جمعرات , 1 اکتوبر 2020

کشمیریوں اور فلسطینیوں کے قاتل ایک ساتھ

تحریر: ثاقب اکبر

آج (22 مئی 2020ء) کو جب عالمی یوم القدس منایا جا رہا ہے، ہمیں جہاں فلسطینیوں کی کربناک صدائیں سنائی دے رہی ہیں، وہاں کشمیریوں کی فریادیں بھی بلند ہیں اور سینوں کو چھلنی کئے دیتی ہیں۔ شاید ابھی کم لوگ اس مسئلے کی طرف متوجہ ہیں کہ بھارتی برہمن سامراج اور صہیونی درندہ صفت گماشتوں کے باہمی روابط دیرینہ ہیں اور دونوں فلسطینیوں اور کشمیریوں کی نسل کشی اور ان کے حقوق کو غصب کرنے کے لیے ایک جیسی پالیسیوں پر عمل پیرا ہیں۔ شروع شروع میں تو دونوں کی دوستیاں پردۂ اخفا میں تھیں، لیکن جوں جوں مسلمان ملکوں نے اسرائیل کے ساتھ زیر زمیں اور بالائے زمیں رابطے استوار کرنا شروع کیے تو پھر بھارت کی قیادت کو کوئی شرم لاحق نہ رہی کہ وہ اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات کو آشکار کرنا شروع کر دے۔ چنانچہ اب ہم دیکھتے ہیں کہ جن عرب ممالک کے اسرائیل کے ساتھ قریبی تعلقات قائم ہیں، ان کی بھارت نوازیاں بھی ظاہر و باہر ہیں۔ یہ بات ڈھکی چھپی نہیں کہ فلسطین ہی کی طرح ایک بے رحم فوج مغربی طاقتوں کے فراہم کردہ ہتھیاروں کو مخالفین کے خلاف اور کشمیری انتفاضہ کو روکنے کے لیے استعمال کر رہی ہے۔

یاد رہے کہ مودی بھارتی ریاست گجرات کے اس وقت وزیراعلیٰ تھے جب 2002ء میں تقریباً 2000 مسلمانوں کا اجتماعی قتل عام کیا گیا۔ وحشیانہ حملوں میں خواتین کے ریپ ہوئے اور ہزاروں مسلمانوں کو اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور کر دیا گیا۔ اسی طرح 2014ء میں اسرائیل نے 2000 سے زیادہ فلسطینیوں کو قتل کیا، جن میں 850 بچے، خواتین اور بوڑھے شامل تھے۔ اس وقت بھارت اور مقبوضہ فلسطین کی غاصب حکومت کے سربراہوں میں جتنی قربت اور مماثلت پائی جاتی ہے، وہ اپنی مثال آپ ہے۔ تاہم ہمیں یہ بات پیش نظر رکھنا چاہیئے کہ بھارت اور غاصب اسرائیل کے تعلقات دیرینہ ہیں۔ 1947ء میں اگرچہ بھارت نے فلسطین کی تقسیم کے خلاف ووٹ دیا، جو بعد میں اس کی منافقت کے طور پر سامنے آیا، کیونکہ 1949ء میں بھارت نے پھر خود اپنے ہی فیصلے کے خلاف اسرائیل کی حمایت میں ووٹ دیا۔ ہندو مہاسبھا، راشٹریہ سیوک سنگ شروع ہی سے اسرائیل کی حامی رہی ہیں، جبکہ آخر کار ستمبر 1950ء میں بھارت نے اسرائیل کو باقاعدہ تسلیم کر لیا۔

جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا ہے کہ بھارت کے زیر زمیں تعلقات تو 1949ء سے اسرائیل کے ساتھ قائم تھے، تاہم سفارتی تعلقات کے قیام کا اعلان بعد میں کیا گیا۔ بھارت اسرائیل روابط کی تاریخ کے مطابق دونوں کے مابین فوجی تعلقات 1971ء میں بھی قائم تھے۔ البتہ حساس اداروں کا اشتراک 1953ء سے چلا آرہا ہے۔ سفارتی تعلقات کے اعلان کے بعد ممبئی میں اسرائیلی قونصل خانہ کھولا گیا۔ جب 1968ء میں بھارت میں ’’را‘‘ کو قائم کیا گیا تو اس وقت کے ’’را‘‘ (RAW) کے چیف رامیشورناتھ کائو کو اندرا گاندھی نے ہدایت دی کہ موساد سے تعلقات قائم کریں۔ اگر ہم تاریخ کے جھروکوں میں جھانکیں تو جہاں ہمیں پاکستان کو توڑنے میں مودی کا کردار دکھائی دیتا ہے اور جس کا وہ خود ڈھاکہ میں اعتراف کرچکے ہیں، وہاں ہمیں اسرائیل بھی بنگلہ دیش کی تشکیل میں مدد گار نظر پڑتا ہے۔

1971ء میں اسرائیل نے اہم ترین جنگی ساز و سامان بھارت کو فراہم کیا۔ یہ تعاون اس وقت کی بھارتی وزیراعظم اندرا گاندھی اور اسرائیلی وزیراعظم گولڈا مائر کے مابین خصوصی رابطے سے ممکن ہوا۔ اس زمانے میں میجر جنرل جے ایف آر جیکب بھارتی فوج میں سرونگ آفیسر تھے، وہ یہودی تھے۔ فوجی ماہرین کا کہنا ہے کہ 1971ء میں بھارت اور مکتی باہنی نے اسرائیلی اسلحہ استعمال کیا، ورنہ مشرقی پاکستان میں ناکام ہو جاتے۔ یہ تفصیلات سری ناتھ راگھوان کی کتاب ’’بنگلہ دیش کے قیام کی عالمگیر تاریخ‘‘ جو اس موضوع پر مستند حوالہ ہے، میں درج ہیں۔ دوسرے، امریکی حکومت کی خفیہ دستاویزات جن کو بعد ازاں افشا کیا جا چکا ہے کہ مطابق اسرائیل نے جب عراق کے زیر تعمیر نیو کلیئر ریکٹر کو تباہ کر دیا تو اس کے فوراً بعد سے بھارت اور اسرائیل ایک دوسرے سے تعاون اور منصوبہ بندی کرنے لگے کہ وہ کسی طرح پاکستان کی ایٹمی تنصیبات کا بھی عراق والا حشر کر دیں۔ یہ منصوبے اس خیال سے دھرے رہ گئے کہ خطرات بہت زیادہ تھے یا قبل از وقت ان کی خبر پاکستان کو ہوگئی۔

نوائے وقت میں ایک تجزیہ کار نے بھارت اور اسرائیل کے مابین تزویراتی تعلقات کے بارے میں اپنے ایک تفصیلی مضمون میں لکھا ہے کہ کارگل کی جنگ میں بھی اسرائیل نے بھارت کو جو مدد فراہم کی، اس نے بھارت کی شکست خوردہ صورت حال کو بہت حد تک تبدیل کر دیا۔ اس سلسلے میں انڈیا ٹوڈے نے اپنی 5 جولائی 2017ء کی اشاعت میں یہ حیران کن انکشاف کیا کہ بھارتی فضائیہ اپنی زمینی فوج کو پاکستانی پوزیشنز کے متعلق صحیح معلومات فراہم کرنے میں ناکام ہو رہی تھی اور اس کے میزائل بھی ٹھیک نشانے پر نہیں لگ رہے تھے۔ ایسی حالت میں اسرائیل نے بھارتی فضائیہ کو لیزر گائیڈڈ میزائل فراہم کر دیئے، جو میراج H 2000 طیاروں میں لگا دیئے گئے۔ ان میزائلوں کی وجہ سے Precision Bombing کی گئی، جس نے پاکستان کی بلند و بالا پوزیشنز کی برتری کو ختم کر دیا، جبکہ اسے لائن آف کنٹرول کو عبور کرنے کی ضرورت بھی پیش نہیں آئی۔

