بدھ , 8 جولائی 2020

میڈیا اورعوام

تحریر:امجد اسلام امجد

اس میں شک نہیں کہ ہمارے باقاعدہ میڈیا (الیکٹرانک +پرنٹ) کو بے شمار مسائل کا سامنا ہے جن کی ذمے داری حکومتی پالیسیوں اور بڑھتے ہوئے معاشی مسائل پر عائد ہوتی ہے اور جن کی فوری اصلاح اور خبر گیری کی ضرورت ہے کہ اس سے براہِ راست متاثر ہونے و الے لوگوں کی تعداد اگر لاکھوں نہیں تو ہزاروں میں ضرور ہے اور ان میں سے 95% سے زیادہ کا تعلق کم آمدنی والے گروہ سے ہے۔موجودہ حالات یعنی کورونا ویو اور معاشی انتشار نے اس صورتِ حال کو مزید پیچیدہ کردیا ہے کہ نہ صرف ہر طرح کی ایکٹیویٹی میں کمی واقع ہوئی ہے کہ زندگی کے بے شمار شعبے بالخصوص ایسی جگہیں اور تقریبات جہاں زیادہ لوگ جمع ہوں اور چہروں اور واقعات کی فراوانی ہو تقریباً مفقود ہوگئے ہیں اور صنعتوں کی بندش کی وجہ سے نئے اشتہارات کی تشکیل اور پرانوں کی تعداد پر بھی فرق پڑا ہے جب کہ ان اشتہارات میں نمایاں کی جانے والی چیزیں بھی عوام کی عمومی قوتِ خرید سے بُری طرح متاثر ہوئی ہیں۔

ایسے میں دو طرح کے ردعمل زیادہ اُبھر کر سامنے آرہے ہیں چالو اور ہمہ وقت اسکرین یا اخبار میں جگہ بھرنے والی خبروں سے ہٹ کر کچھ نیا کرنے کی کوشش کہ اب لاکھ مصالحے لگانے پر بھی اس سودے کے گاہک کم ہوتے جارہے ہیں اور دوسرے یہ کہ اپنی طرف سے زبردستی اور صحافتی اصولوں کو پامال کرتے ہوئے ایسی خبروں کو فروغ دیا جائے جو عام طور پر سوشل میڈیا کے دائرہ کار میں آتی ہیں یا پھر خود سے ایسی خبریں تخلیق کرلی جائیں جو کسی نہ کسی حوالے سے چونکانے والی ہوں اور یہ کام عام طور پر کسی واقعے پر دیے گئے کسی فرد یا ادارے کے ردّعمل کو توڑ مڑور کر یا کہی گئی باتوں کو اُن کے سیاق و سباق سے الگ کرکے مشینی ایڈیٹنگ کے ذریعے اس طرح سے پیش کیا جائے کہ یا تو ان کا مفہوم بدل جائے یا اس سے کسی شخص پر سخت اور ذاتی قسم کے حملے کی سی فضا بن جائے۔اسی کی بے شمار مثالیں ہمارے ارد گرد بکھری پڑی ہیں اور آپ سب ان سے واقف اور آشنا ہیں میں مثال کے لیے چند برس پرانی صرف ایک خبر کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں جس میں کرکٹ کی دنیا کے دو مشہور افراد جاوید میانداد اور سرفراز نواز کو ایک ایسی لفظی جنگ کا شکار بنا دیا گیا تھا جس کی اصل میں کوئی حقیقت تھی ہی نہیں۔

ہوتا یوں ہے کہ بعض اوقات ہنسی مذاق یا بے تکلفانہ گفتگو کے د وران کسی کے منہ سے ایسی بات نکل جاتی ہے جسے زیادہ سے زیادہ ایک غیر ذمے دارانہ عمل سے تشبیہ دی جاسکتی ہے مگر اسے ایک بیانِ حلفی کی طرح نمک مرچ لگا کر اس طرح سے اُچھالا جاتا ہے اور دوسری پارٹی (جس کے بارے میں وہ جملہ کہا گیا ہو) کہ وہ بات اس طرح سے سنائی جاتی ہے کہ عام طورپر غصے میں وہ متعلقہ شخص کے بارے میں کسی ایسے ردعمل کا اظہار کر دیتاہے جو ایک وقتی اور فوری ردعمل تو ہوتا ہے مگر اسے اس شخص کی حتمی یا مستقل رائے کا درجہ نہیں دیا جاسکتا اب ہوتا یوں ہے کہ ا س فوری اشتعال کی حالت میں عام طور پر اس ذاتی حملے کا شکار شخص جوابی طور پر کوئی ایسا جملہ کہہ جاتاہے جو نہ صرف جارحانہ نوعیت کا ہوتا ہے بلکہ اُس کا تعلق زبردستی کے بنائے ہوئے اُس مخالف کی ذاتی زندگی سے ہوتا ہے اور یوں دیکھتے ہی دیکھتے ایک تماشہ سا لگ جاتا ہے ایسی باتیں اگر غیر ارادی طور پر یا خود بخود شرو ع ہوں تو بہت جلد اُن کی اصلیت سامنے آجاتی ہے اور معاملہ ختم کردیا جاتا ہے لیکن اگر اس جھگڑے کو کسی باقاعدہ اور غلط نیت سے شروع کیا گیا ہو تو بات بہت آگے تک جاتی ہے متعلقہ پارٹیوں کے درمیان اختلافات کی خلیج تو بڑھتی ہی ہے تماشا دیکھنے و الے لوگ بھی بعض ایسی غلط فہمیوں کا شکار ہوجاتے ہیں۔

