اتوار , 9 مئی 2021

امریکی بیانیہ اور حقائق

تحریر: محمد سلمان مہدی

آج کی مسلم دنیا اور مشرق وسطیٰ میں آباد اقوام کو درپیش ایک مشکل یہ ہے کہ انہیں اپنے اپنے ممالک یا دیگر ممالک کی واقعی صورتحال کا علم نہیں ہے۔ غیر مسلم دنیا کی صورتحال بھی کچھ مختلف نہیں، لیکن ترقی یافتہ ممالک کے عوام کی معلومات تک رسائی ہماری نسبت کچھ بہتر ضرور ہے۔ مگر انہیں بھی واقعیت اور جھوٹ پر مبنی پروپیگنڈا میں تمیز کرکے درست نتیجہ پر پہنچ کر سازشوں کو بروقت ناکام بنانے کی ضرورت ہے۔ دیکھا یہ گیا ہے کہ اصل معاملہ کچھ اور ہوتا ہے اور اسے دنیا کے سامنے کسی اور انداز سے پیش کرکے عالمی رائے عامہ کو گمراہ کیا جاتا ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ اسی مادی و فانی دنیا میں یونائٹڈ اسٹیٹس آف امریکا، تنہا ایک نیشن اسٹیٹ ہوتے ہوئے بھی پوری دنیا کے فیصلوں پر اثر انداز ہے اور بیشتر ممالک میں امریکی بیانیہ ہی کو ان ملکوں کے حکام اپنی پالیسی کے طور پر پیش کرتے آئے ہیں۔

ہوتا یہ ہے کہ بعض اوقات امریکی حکومت خود امریکی بیانیہ کو آن ریکارڈ خود رسمی موقف کے طور پر پیش کرتی ہے۔ بعض اوقات اس کی اتحادی حکومتیں امریکی بیانیہ پر اپنا لیبل چسپاں کرکے اپنے ملکوں کے عوام کو گمراہ کرتیں ہیں۔ بعض اوقات فنڈڈ ایکٹیوسٹ اور فنڈڈ دانشور یا صحافی نما افراد کے ذریعے امریکی بیانیہ پیش کرکے یوں ظاہر کیا جاتا ہے، گویا آزاد رائے یہی ہو۔ ان میں سے کوئی بھی طریقہ اختیار کیا جائے یا بیک وقت یہ سارے گھوڑے دوڑا دیئے جائیں، ان سب کو دنیا بھر میں پھیلانا ذرایع ابلاغ کے ذمے ہے۔ امریکی بیانیہ کو سمجھنے کے لئے سب سے پہلے یہ سمجھنا زیادہ ضروری ہے کہ امریکی حکومت اور سرکاری ادارے خود ایک سہولت کار یا فرنٹ مین کا کردار انجام دیتے ہیں۔ اصل حکمران تو کارپوریٹ سیکٹر (کارپوریٹوکریسی) ہے۔

دنیا بھر میں ایسے بہت سے ماہرین آپ کو مل جائیں گے، جنہوں نے یہ حقیقت بے نقاب کی ہے اور ایسوں میں امریکی خواص بھی شامل ہیں۔ مشہور امریکی دانشور نوم چومسکی نے تو پوری ایک کتاب لکھ ڈالی اور انہوں نے تو پوری دنیا پر حکومت کون کرتا ہے، اسی عنوان کے تحت کتاب لکھی ہے۔ لیکن ہم نوم چومسکی کے نظریات سے متاثر ہوکر یا اسے ماخذ بناکر اپنی رائے قائم نہیں کرتے بلکہ ہمارے سامنے امریکا کا سیاسی نظام اور اس کے تحت کام کرنے والے ادارے اور شخصیات سے متعلق حقائق ہیں۔ امریکی الیکشن میں کس طرح کوئی امیدوار کامیاب ہوتا ہے، یہ ایک کھلی حقیقت ہے۔ امریکا میں پولیٹیکل ایکشن کمیٹی، لابی گروپس اور تھنک ٹینکس، یہ سب قانونی طور پر کام کرتے ہیں۔ مگر ان سبھی کا ذریعہ آمدنی کیا ہوتا ہے؟ با الفاظ دیگر ان پر خرچہ کرتا کون ہے!؟ اور بعض اوقات امریکی حکام عہدوں سے سبکدوش ہونے کے بعد خود ہی دیگر ممالک میں مداخلت کا اعتراف کرتے ہیں۔ بعض اوقات امریکی نیشنل سکیورٹی آرکائیو کے توسط سے ماضی کی خفیہ دستاویزات جزوی طور پر مشتہر کر دی جاتیں ہیں۔ ہم اس بنیاد پر امریکا سے متعلق بات کرتے ہیں۔

