منگل , 26 مئی 2020

مذاکرات کے ذریعے مسئلہ فلسطین حل کرنے کی حکمت عملی کا خاتمہ

تحریر: علی احمدی

فلسطین اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس نے بدھ 20 مئی کے دن کابینہ کے ہنگامی اجلاس سے گفتگو کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ آج کے بعد رام اللہ امریکہ اور غاصب صہیونی رژیم سے ماضی میں انجام پائے تمام معاہدوں پر عملدرآمد روک دے گا اور اب ہم سکیورٹی معاہدوں سمیت کسی معاہدے کی پابندی نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا: "تنظیم آزادی فلسطین اور اس کی حکومت آج کے بعد امریکی اور اسرائیلی حکومت کے ساتھ انجام پائے تمام معاہدوں اور مفاہمتی قراردادوں کو کالعدم قرار دیتی ہے جس کی رو سے ہم مزید ان معاہدوں اور ان کے ذیل میں تمام ذمہ داریوں کی پابندی نہیں کریں گے۔ آج کے بعد ہم سکیورٹی معاہدوں کے بھی پابند نہیں ہوں گے۔ اسرائیل کی غاصب رژیم آج کے بعد عالمی برادری کے سامنے ایک قابض قوت ہونے کے ناطے تمام ذمہ داریاں اور قوانین قبول کرنے پر مجبور ہو گی۔” انہوں نے مزید کہا: "ہم امریکی حکومت کو فلسطینی عوام پر ظلم و ستم کا ذمہ دار جانتے ہیں اور فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیل کے تمام ظالمانہ، دشمنانہ اور کینہ توزانہ اقدامات میں برابر کا شریک سمجھتے ہیں۔”

اگرچہ ابھی محمود عباس کے اس فیصلے کو عملی جامہ پہنائے جانے کی حکمت عملی واضح نہیں کی گئی لیکن فلسطین اتھارٹی اور غاصب صہیونی رژیم کے درمیان تمام معاہدے اور سکیورٹی سمجھوتے کالعدم قرار پانے کی صورت میں اسلامی مزاحمتی تنظیموں کی جانب سے اسرائیل کے خلاف مزاحمتی اقدامات میں اضافہ ہو گا اور یوں تیسرے انتفاضہ کا زمینہ فراہم ہو جائے گا۔ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے اعلان کیا ہے کہ مغربی کنارے اور درہ اردن کو مقبوضہ فلسطین کے ساتھ ملحق کرنے کیلئے کابینہ کا اجلاس جولائی میں منعقد ہو گا۔ اس منصوبے کی روشنی میں مغربی کنارے کو بھی سرکاری طور پر مقبوضہ فلسطین میں شامل کر دیا جائے گا۔ یاد رہے مغربی کنارہ مقبوضہ فلسطین کا 30 فیصد رقبہ تشکیل دیتا ہے۔ دوسری طرف عالمی سطح پر غاصب صہیونی رژیم کے اس فیصلے کی مخالفت جاری ہے۔ یورپی یونین کے سیکرٹری امور خارجہ جوزف بارل نے حال ہی میں اسرائیل کو اپنے اس فیصلے سے پیچھے ہٹ جانے کا مشورہ دیا ہے۔ یورپی یونین کے کل 27 رکن ممالک میں سے 25 ممالک نے جوزف بارل کے موقف کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ اس سے پہلے حتی ان ممالک کی جانب سے بھی شدید مخالفت سامنے آ چکی ہے جو امریکہ اور اسرائیل کے اتحادی جانے جاتے ہیں۔

یورپی یونین کے رکن ممالک کی جانب سے جاری ہونے والے بیانئے میں کہا گیا ہے: "ہم اسرائیل سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ کسی قسم کے ایسے یکطرفہ فیصلے سے گریز کرے جس کے نتیجے میں مغربی کنارے کے بعض حصے مقبوضہ فلسطین سے ملحق کئے جانے ہیں کیونکہ یہ اقدام بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔” فرانس کی وزارت خارجہ نے بھی منگل 19 مئی کے دن اس بارے میں ایک بیانیہ جاری کرتے ہوئے تل ابیب کو ایسے ممکنہ اقدام کے خطرناک نتائج سے خبردار کیا گیا ہے۔ بیانئے میں آیا ہے: "یہ اقدام یورپی یونین اور اسرائیل کے درمیان تعلقات پر منفی اثرات کا باعث بنے گا۔ فرانس علاقائی امن اور استحکام کے قیام کیلئے دونوں فریقوں کے درمیان مذاکرات دوبارہ شروع ہونے کیلئے ہر قسم کی کوشش کیلئے تیار ہے۔” جرمنی کے وزیر خارجہ ہائیکو ماس اور فلسطین اتھارٹی کے وزیراعظم محمد اشتیہ نے بھی مشترکہ بیانیہ جاری کیا ہے جس میں نئی اسرائیلی کابینہ کے فیصلے پر اظہار تشویش کرتے ہوئے کہا گیا ہے: "مشرقی بیت المقدس سمیت فلسطینیوں کی دیگر مقبوضہ سرزمینوں کا کوئی حصہ اپنے ساتھ ملحق کرنا بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔”

اردن کے وزیر خارجہ ایمن الصفدی نے بھی اسرائیلی حکومت کے اس فیصلے کی مخالف کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے مشرق وسطی میں امن مذاکرات کیلئے اقوام متحدہ کے کوآرڈینیٹر نکولائے میلاڈینوف سے ٹیلفونک بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی قوانین کی رو سے مسئلہ فلسطین کا واحد حل دو ریاستی حل ہے جبکہ اسرائیل کی جانب سے مغربی کنارہ مقبوضہ فلسطین سے ملحق کرنے کا فیصلہ اس راہ حل کی مکمل نابودی کا باعث بنے گا۔ دوسری طرف خود امریکہ اور اسرائیل کے اندر بھی اس منصوبے کی مخالفت کا آغاز ہو چکا ہے۔ آئندہ صدارتی الیکشن میں ڈونلڈ ٹرمپ کے حریف امیدوار جو بائیڈن نے اسرائیل کی جانب سے مغربی کنارے پر قبضے کی مخالفت کی ہے۔ خود اسرائیل کے وزیر اقتصاد عمیر بیرتس نے بھی اس فیصلے کی مخالفت کرتے ہوئے دو ریاستی راہ حل کی حمایت کی ہے۔ حزب اللہ لبنان کے اعلی سطحی رہنما سید ہاشم صفی الدین نے اسرائیل کی غاصب صہیونی رژیم کی تشکیل کو اقوام عالم کی کوتاہیوں کا نتیجہ قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی مزاحمت خطے میں اہم کامیابیاں حاصل کر چکی ہے اور اس میں اسرائیل کا مقابلہ کرنے کی بھرپور صلاحیت پائی جاتی ہے۔ بحرین نے شیعہ رہنما آیت اللہ شیخ عیسی قاسم نے بھی یوم قدس کی مناسبت سے خطاب کرتے ہوئے کہا: "بحرین کی قوم اسرائیل کے خلاف امت مسلمہ کی حامی ہے اور سازشی عناصر سے بیزار ہے۔”

بشکریہ اسلام ٹائمز

یہ بھی دیکھیں

شوگر مافیا۔ پس چہ باید کرد

تحریر: سلیم صافی ویسے تو شوگر انکوائری کمیشن کے انیس نکاتی ٹی او آرز صرف …