بدھ , 12 مئی 2021

نیویارک: نرس ہر وارڈ میں لاشیں دیکھ کر زار و قطار رونے لگیں

نیویارک: کو وِڈ نائنٹین سے شدید ترین متاثرہ امریکی شہر نیویارک کے اسپتال لاشوں سے بھر چکے ہیں، اس صورت حال کو دیکھ کر ایک نرس نے ویڈیو میں زار و قطار روتے ہوئے خوف ناک حالات کو بیان کیا۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق نیویارک کے ایک اسپتال کی آئی سی یو نرس ڈینئل شمال کو کرونا وائرس کی وبا نے توڑ کر رکھ دیا ہے، وہ جس روم میں اپنے مریض کو دیکھنے جاتی ہیں، مریض مر چکا ہوتا ہے۔35 سالہ ڈینئل ایک ویڈیو میں اپنے دل کا درد عیاں کرتے ہوئے بے اختیار رونے لگیں، وہ 30 مارچ کو کرونا کے مریضوں کے علاج کے لیے نیویارک منتقل ہوئی ہیں، اور ریپڈ رسپانس ٹیم میں خدمات انجام دے رہی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ میرے کام نے مجھے اندر سے توڑ دیا ہے، میں جس روم میں جاتی ہوں وہاں میرا مریض مر چکا ہوتا ہے، اس نے نرس نے کہا کہ میں رومز میں جا جا کر مریضوں کو مرتے دیکھ کر اور ان کے لواحقین کو کال کر کے یہ خبر دیتے تھک چکی ہوں کہ آپ کا مریض نہیں رہا۔ سابقہ باڈی بلڈر ڈینئل شمال نے ویڈیو میں بتایا کہ لوگ سمجھتے ہیں کہ ہمارا دل نہیں دکھتا، نہ ہی ہمیں بیماریاں لگتی ہیں، لیکن ایسا نہیں ہے، میں اندر سے ٹوٹ چکی ہوں اتنی لاشیں دیکھ کر۔

نرس کا کہنا تھا کہ مجھے اس کام کی باقاعدہ تربیت دی گئی ہے لیکن جو کچھ دیکھنے میں آ رہا ہے وہ شدید ذہنی دباؤ ڈال رہا ہے، ہم بہت کوشش کر رہے ہیں لیکن ہم بھی انسان ہی ہیں۔ یہی وقت ہے کہ ہمارے ساتھ بھی شفقت کا رویہ اپنایا جائے۔ ہم کسی سے اپنا درد نہیں کہہ سکتے، ہم بس ہوٹل کے کمرے یا باتھ روم میں جا کر اکیلے روتی ہیں۔ڈینئل شمال نے اسپتالوں کو یہ تنبیہہ بھی کی ہے، انھیں اس صورت حال میں اپنے اسٹاف کی ذہنی صحت کا خیال رکھنا ہوگا، ورنہ ان پر بہت برے اثرات مرتب ہوں گے۔

 

یہ بھی دیکھیں

کتے کینسر کے علاج میں مدد گار ! امریکی صدر کا اعلان ، سوشل میڈیا پر اڑنے لگا مذاق

سرطان کے علاج کے بارے میں عجیب و غریب نظریہ پیش کرکے امریکی صدر جوبائیڈ …