اتوار , 5 جولائی 2020

امریکہ میں انصاف کے مطالبہ کا جواب پولیس کا تشدد کا ہے: ایران

ایران کی وزارت خارجہ نے امریکی پولیس کے ہاتھوں سیام فام شہریوں کے قتل کو، انصاف کے قیام کے لئے امریکہ میں کئے جانے والے مطالبے پر امریکہ کے جواب سے تعبیر کیا ہے۔ایران کی وزارت خارجہ نے بدھ کے روز امریکی پولیس کے ہاتھوں اس ملک میں ایک اور سیاہ فام شہری کے ہونے والے قتل پر ٹوئٹ کیا ہے کہ اریک گارنر چھے سال قبل پولیس سے التماس و التجا کرتا رہ گیا کہ میں سانس تک نہیں لے پا رہا ہوں اور وہ پولیس کے ہاتھوں مارا گیا اور اب اسکے بعد جارج فلویڈ نامی ایک اور سیاہ فام شہری امریکی پولیس کے تشدد کے نتیجے میں اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔

ایران کی وزارت خارجہ نے اپنے ٹوئٹ میں کہا ہے کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ امریکہ میں سیاہ فام شہریوں پر ظلم و تشدد کی کوئی انتہا نہیں رہی ہے اور انصاف کے قیام کے مطالبے کا جواب، امریکی پولیس ظلم و تشدد کی شکل میں دیتی ہے۔امریکہ میں ایک سفید فام پولیس افسر نے پیر کے روز ریاست مینے سوٹا کے شہر مینیا پولس میں جارج فلویڈ نامی ایک اور سیاہ فام شہری کا قتل کر دیا۔موصولہ رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ رواں عیسوی سال کے پہلے چار مہینوں میں امریکی پولیس کے تشدد کے نتیجے میں دو سو سے زائد امریکی شہری اپنی جانوں سے ہاتھ دھو چکے ہیں۔قابل ذکر ہے کہ امریکی عدالتیں بھی سیاہ فام شہریوں کے خلاف پولیس تشدد کو جرم نہیں سمجھتیں اور نہ ہی ان عدالتوں سے سیاہ فام شہریوں کو تشدد کا نشانہ بنانے والے پولیس اہلکاروں کو کوئی سزا دی جاتی ہے۔

یہ بھی دیکھیں

روس میں آئينی اصلاحات کا ریفرنڈم، یورپ اور امریکہ چراغ پریشان

یورپی یونین اور امریکہ نے روس میں آئینی اصلاحات کے لیے کرائے جانے والے ریفرنڈم …