بدھ , 8 جولائی 2020

کیا عالمی قیادت ایشیاء کی طرف منتقل ہو رہی ہے؟

تحریر: ثاقب اکبر

کرونا کی وبا شروع ہونے کے چند ہفتے بعد ہی بہت سے دانشوروں کو یہ احساس ہوگیا تھا کہ کرونا کے بعد کی دنیا مختلف ہوگی، جوں جوں وقت گزرتا گیا، یہ خیال پختہ بھی ہوتا گیا اور اس پر یقین کرنے کے لیے شواہد بھی سامنے آنے لگے۔ تجزیہ کار شاہد افراز نے رونامہ جسارت میں شائع ہونے والے اپنے 11 مئی 2020ء کے ایک مقالے میں موجودہ صورت حال کے تناظر میں مستقبل کی شکل گیری کے حوالے سے لکھا: ’’سفارتکاری کے میدان میں شہرہ آفاق عالمی شخصیت، سابق امریکی وزیر خارجہ ہنری کسنجر کے مطابق عالمگیر وبا کووڈ۔19 کے بعد کی دنیا ایک "مختلف” دنیا ہوگی اور موجودہ "ورلڈ آرڈر” تبدیل ہو جائے گا۔ اگر نوول کورونا وائرس کی موجودہ تباہ کاریوں کو دیکھا جائے تو اُن کا یہ بیان حقائق کی روشنی میں بالکل درست معلوم ہوتا ہے۔ اس وقت عالمگیر وبا عمر، جنس، امیری، غریبی میں تفریق کیے بغیر ہر ایک کو نشانہ بنا رہی ہے اور انسانی نفسیات سے لے کر سماج و معیشت دونوں ہی اس کے نشانے پر ہیں۔ وبا کی سنگینی کو بلاشبہ دوسری عالمی جنگ کے بعد انسانیت کو درپیش سب سے بڑا چیلنج قرار دیا جاسکتا ہے۔ دنیا بھر میں صحت عامہ کے موضوع کو اس وقت کلیدی اہمیت حاصل ہوچکی ہے، جسے ماضی میں نظر انداز کیا گیا اور خمیازہ آج بھگتا جارہا ہے۔‘‘

اس دوران میں امریکا کے کردار پر بات کرتے ہوئے وہ مزید لکھتے ہیں: ’’کورونا وائرس کے سامنے امریکا بے بس نظر آیا، بلکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ عرصے میں تواتر سے سامنے آنے والے "مضحکہ خیز” بیانات سے تو لگتا ہے کہ امریکی قیادت "بوکھلاہٹ” کا شکار ہے۔ امریکی حلقوں کی جانب سے ٹرمپ انتظامیہ پر تساہل اور انسداد وبا کے لیے ناکافی اقدامات کے شکوے سامنے آئے۔ صدر ٹرمپ اپنا غصہ چین، عالمی ادارہ صحت، اپنی سیاسی حریف ڈیمو کریٹک پارٹی اور امریکی میڈیا پر نکالتے نظر آئے۔‘‘ چین اور امریکہ کے مابین لفظی تنازع اس دوران میں جاری رہا ہے اور اس سلسلے میں تجزیہ کار دونوں کے مابین موازنہ بھی کرتے رہے ہیں، ایک پاکستانی تجزیہ کار ہما یوسف نے ایک ہفتہ پہلے (20 مئی 2020ء کو) اپنے ایک مضمون میں کورونا کے دور میں امریکا اور چین کے کردار کا موازنہ کرتے ہوئے لکھا: ’’جہاں امریکا اور برطانیہ کو کورونا وائرس ٹیسٹنگ کے سلسلے کو وسعت دینے میں مشکلات کا سامنا ہے، وہیں چین نے ووہان کے ہر ایک شہری کا ٹیسٹ کرنے کا پلان پیش کر دیا ہے۔ چینی اخبارات روزانہ ان خبروں سے بھرے پڑے ہوتے ہیں کہ وائرس پر ضابطہ لانے کے لیے ان کی حکومت کے اختیار کردہ طریقے کو کس طرح پوری دنیا میں اختیار کیا گیا ہے۔

