بدھ , 8 جولائی 2020

ملیریا کے خلاف منظورشدہ دوا کینسر کے خلاف بھی مؤثر ثابت

ورجینیا: سرطان کی بعض اقسام میں سب سے مہلک اور مشکل سے ٹھیک ہونے والا سرطان ’گلائیو بلاسٹوما‘ ہے لیکن ملیریا کے خلاف منظور ہونے والی ایک دوا سے اس کے علاج کی امید بھی پیدا ہوئی ہے جو ایک قسم کا دماغی سرطان ہے۔

اس دوا کا نام، لیومیفینٹرائن ہے جس کی منظوری امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ اتھارٹی (ایف ڈی اے) دے چکی ہے۔ اب ورجینیا کامن ویلتھ یونیورسٹی کے ماہرین نے انکشاف کیا ہےکہ یہ جینیاتی سطح پر کام کرتے ہوئے دماغی رسولی کی افزائش روک سکتی ہے۔

واضح رہے کہ گلائیوبلاسٹوما کا علاج بہت مشکل ہوتا ہے اوریہ اپنے مریض کو بہت تیزی موت کے دہانے تک لاجاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اشعاعی علاج اور بعض ادویہ کے باوجود پیچیدہ دماغ میں اس کا پھیلاؤ پیچیدہ ترین ہوتا ہے۔
اس وقت ریڈی ایشن تھراپی کے ساتھ ٹیموزولامائڈ نامی دوا دماغی سرطان میں دی جاتی ہے لیکن اس کی تاثیر بہت ہی کم ہے۔ وجہ یہ ہے کہ دماغی رسولی جلد ڈھیٹ بن کر اس پورے معالجے کو ناکام بنادیتی ہیں اور مریض تشخیص کے چار پانچ سال میں ہی لقمہ اجل بن جاتا ہے۔

ماہرین کہتے ہیں کہ ایک جینیاتی عمل Fli-1 سرطانی رسولی کو مزاحم بناکر علاج کے عمل کو ناکام کردیتا ہے۔ سائنسدانوں نے دیکھا کہ Fli-1 ایک خاص قسم کے پروٹین کے اظہار(ایکسپریشن) کو قابو کرتا ہے۔ اس پروٹین کو ایچ ایس پی بی ون کہا جاتا ہے۔ اس عمل کو سمجھ کر ہم اس موذی سرطان کا بہتر علاج کرنے کے قابل ہوسکتےہیں۔

سائنسدانوں نے دریافت کیا کہ لیومیفینٹرائن Fli-1 کو روک سکتی ہے جو رسولی سے وابستہ پروٹین میں خلل ڈالتی ہے۔ اس طرح سے گلائیوبلاسٹوما کے علاج کی نئی راہ کھل سکے گی۔اس ضمن میں سرطانی خلیات لے کر جب ریڈیو تھراپی، ٹیموزولومائڈ اور لیومیفینٹرائن کو باہم ملایا گیا تو کینسر زدہ خلیات بہت تیزی سے ختم ہوئے اور رسولی کی رفتار رک گئی۔ جب ملیریا کی دوا کو نکال باہر کیا گیا تو ان پر کوئی فرق نہ پڑا اور کینسر اپنی رفتار سے آگے بڑھتا رہا۔ماہرین کے مطابق اس طرح مزید تجربات کے بعد ملیریا کی دوا سے کینسر ختم کرنے میں بہت مدد مل سکے گی۔

یہ بھی دیکھیں

ایرانی ڈاکٹرز نے خون کے بہاو کو روکنے کیلئے نینو پٹی تیار کر لی

تہران: ایرانی ڈاکٹرز نے طبی سامان کے شعبے میں پہلی بار  ایک نینو پٹی تیار …