ کارروائیوں سے بھی پردہ پوشی نہیں کی جا سکتی، یمن پر جاری سعودی جارحیت بھی انسانیت کے چہرہ پر سیاہ کلنک کی مانند واضح نظر آرہی ہے۔ ایران پر امریکی معاشی دہشت گردی بھی جاری ہے، حالانکہ ایران بھی چین، اٹلی، اسپین، فرانس کے بعد پانچواں ایسا ملک ہے کہ جہاں اموات کی شرح زیادہ ہوئی ہے۔ لیکن اس صورتحال میں بھی امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے مسلسل پابندیوں کو سخت کیا جا رہا ہے اور میڈیکل امداد پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے۔ کورونا وائرس کی اس دنیا میں عالمی سامراج اور صہیونزم کی دنیا اپنے ظالمانہ عزائم سے باز نہیں آرہی ہے اور دنیا کے مظلوم خطوں پر مظالم و جبر کا سلسلہ جاری ہے۔ ایسے حالات میں یہ سوال زیادہ اہمیت کا حامل ہوتا جا رہا ہے کہ کورونا وائرس کے بعد کی دنیا کیسی ہوگی۔؟

اسی سوال کے عنوان سے حال ہی میں لبنان کی ایک بہت بڑی سیاسی شخصیت اور اسلامی مزاحمت کے قائد و حزب اللہ لبنان کے سربراہ سید حسن نصر اللہ نے ایک ٹیلی ویژن تقریر میں اس سوال کو اٹھاتے ہوئے اس کا جواب دیا ہے۔ سید حسن نصر اللہ نے اپنی گفتگو میں یہ سوال اٹھاتے ہوئے کہ کورونا وائرس کے بعد کی دنیا کیسی ہوگی؟ کہا ہے کہ آج ہم دنیا میں ایسی صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں کہ جس کی طول تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔ کم سے کم دوسری جنگ عظیم کے بعد سے اب تک یہ صورتحال کسی بھی عالمی جنگ سے زیادہ خطرناک ہے۔ انہوں نے اپنی گفتگو میں اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ ممکن ہے کہ کورونا وائرس کے خاتمہ کی بعد کی دنیا کو ایک نئے عالمی نظام اور نئی صورتحال کا سامنا ہو۔ جیسا کہ پہلی جنگ عظیم کے بعد دوسری جنگ عظیم اور پھر سوویت یونین کے بعد مشرقی و مغربی یورپ کے خاتمہ کے بعد ان سب کے بعد ایک نیا عالمی نظام وجود میں آیا۔ آج جو کچھ وقوع پذیر ہو رہا ہے، وہ ماضی کی تمام عالمی جنگوں سے بڑھ کر ہے۔ کیونکہ وہ (وائرس) دنیا میں ہر خطے اور ہر جگہ میں داخل ہوچکا ہے۔ آج جو کچھ بھی دنیا میں ہو رہا ہے، اس کی بنیاد ثقافتی، اعتقادی، دینی، فکری، فلسفی اور جو کچھ بھی ان سے مربوط ہے، کو ایک چیلنج درپیش ہے اور یہ ایک زلزلہ ہے جو آرہا ہے۔

کورونا وائرس کے بعد کی دنیا میں اہم مرحلہ دنیا کی حکومتوں کو درپیش چیلنج ہے۔ جس میں ایک بڑا چیلنج اقوام متحدہ کے اپنے موثر ہونے کا چیلنج ہے اور عالمی سطح پر بڑے بڑے اتحادیوں کو اپنے موثر ہونے کا چیلنج بھی درپیش ہے۔ نہیں معلوم امریکہ کی متحدہ ریاستیں متحد رہ پائیں گی یا نہیں؟ یا پھر موجودہ یورپی اتحاد باقی رہ پائے گا؟ اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ آج کی موجودہ نسل چاہے وہ کسی بھی خطہ میں ہو، دنیا میں کہیں بھی، ہم ایک جدید دور کا تجربہ کر رہے ہیں۔ اس تجربہ کی گذشتہ ایک سو یا دو سو سالوں میں مثال نہیں ملتی ہے۔ ممکن ہے کہ دنیا اور بشریت ایک نئے حالات اور نئے نتائج کی طرف منتقل ہو جائے۔ اس احتمال کی بنیادیں علمی اور واقعی ہیں۔ فکری، ثقافتی اور سیاسی سطح پر اور اسی طرح اتحادی گروپس کی سطح پر، اقتصاد، پیسہ، ریزرو اور اجتماعی و معاشرتی بنیادوں پر۔ ہر سطح پر ایک تبدیلی رونما ہو رہی ہے۔

خلاصہ یہ ہے کہ کیا آج وقت نہیں آگیا ہے کہ دنیا ان ظالم حکمرانوں کے خلاف ڈٹ جائے اور کہے کہ ختم کرو، اب بس بہت ہوگیا۔ اب اگر دنیا اس فکر میں ہے کہ کیسے جنگوں، لڑائیوں اور مشکلات کو ختم کیا جائے؟ اور کورونا سے مقابلہ کو اولویت دی جائے۔ یہاں ایک سوال ضرور یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یمن کی عوام بے انتہا غربت اور مظلومیت کے ساتھ اس لائق نہیں ہے کہ ان کے خلاف سعودی جنگ کو ختم کیا جائے؟ کیا فلسطین کے مظلوم عوام اور انسان اس لائق نہیں ہیں کہ ان کے خلاف صہیونی جرائم کا خاتمہ کیا جائے؟ آج دنیا کے باضمیر انسانوں کو یہ آواز پہلے سے زیادہ بلند آواز میں اٹھانی چاہیئے کہ ذاتی اختلاف نظر کو اور سیاسی حساب کتاب اور ان باتوں کی جگہ نہیں ہونی چاہیئے۔

آج انسانیت کی خاطر صرف اور صرف انسانیت کی خاطر پوری دنیا کو چاہیئے کہ امریکہ پر دباؤ ڈالے اور ایران کے خلاف معاشی دہشت گردی کا خاتمہ کیا جائے، صہیونیوں کے ظلم و ستم کو روکا جائے، سعودیہ اور اس کے اتحادیوں پر زور دیا جائے کہ وہ یمن کے مظلوم عوام پر جنگ بند کر دیں۔ اگر واقعی یہ عالمی اتحاد اور قوتیں انسان دوست ہیں تو آج وقت ہے کہ اپنے ان دعووں کو سچا کر دکھائیں اور دنیا بھر میں جاری ظلم و ستم کو انسانیت کی بقاء کی خاطر روک دیں اور آئندہ ایسے جارحیت پسندانہ اقدامات سے بھی گریز کریں۔ کورونا وائرس کے بعد کی دنیا یقیناً تبدیل ہو جائے گی اور یہ وہ امتحان ہے، جس کا ہمیں مشاہدہ کرنا ہے۔

بشکریہ اسلام ٹائمز

یہ بھی دیکھیں

پاراچنار، عظیم الشان عالمی القدس ریلی

رپورٹ: ایس این حسینی قدس جلوس 2020ء طرح طرح کی دھمکیوں نیز حکومت کی جانب …