ایک طرف جہاں مغربی ممالک نے ایک دوسرے کو طبّی سامان کی ترسیل بند کر دی ہے، وہیں چین عالمی سورما بن کر ابھرا ہے اور چہرے کے ماسک، سانس لینے والے آلات اور وینٹی لیٹر کی پیداوار میں تیزی سے اضافہ کر رہا ہے اور انہیں پوری دنیا میں کھلے دل کے ساتھ تقسیم کرتا جا رہا ہے۔ سربیا کے صدر نے چین کے بدلتے تاثر کو اس وقت ثابت کر دیا، جب انھوں نے یورپی اتحاد کو ‘’پریوں کی کہانی” پکارتے ہوئے مسترد کر دیا اور چین کو وہ واحد ملک قرار دیا، جو ان کے ملک کے عوام کی معتبر انداز میں مدد کرسکتا ہے۔‘‘ ہما یوسف مضمون میں آگے چل کر اس وبا کا مقابلہ کرنے کے لیے امریکی صلاحیتوں سے یوں پردہ اٹھاتی ہیں: ’’ستم ظریفی تو دیکھیے کہ امریکا بھی جلد اہم طبّی سامان خریدنے کے لیے چین کا رخ کرے گا، کیونکہ اس وقت امریکا میں عالمی وبا سے نمٹنے کے لیے مطلوبہ ماسک کی تعداد کے مقابلے میں صرف ایک فیصد ماسک دستیاب ہیں اور سانس لینے والے آلات کی صورتحال بھی ایسی ہی ہے، جبکہ مطلوبہ وینٹی لیٹروں کے مقابلے میں صرف 10 فیصد وینٹی لیٹر دستیاب ہیں۔‘‘

امریکا کا دعویٰ البتہ یہی ہے کہ وہ کووڈ۔19 کے خلاف عالمی سطح پر قائدانہ کردار ادا کر رہا ہے، چنانچہ امریکہ کے وزیر خارجہ مائیکل آر پومپیو نے 20 مئی کو واشنگٹن میں محکمہ خارجہ میں تقریر کرتے ہوئے کہا: ’’دنیا کے کووڈ-19 کے خلاف ردعمل میں امریکہ بدستور قائدانہ کردار ادا کر رہا ہے۔ دنیا بھر میں اس عالمی وبا کا مقابلہ کرنے کے لیے امریکہ 10 ارب ڈالر سے زائد وقف کر چکا ہے۔‘‘ وزیر خارجہ مائیکل آر پومپیو نے مزید کہا: ’’(دنیا کا) ایسا کوئی ملک نہیں ہے، جس نے اس خوفناک وائرس سے نمٹنے میں اتنی مدد کی ہو، جتنی کہ امریکہ کرچکا ہے۔‘‘ شاید دنیا میں بہت سے تجزیہ کار اور عالمی حالات سے آگاہ افراد مائیکل پومپیو کے اس بیان پر صرف ہنس دیئے ہوں۔ عالمی سیاست پر نظر رکھنے والا کوئی شخص بھی اس امر کا انکار نہیں کرسکتا کہ عالمی سیاست میں بنیادی تبدیلی اس وقت رونما ہوگی، جب یورپ امریکا سے اپنی امیدیں منقطع کر لے گا اور شاید اب یہ مرحلہ آن پہنچا ہے، جس کے قدموں کی دھمک یورپی وزیر خارجہ جوزف بوریل کے ایک بیان میں سنائی دیتی ہے، جس میں انھوں نے کہا ہے کہ تاریخ میں کووڈ-19 کی وبا کو ایک فیصلہ کن موڑ کے طور پر دیکھا جائے گا، جب دہائیوں بعد امریکہ دنیا کی رہنمائی کرتا ہوا نظر نہیں آرہا تھا۔