ماضی قریب میں اور خصوصاً مودی حکومت کے دور میں دونوں ممالک میں قربتیں تیزی سے بڑھی ہیں۔ اس ضمن میں بھارت اسرائیل سے جنگی ساز و سامان خریدنے والا سب سے بڑا ملک بن کر ابھرا ہے، جبکہ اسرائیل سے بھارت کی خریداری دوسرا بڑا ذریعہ ہے۔ 2012ء تا 2016ء کے عرصے میں بھارت میں درآمد کیے جانے والے جنگی ساز و سامان کا 41 فیصد اسرائیل سے خریدا گیا ہے۔ اس ساز و سامان میں بڑے مہلک اور تباہ کن ہتھیار مثلاً درمیانی فاصلے پر مار کرنے والے میزائیل، لیزر گائیڈڈ میزائیل، طویل فاصلے پر مار کرنے والے میزائیل اور ان کا کمانڈ اور کنٹرول سسٹم، اواکس طیارے، ہیرون، ڈرون، ریڈار اور دیگر ساز و سامان شامل ہے، جس میں سے اکثر ٹیکنالوجی کی منتقلی اور مشترکہ پیداوار کی بنیادوں پر خریدے گئے ہیں۔

دونوں ممالک کی پالیسی یہ ہے کہ اصل باسیوں کو ان کی سرزمینوں سے نکالا جائے اور باہر سے لا کر ان کے مخالفین کو وہاں آباد کیا جائے۔ چنانچہ اسرائیل نے فلسطینیوں کو ان کی سرزمینوں سے دھونس اور جبر کے ذریعے سے نکالنے کی پالیسی اپنا رکھی ہے اور پوری دنیا سے شدت پسند یہودیوں کو لا کر آباد کرنے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ مودی حکومت بھی اب شدت پسند ہندوئوں کو کشمیر میں آباد کرنے کی پالیسی شروع کرچکی ہے، تاکہ مسلمانوں کو اس خطے میں کمزور کیا جاسکے۔ اسرائیل نے بھی معاشی لحاظ سے فلسطینیوں کو کمزور سے کمزور کرنے کا سلسلے شروع کر رکھا ہے، یہی کام اب کشمیر میں مودی حکومت کررہی ہے۔ دونوں اپنے اپنے مقام پر مقامی آبادی کو حقوق سے محروم کرنے کے لیے نت نئی قانون سازیاں کر رہے ہیں۔

اس سلسلے میں یہ بات بڑی اہم ہے کہ کشمیر میں یہ پالیسیاں اختیار کرنے کے لیے اسرائیل نے بھارتی حکومت کو اپنے تجربات منتقل کیے ہیں۔ کشمیریوں کو کمزور کرنے، محصور کرنے، معاشی لحاظ سے ان کا قتل عام کرنے اور چاروں طرف وحشی فوجیوں کے محاصرے میں رکھنے کا طرز عمل بھارت نے اسرائیل ہی سے سیکھا ہے۔ وہ لوگ جو سمجھتے ہیں کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات بحال کرکے پاکستان اسے بھارت سے دور کرسکتا ہے تو یہ وہی لوگ ہیں، جو کھلی آنکھ سے دیکھنے کے بجائے بند آنکھوں سے حقائق کو دیکھنا چاہتے ہیں۔ ایسے لوگ نہ فقط خود ٹھوکر کھاتے ہیں، بلکہ دوسروں کو بھی گڑھے میں گرنے کے لیے آمادہ کرتے ہیں۔ پاکستانی قوم بیدار ہے، وہ قائداعظم کی طرح برہمن سامراج کی ماہیت کو بھی جانتی ہے اور اسرائیل کو بھی ایک ناجائز ریاست تصور کرتی ہے، وہ اپنے بانی اور بابائے قوم کی آرزوئوں اور شعور کی کبھی نفی نہیں کرے گی۔ کشمیر اور فلسطین دونوں آزاد ہو کر رہیں گے۔ ان شاء اللہ

بشکریہ اسلام ٹائمز

یہ بھی دیکھیں

محمد علی جناح: معاملہ بانی پاکستان کی ایک روپیہ تنخواہ اور دو بار نمازِ جنارہ کا

عقیل عباس جعفری بانی پاکستان محمد علی جناح کی وفات صرف 72 سال پرانا واقعہ …