اتوار , 5 جولائی 2020

سعودی عرب سے افغانستان منتقل ہونے والا طالبان کمانڈر گرفتار

کابل؛ تحریک طالبان اور  سعودی عرب سمیت کئی عرب ممالک کے درمیان موجود روابط  کسی سے مخفی نہیں ہیں۔ سعودی عرب ، قطر اور دیگر ممالک ہیں جو دنیا بھر میں داعش طالبان، بوکو حرام ، القاعدہ اور دیگر دہشت گرد تنظیموں کی مالی مدد کرتے ہیں ہیں اور ان عرب ممالک میں سے سب سے پہلے طالبان کو قطر نے اپنی سرزمین پر سیاسی دفتر قائم کرنے کا موقع فراہم کیا جبکہ سعودی عرب سمیت دیگر ممالک نے پوری دنیا میں ان شدت پسند تنظیموں کو دہشت گردی کی کارروائیوں کے لیے سہولیات اور مالی امداد فراہم کی ہے۔افغان اور غیرملکی ذرائع ابلاغ نے افغانستان کے موجودہ اور سابق عہدیداروں کے حوالے سے کہا ہے کہ طالبان اور سعودی عرب سمیت کئی دیگر ممالک کے باہمی تعلقات افغانستان اور ملک کی قومی سلامتی کے لیے نقصان دہ ہیں۔

سعودی عرب عرب سمیت دیگر عرب ممالک اور طالبان کے دو طرفہ تعلقات کے جلو میں ایک نئی خبر سامنے آئی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ حال ہی میں سعودی عرب سے افغانستان منتقل ہونے والے ایک طالبان کمانڈر کو حراست میں لیا گیا ہے۔طالبان رہ نما جن کی شناخت شفیع کے نام سے کی گئی ہے حافظ عمری کے فرضی نام سے مشہور ہے۔ حافظ عمری کو افغانستان کے صوبہ ہرات سے حراست میں لیا گیا ہے۔افغان حکام کا کہنا ہے کہ طالبان کمانڈر کو مسلح حالت ایک گاڑی میں سفر کے دوران حراست میں لیا۔افغان حکام کا کہنا ہے کہ طالبان کمانڈر حافظ عمری کے پاس سے بڑی تعداد میں سعودی ریال اور ساتھ میں اسحلہ بھی موجود تھا جنہیں افغانستان کے ہرات صوبے کے شیندند مقام سے حراست میں لیا گیا۔

یہ بھی دیکھیں

روس میں آئينی اصلاحات کا ریفرنڈم، یورپ اور امریکہ چراغ پریشان

یورپی یونین اور امریکہ نے روس میں آئینی اصلاحات کے لیے کرائے جانے والے ریفرنڈم …