ہفتہ , 11 جولائی 2020

توجہ۔۔۔۔ فطرانہ دوبارہ ادا کرنا پڑ سکتا ہے!

تحریر: نذر حافی

عید کا دن چہل پہل کا دن ہے، انواع و اقسام کے کھانوں کی مہک میں، ہمیں یاد ہی نہیں رہتا کہ عید کا دن ہم پر کچھ ذمہ داریاں بھی عائد کرتا ہے، اس روز کی سب سے اہم ذمہ داری اپنے آپ کا محاسبہ کرنا ہے، یہ دیکھنا ہے کہ ماہِ مبارک رمضان کی عبادتوں اور روزوں نے میرے اندر کوئی تبدیلی بھی لائی ہے یا نہیں!، پورے ایک مہینے کے روزوں کے بعد میں اللہ کا عبد اور بندہ بنا ہوں یا نہیں!، میرے اندر دوسروں کے خلاف بغض، کینہ، انتقام، حسد اور غصہ ختم ہوا ہے یا نہیں!؟ میں نے فضول گوئی، لغویات، بیہودہ کام اور گناہ ترک کر دیئے ہیں یا نہیں!؟ مجھے خود بھوکا اور پیاسا رہ کر دوسروں کو کھلانے اور پلانے کی توفیق ملی ہے یا نہیں!؟ میں نے اپنی زندگی کو سادہ انداز میں گزار کر دوسروں کی مدد کرنے کا فیصلہ کیا ہے یا نہیں!؟

اگر مجھ میں یہ تبدیلی آگئی ہے کہ مجھے خود کھانے سے زیادہ دوسروں کو کھلانے میں لذت محسوس ہونے لگی ہے، اپنی مشکلات پر پردہ ڈال کر دوسروں کی مشکلات کو حل کرنے میں کیف محسوس ہونے لگا ہے، اپنی ضروریات کو کاٹ کر دوسروں کی ضروریات کو پورا کرنے میں مزہ آنے لگا ہے، اپنی پیاس اور تشنگی بجھانے کے بجائے دوسروں کو پانی پلانے میں شیرینی محسوس ہونے لگی ہے، اپنی رشوت اور ملاوٹ کی بہت زیادہ حرام کی کمائی کے بجائے حلال کی کم آمدن سے میرا گزارہ ہونے لگا ہے تو پھر تو یقیناً مجھے اس ماہِ مبارک میں عشقِ الٰہی نصیب ہوا ہے اور اگر مجھے اِن لذتوں کے بجائے صرف بیہودہ باتوں، قہقہوں، اُچھل کود، رشوت، گناہ، سموسے، پکوڑے اور بریانی کی لذتیں ہی محسوس ہوتی ہیں تو پھر۔۔۔

عید کے دِن اللہ سے عشق کا ایک اظہار فطرانے کی ادائیگی سے ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ ہر صاحبِ استطاعت کو  فطرانہ ادا کرنے کا حکم دیتا ہے۔ اُسے یہ پسند نہیں کہ مستحقین، محتاج اور غریب جا کر کسی کے دروازے پر دستک دیں، بلکہ وہ صاحبِ استطاعت کو امر کرتا ہے کہ وہ جا کر اللہ کے مسکین بندوں کو تلاش کرکے اُن کی مدد کرے۔ آج بے حسی کا یہ عالم ہے کہ فطرانہ دینے والوں کو عید کے دِن بھی کسی یتیم، مفلس اور نادار کا منہ دیکھنا نصیب نہیں ہوتا، ہم عید کے دن بھی کسی غریب کے ساتھ بیٹھ کر چائے نہیں پیتے! کسی بوڑھے، مریض یا اپاہج کے ساتھ دو منٹ بیٹھنا بھی گوارا نہیں کرتے، چنانچہ ہم عید کے دن غسل کرتے ہیں، عید کی نماز پڑھتے ہیں، خوشبو لگاتے ہیں، اچھے اچھے کھانے پکاتے اور کھلاتے ہیں، دعوتیں اڑاتے ہیں، موسیقی اور گانوں کے ساتھ پیپسی اور موج مستی کا دور دورہ ہوتا ہے۔

باقی رہا فطرانہ تو فطرانہ ہم یا تو مدرسوں اور مسجدوں کے ڈبوں میں ڈال دیتے ہیں اور یا پھر کسی کو دے دیتے ہیں کہ وہ کسی غریب فقیر کو دیدے۔ اگر ہم ایسا کرتے ہیں تو یقیناً ہم رمضان المبارک اور عیدالفطر کے فلسفے کو نہیں سمجھے۔ اللہ تعالیٰ کو نہ ہی تو ہمارے بھوکے اور پیاسے رہنے سے کوئی خوشی ہے اور نہ ہی ہمارے فطرانہ دینے سے اُس کی شان میں کوئی اضافہ ہوتا ہے۔ اللہ تو یہ چاہتا ہے کہ اُس کے بندوں کے درمیان اخوت، بھائی چارہ، دوستی اور صلہ رحمی جنم لے، وہ چاہتا ہے کہ اُس کا غریب اور فقیر، اُس کا یتیم اور مسکین، امراء و ثروتمندوں کے ساتھ اُن کے دسترخوان پر بیٹھے۔ اللہ کے بندے آپس میں بھائی بن کر ایک دوسرے کے مسائل کو حل کریں۔ ایک دوسرے کی احوال پُرسی کریں، ملاقاتیں کریں اور باہمی دکھ درد میں شریک ہوں۔

