اتوار , 31 مئی 2020

ختمِ نبوت سے مہدویت تک

تحریر: نذر حافی

انسان کھینچا جا رہا ہے، رحمان اور شیطان دونوں اسے کھینچ رہے ہیں، دونوں طرف کے نمائندے تبلیغ کر رہے ہیں، دونوں طرف سے فلاح و بہبود کا نعرہ بلند ہے۔ شیطانی نمائندے بھی کچھ مفادات کی طرف بلا رہے ہیں اور رحمان کے گھر سے بھی روزانہ پانچ مرتبہ حی علی الفلاح کی آواز گونجتی ہے۔ اسلامی تعلیمات و روایات کے مطابق رحمان کے مبلغین وحی الٰہی کے تابع ہیں، دوسری طرف شیطانی مبلغین ہوا و ہوس، وہم وگمان، خرافات و توہمات اور وسواس کی پیروی کرتے ہیں۔ جب ہم الٰہی مبلغین کی بات کریں تو الٰہی تعلیمات سے ہی کریں۔ اس وقت ہم الٰہی تعلیمات کی بدولت ان چار اصطلاحوں(۱۔ رسالت ۲۔ نبوت ۳۔کتاب ۴۔ دین ۵۔ امامت) سے بخوبی آشنا ہیں۔ ان چاروں اصطلاحوں کے بارے میں اللہ کی کتاب ہماری واضح رہنمائی کرتی ہے، قرآن مجید کے مطابق نبوت، رسالت اور نزول کتاب و دین کا سلسلہ تکمیل پا چکا ہے۔ اب قیامت تک رحمان کی طرف سے کوئی کتاب، نبی، رسول اور دین نہیں آئے گا۔ جب سلسلہ ہدایت حضور اکرم تک پہنچا تو قرآن مجید نے جہاں یہ اعلان کیا کہ ”وما ارسلنک الا کافتہ ً للناس“ٰ ہم نے آپ کو تمام لوگوں کے لئے رسول بنا کر بھیجا ہے۔ وہیں قرآن حکیم نے یہ اعلان بھی کیا کہ ”ما کان محمد ابا احد من رجالکم ولکن رسول اللہ و خاتم النبین وکان اللہ بکل شیء علیم“ محمد ﷺ تمہارے مردوں میں سے کسی ایک کے بھی باپ نہیں ہیں، لیکن وہ اللہ کے رسول اور سلسلہ انبیاء کے خاتم ہیں اور اللہ ہر شے کا خوب جاننے والا ہے۔

مندرجہ بالا آیات سے بخوبی پتہ چلتا ہے کہ حضور اکرم ﷺ پورے عالم بشریت کے رسول ہیں اور آپ کے بعد کوئی پیغمبر نہیں آئے گا۔ اسی طرح خود قرآن مجید کے بارے میں ارشاد پروردگار ہے۔”وتمت کلمتہ ربک صدقا وعدلا لامبدلا لکلماتہ و ھو السمیع العلیم“ اور آپ کے رب کا کلمہ قرآن صداقت و عدالت کے اعتبار سے بالکل مکمل ہے، اس کا کوئی تبدیل کرنے والا نہیں ہے اور وہ سننے والا بھی ہے اور جاننے والا بھی۔ اس سے پتہ چلا کہ قرآن مجید کے نزول سے خدا کا کلام مکمل ہوگیا ہے اور اب کوئی کتاب نازل نہیں ہوگی۔ اسی طرح دین کے بارے میں قرآن مجید نے دو اہم نظریئے پیش کئے ہیں۔ اول یہ کہ ”الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی و رضیت لکم السلام دیناً“ آج کے دن میں نے تمہارا دین مکمل کر دیا ہے، اپنی نعمتیں تم پر تمام کر دیں اور اس بات سے راضی ہوگیا کہ تمہارا دین اسلام ہو۔ قرآن مجید نے دین اسلام کے بارے میں دوسرا نظریہ یہ دیا کہ ”ھوالذی ارسل رسولہ باالھدی و دین الحق لیطھرہ علی الدین کلہ ولوکرتہ المشرکون“ وہ وہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا، تاکہ تمام اور ادیان پر غلبہ حاصل کرے، اگرچہ یہ بات مشرکین کو ناگوار گزرے۔

مندرجہ بالا آیات سے پتہ چلتا ہے کہ دین اسلام خدا کا آخری اور مکمل شدہ دین ہے اور اس دین کو خداوند عالم نے اس لیے بھیجا ہے، تاکہ یہ دین دیگر تمام ادیان پر غلبہ حاصل کرے۔ یہاں تک ہم اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ نبوت، رسالت، کتاب اور دین یہ چاروں چیزیں حضور اکرم پر آکر تمام اور مکمل ہوگئیں۔ اب آیئے نظریہ امامت کا ایک جائزہ لیتے ہیں، اللہ کی آخری کتاب کے مطابق مبلغین رحمان کی رسالت کے ساتھ ایک اور امتیازی خصوصیت کا نام امامت ہے۔ جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے ”اور اس وقت کو یاد کرو جب خدا نے چند کلمات کے ذریعے حضرت ابراہیم کا امتحان لیا اور انہوں نے پورا کر دیا تو اس نے کہا کہ ہم تمہیں لوگوں کا امام بنا رہے ہیں۔” حضرت ابراہیم  امتحان سے پہلے صرف رسول تھے۔ امتحان کے بعد امامت کی سند ملی، جس کے بعد نسل ابراہیم میں بھی یہ دونوں عہدے یعنی رسالت و امامت چلنا شروع ہوگئے۔ اب امامت کا سلسلہ کب تک چلتا رہے گا، اس کے بارے میں ارشاد پروردگار ہے: یَوْمَ نَدْعُوْا کُلَّ اُنَاسٍ بِاِمَامِہِمْ اس دن (قیامت) ہم تمام لوگوں کو اُن کے امام کے ساتھ بلائیں گے۔ (سورۃ بنی اسرائیل۔ 71)