بی بی سی کی ایک تازہ ترین ایک رپورٹ کے مطابق یورپی یونین کے وزیر خارجہ جوزف بوریل نے مزید کہا کہ ماہرین جس ’’ایشیائی صدی‘‘ کی آمد کی پیشگوئی کر رہے تھے، اس کا شاید کورونا کی وبا کے دوران ظہور ہوچکا ہے اور اب یورپی یونین کو اپنے مفادات کو سامنے رکھتے ہوئے چین کے حوالے سے ایک ٹھوس پالیسی بنانی ہوگی۔ جوزف بوریل نے پیر (25 مئی) کو جرمنی کے سفارت کاروں کی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تجزیہ کار کافی عرصے سے امریکہ کی سربراہی میں چلنے والے عالمی نظام کے خاتمے اور ایشیائی صدی کی آمد کا باتیں کر رہے تھے۔ یورپی یونین کے وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ اب یہ ہماری آنکھوں کے سامنے ہو رہا ہے اور ہم پر کسی ایک سائیڈ کا انتخاب کرنے کے لیے دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ ایسے شواہد ہیں کہ چین عالمی طاقت کے طور پر امریکہ کی جگہ لے رہا ہے اور یورپی یونین کو چین کے حوالے سے ایک مضبوط پالیسی طے کرنی ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ یورپی یونین کو اپنے مفادات اور اپنی قدروں کو سامنے رکھنا ہوگا اور کسی کا آلہ کار بننے سے بچنا ہوگا۔ انھوں نے کہا کہ یورپ کو ایک مشترکہ تزویراتی کلچر کو پروان چڑھانے کی ضرورت ہے، جو اس وقت اس کے پاس نہیں ہے۔

امریکہ اس صورت حال کا اعتراف کھلے بندوں کرے یا نہ کرے، خود صدر ٹرمپ کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ سے خوف زدہ ہیں۔ چنانچہ برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کو ایک انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا:
’’چین وہ سب کچھ کرے گا، جس سے میں انتخاب ہار جاؤں۔‘‘ بی بی سی کی ایک تجزیہ کار باربرا پلیٹ اشر نے لکھا ہے: ’’ٹرمپ کی انتخابی مہم میں امریکہ کی پھلتی پھولتی معیشت کو مرکزی نکتہ بنایا جانا تھا، لیکن اب ایسا ممکن نہیں رہا۔‘‘ کورونا وائرس کے دوران میں امریکہ عالمی قیادت کیا کرتا، وہ تو اپنے ملک میں ناکام ہوگیا ہے۔ چنانچہ باربرا پلیٹ اشر کا کہنا ہے: ’’رائے عامہ کے جائزوں سے ظاہر ہو رہا ہے کہ ٹرمپ بہت سی ریاستوں میں اپنی مقبولیت کھو رہے ہیں، کیونکہ کورونا وائرس کی وبا کو پھیلنے سے روکنے میں ناکامی پر ان کے خلاف تنقید بڑھتی جا رہی ہے۔‘‘ اپنے تجزیے کے آخر میں وہ لکھتی ہیں: ’’اب انتخابات کے درمیان میں چین کو گھسیٹا جا رہا ہے، وہ بھی اس وقت جب ووٹر ناراض ہیں اور انھیں معاشی پریشانیاں لاحق ہیں۔ نومبر تک ووٹروں کی ناراضگی مزید بڑھ چکی ہوگی اور اورہ غربت کی دلدل میں مزید دھنس چکے ہوں گے۔ ایسے وقت میں ان کے ووٹ بتائیں گے کہ وہ کس کو الزام دیتے ہیں۔‘‘