ہمیں شاید یہ بھی معلوم نہیں کہ فطرانے کے اوّلین مستحق ہمارے قریبی عزیز اور رشتے دار ہیں، اگر قریبی رشتے داروں میں کوئی بیوہ، یتیم یا نادار شخص ہے تو سب سے پہلے اُسی کو فطرانہ دیا جانا چاہیئے، اُس کے بعد ہمسائے کا حق ہے۔ جو لوگ مختلف اداروں کے ڈبوں میں فطرانہ ڈال کر جان چھڑوانے کی کوشش کرتے ہیں، اُنہیں جان لینا چاہیئے کہ اللہ اُن کے پیسے نہیں گنتا، وہ اُن کے نوٹوں سے بے نیاز ہے۔ فطرانہ اگر مستحق تک نہ پہنچے وہ ادا ہی نہیں ہوتا، جو لوگ اپنے عزیز و اقارب اور ہمسائیوں کے منہ کا نوالہ دوسرے علاقوں میں بھیجتے ہیں، اُنہیں معلوم ہونا چاہیئے کہ وہ اللہ کے ہاں گنہگار ہیں۔ بے شک انہوں نے فطرانہ ادا کر دیا ہے، لیکن اللہ کے ہاں وہ جوابدہ ہیں کہ اُنہوں نے ایسا کیوں کیا!؟ اور قیامت کے دِن اگر اُن کے عزیز و اقارب یا ہمسائے میں سے کسی نے آواز بلند کی کہ اس شخص نے قرب اور نزدیکی کے باوجود مجھے نظر انداز کیا ہے تو پھر اُس کا سامنا کرنا آسان نہیں ہوگا۔ لہذا فطرانہ دینے کے بعد اگر معلوم ہو جائے کہ مستحق تک نہیں پہنچا تو اس کا واپس لے کر مستحق تک پہنچانا ضروری ہے اور اگر واپس نہیں لے سکتے تو پھر دوبارہ ادا کرنا ضروری ہے۔

ماہِ مبارک رمضان، عیدالفطر اور فطرانے کا فلسفہ یہ ہے کہ ہم اللہ کے مخلص بندے بن جائیں۔ امیر اور غریب ایک دوسرے کی زیارت کریں، امراء اور غرباء کے درمیانی فاصلے ختم ہو جائیں، مالدار اور نادار کے درمیان یہ رنگ برنگے ڈبے، اشخاص، تنظیمیں اور ادارے حائل نہ رہیں، اگر ایک کے گھر میں پریشانی ہو تو دوسرے کے گھر سے مدد آجائے، اگر ایک کی بیٹی جوان ہو تو دوسرا جہیز کا بندوبست کرے، اگر ایک کے گھر میں بیمار ہو تو دوسرا مسیحائی کا اہتمام کرے، اگر ایک فوت ہو جائے تو دوسرا جنازہ اٹھائے، اگر ایک آنسو گرائے تو دوسرا آنسو پونچھے، اگر ایک مضطرب اور بے قرار ہو تو دوسرا ہمدرد اور غمگسار ہو، ورنہ سارے ماہِ مبارک میں بھوکے اور پیاسے رہنے کے بعد، ایک اللہ کی عبادت کرنے کے بعد، مسجد میں ایک ہی صف کھڑے ہونے کے بعد، پھر سے مختلف ٹولوں، فرقوں، طبقات، ذاتوں، برادریوں اور نسلوں میں تقسیم ہو جانا، یہ نہ ہی تو اسلام ہے اور نہ ہی انسانیت ہے۔

بعض لوگ صرف اُسے فطرانہ دینا ضروری سمجھتے ہیں، جس کے کپڑے پھٹے ہوئے اور پرانے ہوں، لیکن فطرانے کا مستحق ہر وہ خوددار اور غیرت مند شخص بھی ہے، جس  کے پاس سال بھر کا خرچہ نہیں ہوتا اور  جو شرم کے مارے کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلاتا۔ جب ہمیں یہ معلوم ہو جائے کہ ہمارا یہ رشتے دار یا ہمسایہ ضرورت مند ہے تو پھر اس کی مدد کرتے ہوئے اسے یہ بتانا ضروری نہیں ہے کہ ہم آپ کو صدقہ یا فطرانہ دے رہے ہیں بلکہ ہم اسے اخلاق و مروت کے ساتھ بغیر صدقے اور فطرانے کا عنوان بتائے اس کی مدد کرسکتے ہیں، اللہ اکبر! دینِ اسلام کی تعلیمات تو یہ ہیں کہ اگر کسی کی عزت نفس کے مجروح ہونے کا خدشہ ہو اور اس کا دل ٹوٹنے کا اندیشہ ہو تو لازمی ہے کہ ہم ضرورت مند کو صدقے یا فطرانے کا شک تک نہ ہونے دیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے دین کو سمجھنے اور اُس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

بشکریہ اسلام ٹائمز

یہ بھی دیکھیں

ایران شام سیکورٹی معاہدہ

اداراتی نوٹ ایران اور شام کے درمیان ایک اہم سیکورٹی معاہدے پر دستخط ہوئے جس …