جن سے یہ قومی ہیرو جیسی نوعیت کے لوگ اسٹیج کے جگت باز مسخروں کی طرح اپنی غیر ذمے دارانہ باتوں کی وجہ سے ہنسی اور تمسخر کا باعث بن جاتے ہیں اور اُن کی بہت محنت سے کمائی ہوئی عزت بھی خواہ مخواہ داؤ پر لگ جاتی ہے ایسے میں  بہترین اور سب سے موزوں طریقہ یہی ہے کہ جونہی ایسی کوئی بات سامنے آئے فوراً دونوں فریق ذاتی سطح پر رابطے میں آئیں اور باہمی بات چیت سے اس سازش کو پنپنے سے پہلے ہی ختم کردیں مگر یہ کام اُس وقت تک مکمل اور نتیجہ خیز نہیں ہوگا جب تک متعلقہ چینل یا اخبار کے ذمے د اراور سینئر افراد اس کا نہ صرف سختی سے نوٹس لیں بلکہ اس کے ذمے دار افراد کی حوصلہ شکنی بھی کریں کہ وہ کچھ دنوں کی سنسنی خیزی یا توجہ طلبی کی آڑ میں ادارے کی عزت اور اپنے پیشے کی حرمت کا سودا نہ کریں۔

ذاتی طور پر میں نے اسی طرح کی کئی سیچوئیشنز کا مقابلہ اسی طرح سے کیا ہے اور اس کا بہت اچھا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ بہت ساری بے ہودہ اور تکلیف دہ باتیں پیدا ہونے سے پہلے ہی مرگئیں ایسی کوئی بات میرے بارے میں مجھ سے منسوب کرکے بیان کی جائے تو میرا فوری ردِعمل یہی ہوتا ہے کہ جس شخص کو اس سے تکلیف پہنچے یا پہنچ سکے۔اُس سے براہِ راست رابطہ کیا جائے ا ور اپنی یا اُس کی وضاحت کو سن کر وہیں یہ طے کر لیا جائے کہ اب دونو ں میں سے کوئی بھی اس خبر کو بنانے یا اُچھالنے والوں کی حوصلہ افزائی نہیں کرے گا اور کسی قسم کا جوابی بیان نہیں دے گا اس کا یہ مطلب نہیںکہ مشہور افراد سے متعلق دلچسپ باتوں یا واقعات کو سرے سے بیان ہی نہ کیا جائے یہ ایک ایسا معاشرتی حق ہے جسے ہر مہذب معاشرے میں تسلیم کیا جاتا ہے اور ہمیں بھی ایسا ہی کرنا چاہیے مگر اس میں عمومی حد ادب کا لحاظ رکھنا بھی ضروری ہے کہ ا س حق یا آزادی کا تعلق خوشدلی سے ہے کردار کشی سے نہیں۔

جہاں تک اس دلیل کا تعلق ہے کہ اس سے عوام خوش ، متوجہ یا متاثر ہوتے ہیں تو اُس کی جوابی دلیل یہ ہے کہ ایساکرنے کے لیے باقاعدہ پلاننگ کے ذریعے کسی بھی شعبے کے قومی ہیرو یا نمایندہ افراد کو ایک ایسی محبت میں گھسیٹنا جو باقاعدہ سازش کے ساتھ تفریح طبع کے نام پر آغاز کی گئی ہو کسی صورت بھی جائز نہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ اس طرح کے کاموں میں مصروف افراد اور ایسی حرکات سے لطف اندوز ہونے والے عوام کی ایک محدود اقلیت کو احساس دلایا جائے کہ یہ کوئی اچھا کام نہیں اور اس کے ساتھ ساتھ میڈیا کے ذمے دار کو بھی اس طرف متوجہ کیا جائے کہ وہ اپنے عملے میں موجود اس طرح کے فوری شہرت طلب اور غیر ذمے دار عناصر پر گہری نظر رکھیں اور اُنہیں اُن صحافتی آداب کی پابندی کا درس بھی دیں جس میں صرف اُن کی نہیں بلکہ معاشرے کے ہر فرد کی آزادی کا پاس اور احترام کیا جاتا ہو۔

بشکریہ ایکسپریس نیوز

 

یہ بھی دیکھیں

مائنس ون فارمولہ کی سیاسی حقیقت

تحریر:سلمان عابد پاکستان کی سیاست کی خوبی یہ ہے کہ اس میں بحران پیدا کرنا …