منگل , 26 مئی 2020

یوم القدس اور عالمی اداروں کی قراردادیں

اداراتی نوٹ
دنیا بھر میں فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے کل یوم القدس منایا جائے گا۔ کرونا وائرس کیوجہ سے امسال ممکن ہے ماضی کیطرح عوامی ریلیاں اور اجتماع منعقد نہ ہوں، لیکن اس دفعہ سوشل میڈیا پر جو کمپین چل رہی ہے، اُس نے اسرائیل اور اسکے حامیوں کے مکروہ اور کریہہ چہروں سے نقاب اٹھانے میں بنیادی کردار ادا کیا ہے۔ اسرائیل کے جو جرائم سامنے آئے ہیں اُن میں سے ایک اسرائیل کیطرف سے عالمی اداروں بالخصوص اقوام متحدہ کی قراردادوں کی کھلی مخالفت ہے۔ اقوام متحدہ کے اداروں جنرل اسمبلی اور سیکورٹی کونسل کی منظور شدہ قراردادوں پر سرسری نگاہ بھی ڈالی جائے تو یہ کئی حقائق سامنے آتے ہیں۔ اس عالمی ادارے نے 1948ء سے لیکر اب تک ایک سو سے زیادہ قراردادیں غاصب اسرائیل کے خلاف اور فلسطین کی حمایت میں منظور کی ہیں۔

قابلِ ذکر ہے کہ سیکورٹی کونسل کی قراردادوں کی تعداد اس سے کہیں بڑھ کر ہوتی، اگر امریکہ اور برطانیہ کے پاس ویٹو پاور نہ ہوتی۔ سیکورٹی کونسل کیطرف سے 1953ء میں قرارداد نمبر 101 کی منظوری اور 1967ء میں 242 کی منظوری ایک اہم قدم تھا۔ عالمی اور علاقائی اداروں کی قراردادوں کی روشنی میں اگر سرسری جائزہ بھی لیا جائے تو یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ ان اداروں نے اسرائیل کے غاصبانہ قبضے بالخصوص حائل دیوار، صیہونی بستیوں کی تعمیر، بیت المقدس کو یہودیانے کی کوششوں جیسے کئی اسرائیلی اقدامات کی کھل کر مخالفت کی ہے اور قراردادوں بھی منظور کی ہیں۔

لیکن قابل افسوس امر یہ ہے کہ ان قراردادوں پر عمل درآمد کے لیے کوئی مستحکم ار سنجیدہ لائحہ عمل تیار نہ ہوا اور اگر کوئی طریقہ کار تھا بھی تو امریکہ اور برطانیہ کی مسلسل اور بے باک، بے لاگ حمایت ان قراردادوں پر عمل درآمد میں بنیادی رکاوٹ بنی۔ اس سال کا یوم القدس عوامی آگاہی میں موثر ثابت ہو رہا ہے اور عالمی برادری کیطرف سے اس آواز کا بلند ہو، کہ غاصب صیہونی حکومت عالمی اداروں کی قراردادوں پر کیوں عمل درآمد نہیں کرتا، فلسطین کاز کیلئے بہت سودمند ثابت ہوگا۔ البتہ عالم اسلام بالخصوص او آئی سی جیسے اداروں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ فلسطین کی حمایت میں منظور ہونے والی قراردادوں کو نافذ کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔

یہ بھی دیکھیں

شوگر مافیا۔ پس چہ باید کرد

تحریر: سلیم صافی ویسے تو شوگر انکوائری کمیشن کے انیس نکاتی ٹی او آرز صرف …