بدھ , 8 جولائی 2020

سعودی عرب میں احتجاج کرنے والے مظاہرین پر پولیس کی فائرنگ، 6 شہری ہلاک، 3 زخمی

سعودی عرب کے جنوبی مغربی علاقے عسیر کی  الامواہ نامی کمشنری میں کورونا وائرس سے متعلق سعودی حکومت کی ناکام پالیسز پر احتجاج کرنے والوں پر سعودی پولیس نے فائرنگ کر دی۔ فائرنگ سے 6 شہری ہلاک جبکہ 3 زخمی ہو گیے ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق مظاہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کورونا وائرس کو قابو کرنے میں ناکام ہو گئی اور صرف امرا کو اس حوالے سے سہولتیں دی جا رہی ہے غریب طبقہ نہ صرف کورونا سے متاثر ہو رہا ہے بلکہ معاشی مشکلات کا شکار ہے جس پر سعودی عوام احتجاج کر رہے تھے تاہم بے رحم پولیس نے احتجاج کرنے والوں پر اندھا دھند فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں ہمارے 6 لوگ ہلاک اور کئی زخمی ہو گئے ہیں  لواحقین کا کہنا ہے کہ پولیس نے نہ صرف ہمارے لوگوں کو ہلاک کر دیا بلکہ لاشوں کی بے توقیری اور بے حرمتی کرتے ہوئے کئی گھنٹے لاشوں کو سٹرکوں پر پڑی رہنے دی اور کسی کو لاشوں کے قریب بھی آنے نہیں دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم انسانی حقوق کی عالمی تنظموں سے مطالبہ کرتے ہیں  کہ وہ سعودی عرب کے معصوم لوگوں کے قتل عام کو رکوائے۔

دوسری جانب عسیر ریجن پولیس کے ترجمان لیفٹیننٹ زید محمد الدباش نے کہا ہے کہ ’واقعہ منگل کو پیش آیا تھا انھوں نے کہا ہے’واقعہ سے متعلق تفتیش شروع کردی ہے۔ تفصیلات حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، تاہم زخمیوں سے ابتدائی تفتیش ہوئی ہے۔ ان کی صحت میں بہتری کا انتظار ہے‘۔ ’فائرنگ کے عوامل اور تفتیش مکمل ہوتے ہی تمام تفصیلات سے آگاہ کردیا جائے گا‘۔یاد رہے سعودی عرب میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے سعودی عرب میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی سرکار کی سرپرستی میں کی جاتی ہےاس کی واضح مثال ماضی قریب میں بے دردی سے قتل کیے جانے والے سعودی صحافی جمال خاشقجی ہے جنہیں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے حکم پر بے دردی سے قتل کر دیا گیا تھا۔

یہ بھی دیکھیں

امریکا میں کورونا وائرس کے خوفناک پھیلاو کے ذمہ دار ٹرمپ ہے؛گورنر نیویارک

واشنگٹن: نیویارک کے گورنر نے اپنی پریس کانفرنس میں کورونا وائرس کے مقابلے میں ٹرمپ …