یعنی امامت کا سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا۔ مقامِ فکر ہے کہ پھر قیامت تک لوگ اماموں کو کیسے پہچانیں گے!؟ اس حوالے سے احادیث کے متعدد منابع میں آیا ہے کہ ”حضور اکرم ﷺنے فرمایا :۔ یکون اثنا عشراً امیراً فقال کلمة لم اسمعہا فقال ابی انہ قال کلھم من قریش“ صحیح بخاری میں جابر بن سمرہ سے روایت کی گئی ہے کہ حضور نے فرمایا میرے بعد 12 خلیفہ ہونگے اور اس کے بعد کچھ فرمایا جو میں سن نہ سکا۔ میرے والد نے مجھے بتایا کہ آپ نے فرمایا تھا کہ وہ سب قریش میں سے ہونگے۔ اسی طرح کی احادیث صحیح مسلم اور صحاح سة کی دیگر کتب میں بھی درج ہیں۔ ایک بات تو واضح ہوگئی کہ ختم النبیینؐ کے بعد عالم بشریت کی ہدایت کیلئے بارہ خلفاء یا بارہ امام ہیں اور اب ان میں سے بارہواں خلیفہ یا امام کب ظہور کرے گا، اس بارے میں بھی متعدد معتبر کتابوں میں روایات موجود ہیں، بطور نمونہ  سنن ترمذی کی یہ حدیث ملاحظہ فرمائیں: دنیا کا خاتمہ نہیں ہوگا، مگر یہ کہ میرے اہلِ بیتؑ میں سے ایک آدمی عرب پر حکومت کرے گا اور اس کا نام وہی ہوگا، جو میرا ہے۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب خدا نے نبوت و رسالت، کتاب اور دین کو مکمل کردیا ہے تو پھر امامت کو قیامت تک جاری کیوں رکھا ہے۔؟ اس سوال کے جواب میں کئی کتابیں لکھی جا سکتی ہیں۔ یہاں پر ہم دو آیات کو پیش کرکے جواب کو حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ سب سے پہلے یہ کہ قرآن مجید نے دین کو بھیجنے کی غرض کچھ یوں بیان کی  ہے۔ ”ھوالذی ارسل رسولہ بالھدی ودین الحق لیظھرہ علی الدین کلہ ولو کرہ المشرکون“ وہ وہی ہے، جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا تاکہ تمام ادیان پر غلبہ حاصل کرے گرچہ یہ بات مشرکین کو ناگوار کیوں نہ لگے۔” پس یہ ٹھیک ہے کہ رسول اکرم پر آکر دین مکمل ہوگیا ہے، لیکن دین کی اصلی غرض خود دین کو مکمل کرنا نہیں تھا بلکہ اصلی غرض و غایت اس دنیا پر دین کو نافذ کرنا تھا۔ چنانچہ اس غرض کو پورا کرنے کیلئے ختم نبوّت کے بعد امامت کا باقی رہنا بھی ضروری تھا۔

جب دین اسلام دیگر ادیان پر غالب آئے گا تو اس کے نتیجے میں یقیناً زمین پر اللہ کے نیک اور مخلص بندوں کی حکومت قائم ہوگی، جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ہے: ”ولقد کتبنا فی الذبور من بعد الذکر ان الارض یرثھا عبادی الصالحون“ توریت کے بعد زبور میں ہم نے یہ لکھا کہ بے شک زمین کے وارث ہمارے نیک بندے ہونگے۔ پس خدا نے انبیاء کرام کے ذریعے نبوت و رسالت اور کتاب و دین کو مکمل طور پر عروج بخشنے کے بعد امامت کو اس لئے جاری و ساری رکھا، تاکہ زمین پر دین اسلام دیگر ادیان کو مغلوب کرے اور نیک لوگ ایک الہیٰ حکومت قائم کریں۔ اسلام کے دونوں قدیمی اور حقیقی فرقے (شیعہ اور سنی) یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ اس زمین پر حضرت امام مہدی آخری زمانے میں قیام کریں گے، جس سے دین اسلام دیگر تمام ادیان پر غالب آجائے گا اور زمین پر نیک اور صالح لوگوں کی حکومت قائم ہوگی۔ اس عقیدے کو شرعی اور کلامی اعتبار سے عقیدہ مہدویت کہا جاتا ہے۔ پس آخری کتاب، آخری دین اور ختمِ نبوت کا ثمر حضرت امام مہدیؑ کے ظہور سے دنیا کو ملے گا۔ اس لئے کہ آپ ظہور کرکے پوری دنیا پر اللہ کے آخری نبیؐ، آخری کتاب اور آخری دین کو نافذ کریں گے۔ اتنی بڑی تبدیلی کیلئے جہانِ اسلام کو کیا تیاری کرنی چاہیئے، اس پر پھر کبھی حسبِ فرصت روشنی ڈالیں گے۔

بشکریہ اسلام ٹائمز

یہ بھی دیکھیں

طیارہ حادثات۔ روک تھام کیسے ممکن ہے؟

تحریر:سلیم صافی پی آئی اے کا قیام 29 اکتوبر 1946کو کلکتہ میں اورینٹ ایئرویز کے …