بدھ , 8 جولائی 2020

شام میں متعدد حملے امریکی مسلح افواج کے تعاون سے کئے، داعشی دہشت گردوں کا اعتراف

شامی فوج کا کہنا ہے کہ تکفیری دہشت گردوں نے اعتراف کیا ہے کہ ملک کے مختلف علاقوں میں امریکی مسلح افواج کی مدد سے کارروائیاں کیں۔ شامی فوج کا کہنا ہے البادیہ کے علاقے میں سرچ آپریشن کے دوران متعدد داعشی دہشت گردوں کوگرفتار کیااور دوران تفتیش دہشت گردوں نے اعتراف کیا کہ انہوں نے قابض امریکی افواج کے ساتھ مل کر ملک میں دہشت گرد کاروائیاں کیں۔

شام کی سرکاری خبر رساں ایجنسی (سانا) نے خبر دی ہے کہ شامی سرکاری فوج اور عوامی رضاکا فورسزنے صحرائی علاقے (البادیه) میں عوام کے تعاون سے داعشی دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کی اور متعدد تکفیریوں کو ہلاک اور تین خطرناک شرپسندوں کو گرفتار کرلیا۔گرفتار داعشی دہشت گردوں نے اعتراف کیا کہ انہیں امریکی مسلح افواج کی بھرپور مدد حاصل ہے۔

ان تینوں دہشت گردوں نے بتایا کہ انہوں نے ”التنف” نامی علاقے میں قابض امریکی فوج کی تعاون سے قتل ، پھانسی، اغوا اور سرکاری و نجی املاک کو تباہ کرنے سمیت متعدد دہشت گردانہ کاروائیاں کیں۔دہشت گردوں کا کہنا تھا کہ وہ شام اور اردن کی سرحد پر دہشت گرد کارروائیوں میں مصروف تھے اور انہیں امریکی افواج کی حمایت حاصل تھی۔

واضح رہے کہ گرفتار داعشی دہشت گردوں کی عمر19 سے 22 سال کے درمیان ہے۔ان جوانوں کا مزید کہنا تھا کہ ابوبکر البغدادی کے جانشین کی بیعت کرنے کے بعد انہیں باقاعدہ طور پر امریکی اسلحہ استعمال کرنے کی تربیت دی گئی۔دہشت گردوں کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کارروائیوں کے احکامات اور ان کارروائیوں کے اہداف ”التنف” میں امریکی زیرقیادت فورسز جاری کرتے ہیں۔

امریکی فوج نے داعش کے رہنما حسن القلم الجزراوی کو تدمور شہر، ٹی فور ایئرپورٹ اور تدمر شہر کے تیل کے ذخائر کے قریب میں شامی فوج کو نشانہ بنانے کا حکم دیا ہے.دہشت گردوں کا کہنا تھا کہ التناف اڈہ داعشی دہشت گردوں کے لئے ایک محفوظ پناہ گاہ ہے اور وہ اسی علاقے سے اپنی ضروریات کی فراہمی کر رہے ہیں اور یہاں تک کہ اگر کوئی زخمی ہوتا ہے تو بھی انہیں علاج کے لئے وہاں منتقل کردیا جاتا ہے۔

یہ بھی دیکھیں

امریکا میں کورونا وائرس کے خوفناک پھیلاو کے ذمہ دار ٹرمپ ہے؛گورنر نیویارک

واشنگٹن: نیویارک کے گورنر نے اپنی پریس کانفرنس میں کورونا وائرس کے مقابلے میں ٹرمپ …