اسی تناظر میں ہم یہ جانتے ہیں کہ عراق سمیت پورے مشرق وسطیٰ کے حوالے سے یونائٹڈ اسٹیٹس آف امریکا کی ایک خارجہ پالیسی ہے۔ نائن الیون کے بعد کی امریکی جنگیں بھی اسی خارجہ پالیسی کے تسلسل میں ہوئیں۔ انہی جنگوں میں عراق پر مسلط کی گئی امریکی برطانوی جنگ بھی تھی۔ اکیسویں صدی کے لئے بھی منصوبہ بنایا جاچکا تھا۔ اسے پراجیکٹ فار نیو امریکن سینچری کا نام دیا گیا۔ یعنی نئی امریکی صدی کے لئے منصوبہ۔ مشرق وسطیٰ کے لئے امریکی خارجہ پالیسی کا سب سے پہلا ہدف اسرائیل کی سلامتی، اسرائیل کی بقاء، دفاع اور تحفظ ہی رہا ہے، جبکہ نئی امریکی صدی کا منصوبہ پیش کرنے والے بھی نیو کنزرویٹیو یا نیو کونز کا ہدف بھی اسرائیل کی بقاء ہی تھا اور ہے۔ نائن الیون کے بعد اسی نظریہ کو پیش کرنے والی اہم شخصیات کو حکومتی عہدے ملتے رہے اور وہ ان عہدوں پر بیٹھ کر نئی امریکی صدی کے نقاب میں نئی اسرائیلی زایونسٹ صدی کے لئے کام کرتے رہے۔

آج 2020ء ماہ اپریل میں ایک نظر ماضی پر ڈالیے۔ 1990ء کے عشرے میں نئی امریکی صدی کا منصوبہ پیش کرنیوالے ٹولے نے ہی اے کلین بریک کے نام سے ایک منصوبہ تیار کیا تھا۔ کلین بریک کا مطلب ہوتا ہے کہ کسی بھی حالت، صورتحال یا تعلق سے مکمل طور پر علیحدگی یا دوری۔ یہ سبھی وہ منصوبے ہیں، جن کے حوالے سے مستند معلومات دستیاب ہیں۔ البتہ اے کلین بریک منصوبہ بنجامن نیتن یاہو کے لئے اس وقت تیار کیا گیا تھا، جب وہ پہلی مرتبہ وزیراعظم بنے تھے۔ اس کے بعد سے مشرق وسطیٰ کے حوالے سے جو کچھ بھی ہوا، وہ سب کچھ نیا تھا۔ یعنی نائن الیون کے بعد کی امریکی جنگوں کے ذریعے امریکا نے افغانستان پر قبضہ کیا اور اس کے بعد عراق پر تسلط جمایا۔ اسرائیل نے 2006ء میں باقاعدہ لبنان پر جنگ مسلط کی۔ فلسطینیوں پر جنگیں مسلط کیں اور غزہ کو محصور کر دیا۔

پرواجیکٹ فار نیو امریکن سینچری اور اے کلین بریک منصوبوں کے بعد عرب حکومتوں نے مظلوم فلسطینی اور لبنانی عربوں کی کوئی مدد نہیں کی، بلکہ افغانستان اور عراق کی جنگوں میں درپردہ امریکا کے ہی سہولت کار بنے رہے اور چند برسوں سے تو کھل کر ایران کے خلاف اسرائیل اور امریکا کی خارجہ پالیسی پر سعودی عرب نے اپنا ٹھپہ لگا دیا ہے۔ اس تناظر میں دیکھیں تو عراق سمیت پورے مشرق وسطیٰ کے حوالے سے امریکی خارجہ پالیسی بلا تعطل ایک تسلسل کے ساتھ جاری ہے۔ عراق اور لبنان میں ایک منظم منصوبے کے تحت مصنوعی سیاسی بحران ایجاد کیا جاتا رہا ہے اور اپنے منظور نظر سیاستدانوں اور پراکسیز کے ذریعے مصنوعی کشیدگی ایجاد کرکے اسے طول دیا جاتا رہا ہے۔

حالانکہ عراق اور لبنان دونوں ملکوں میں الیکشن ہوچکے تھے۔ پہلے لبنان کے وزیراعظم سعد حریری کو سعودی عرب بلاکر اسے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے ذلیل کیا۔ پھر فرانس سعد حریری کو منصوبے کے دوسرے حصے کے تحت چھڑا کر اپنے ساتھ لے گیا۔ ابھی لبنان اس ایک بحران سے نکلا ہی نہیں تھا تو سڑکوں پر احتجاج کرکے سیاسی خلاء پیدا کر دیا گیا۔  لبنان اسرائیل کو بحیثیت ملک قبول نہیں کرتا اور اسے اپنا دشمن نمبر ایک کہتا ہے۔ عراق بھی اسرائیل کو قبول نہیں کرتا اور اسے دشمن نمبر ایک قرار دیتا ہے اور یہی دو ملک ایسے ہیں کہ جو اپنی اور خاص طور پر مقبوضہ فلسطین کے مصیبت زدہ فلسطینیوں کی کوئی مدد کرسکتے ہیں۔ انہی دو ملکوں اور تیسرے ملک شام کے ذریعے ہی فلسطینی عرب قوم اسرائیل کے قبضے سے آزادی حاصل کرسکتی ہے۔

ان تین کی مدد کرنے والا جو ملک پہلے نمبر پر ہے، وہ ایران ہے اور ماضی کو سامنے رکھ کر بات کریں تو ایران کے بعد جو ملک فلسطینیوں کی مدد کرنے کی اہلیت اور صلاحیت رکھتا ہے، وہ پاکستان ہے، اس کے بعد کہیں جاکر ترکی کا نمبر آتا ہے۔ لیکن ماضی کی بنیاد پر عرب ملکوں میں مصر اور یمن بھی اسی زمرے میں آتے ہیں کہ جو فلسطین کو اسرائیل کے قبضے سے آزاد کرانے کے لئے مخلصانہ کردار انجام دیتے آئے ہیں۔ حالانکہ یمن اور مقبوضہ فلسطین کے درمیان ایک طویل فاصلہ ہے اور درمیان میں سعودی عرب پڑتا ہے۔ آج صورتحال یہ ہے کہ جی سی سی خلیجی عرب ممالک امریکی اسرائیلی مفادات کے محافظ ہیں۔ مصر میں انکی امداد کے محتاج جنرل عبدالفتاح ال سیسی حکمران ہیں۔ سوڈان میں بھی امریکی سعودی اتحادی رژیم چینج کرچکے ہیں۔ ترکی نیٹو اور مسلمان بلاک کی دو کشتیوں کے مابین معلق کسی کام کا نہیں۔

پاکستان اس وقت مکمل طور پر امریکی سعودی بلاک کے زیر تسلط ہے۔ ایران تو دور کی بات ہے، پاکستانی ریاست تو اپنے بڑے بھائی ترکی کو بھی سعودی عرب پر قربان کرچکی ہے۔ ملائیشیاء میں کوالالمپور سربراہی کانفرنس میں عدم شرکت نے تو پاکستانی ریاست کی اصلیت بے نقاب کر دی ہے کہ اب پاکستان کی قسمت کے فیصلے واشنگٹن نے ریاض، جدہ اور ابو ظھبی میں منتقل کر دیئے ہیں۔ ایک کے بعد ایک مسلم ملک سعودی بادشاہت کے ذریعے امریکا شکار کرتا جا رہا ہے اور امریکی بیانیہ ہی سعودی اور پاکستانی بیانیہ بن چکا ہے، جبکہ پوری دنیا جانتی ہے کہ زایونسٹ لابی اسرائیل سے نہیں بلکہ یونائٹڈ اسٹیٹس آف امریکا نامی فرنٹ مین کے تحت بین الاقوامی مالیاتی نظام اور کارپوریٹوکریسی کے ساتھ دنیا پر اپنے فیصلے مسلط کرتی ہے۔ لیکن قوموں کی بیداری اور بغاوت سے ڈرتی بھی ہے، ورنہ اب تک ساری وکٹیں گرانے کے بعد مقبوضہ یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت رسمی طور پر منوا چکی ہوتی۔

یہ نہ منوانا ظاہر کرتا ہے کہ ابھی عالم انسانیت میں چند ایک ایسے دانے، چند ایسے نگینے موجود ہیں، جن کے ردعمل سے انہیں اب تک کی ساری کامیابی ناکامی میں بدل جانے کا خوف ہے۔ یہ خوف بلاوجہ نہیں ہے۔ عدالت و آزادی کا خدا اپنے ایسے خالص و مخلص بندوں کو اپنی پناہ میں محفوظ و سلامت رکھے۔ جس کسی کو یہ لگتا ہے کہ وہ عالم انسانیت اور مظلوم و محروم و مستضعف انسانوں کا ہمدرد ہے، تو وہ اپنا امتحان لے لے۔ کیا وہ اس انسانیت دشمن کارپوریٹوکریسی و زایونسٹ لابی کے خوف میں اضافہ کرتا ہے، کیا وہ مظلوم و مستضعف انسانوں کی مشکلات کم کر رہا ہے، خوف سے نجات دلا رہا ہے!؟ انسانیت دشمن کارپوریٹوکریسی و زایونسٹ لابی اور ان کے سہولت کاروں سے بے زاری اور بغاوت ضروری ہے۔ ایسا کرنے کے لئے انسان کی غفلت سے بیداری ضروری ہے۔ یہ تبھی ممکن ہوسکے گا کہ امریکی بیانیہ کے جھوٹے پن کو عام انسانوں کے سامنے نشر کیا جائے۔

بشکریہ اسلام ٹائمز

یہ بھی دیکھیں

قاسم سلیمانی اور مکتب مقاومت

مقدمہ: شہداء کے سردار کی عظیم شخصیت کے بارے میں کچھ لکھنا بہت دشوار ہے …