امریکی صدر ٹرمپ کی چین پر مسلسل تنقید کے جواب میں چینی ترجمان کاو نے دارالحکومت بیجنگ میں منعقدہ ہنگامی اجلاس میں کہا تھا: ’’ٹرمپ نے عالمی ادارہ صحت کے بارے میں جاری کردہ بیانات سے رائے عامہ کو غلط سمت میں موڑ کر چین کی کووِڈ۔19 کے خلاف جدوجہد کو مسخ کرنے اور امریکہ کی وبا کے خلاف جدوجہد میں ناکامی کو ڈھانپنے کی کوشش کی ہے۔‘‘ چین اور امریکہ کے مابین لفظی، معاشی اور تزویراتی جنگ میں برطانیہ امریکا کے ساتھ ہے، جبکہ یورپی یونین کا نقطہ نظر اور آئندہ کی حکمت عملی برطانیہ سے مختلف دکھائی دیتی ہے۔ چین کے بارے میں حالیہ آویزش میں برطانوی ادارے جس طرح کے تجزیات پیش کر رہے ہیں، انھیں سمجھنے کے لیے ڈائچے ویلے کی ایک رپورٹ کے کچھ حصے ملاحظہ کیجیے: ’’برطانوی خفیہ انٹیلی جنس ایجنسی ایم سولہ کے سابق سربراہ جان سیورز کا کہنا ہے کہ مغربی ٹیکنالوجی کو چینی کمپنیوں سے بچانا بہت ضروری ہوگیا ہے۔ اسکائی نیوز چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے انھوں نے مزید کہا کہ اس کو سرد جنگ کے دور میں سابقہ سوویت یونین کے خطرے کے طور پر نہیں لیا جا سکتا، لیکن ٹیکنالوجی پر کنٹرول کے حصول کی مسابقت شدید ہو رہی ہے۔

برطانیہ کے سابق انٹیلی جنس سربراہ کے بیان کے ساتھ ساتھ ایسی رپورٹیں بھی سامنے آئی ہیں کہ برطانیہ ہی کی سیمی کنڈکٹر چِپ ڈیزائنر کمپنی اِمیجینیشن ٹیکنالوجی اپنا دفتر چین منتقل کرنے کی سوچ رکھتی ہے۔ اس کمپنی کو سن 2017ء میں ایک ایسی پرائیویٹ ایکوئٹی نے خریدا تھا، جسے چینی حکومت کی حمایت حاصل تھی۔ یہ امر اہم ہے کہ امریکی صدر کی انتظامیہ بھی ایسے ہی خدشات اپنے یورپی پارٹنرز پر واضح کرتی چلی آرہی ہے۔ ان امریکی خدشات کا تعلق خاص طور پر چین کی بڑی ٹیلی موبائل کمپنی ہواوے کے یورپی براعظم میں فائیو جی نیٹ ورک منصوبے کے حوالے سے ہے۔ دوسری جانب یورپی ممالک کے چین کے ساتھ اقتصادی روابط ایک ایسے دور میں بھی آگے بڑھ رہے ہیں جب معاشی گراوٹ کی فضا پیدا ہو چکی ہے۔ اس تناظر میں یورپی یونین اور مغربی دفاعی اتحاد نیٹو نے متنبہ کیا ہے کہ وہ اُس چینی سلسلے کو روکیں جس کے تحت اہم یورپی کمپنیوں کو خریدا جا رہا ہے۔‘‘ یہ امر واضح ہے کہ برطانیہ یورپی یونین سے نکل چکا ہے۔ اب یورپی یونین پر اس کا پہلے جیسا اثر و رسوخ نہیں رہا۔ یورپی یونین کے وزیر خارجہ کے مذکورہ بالا حالیہ بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ انھوں نے اپنی حکمت عملی تبدیل کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ البتہ اس کے لیے انھیں احتیاط سے قدم آگے بڑھانا ہوں گے، چونکہ یونین کے بڑے بڑے ممالک نیٹو کا حصہ ہیں۔ فوجی اتحاد نیٹو کا سرپرست امریکا ہے۔ تاہم کیا امریکا یورپ کے دفاع کے لیے آئندہ کوئی ذمہ داری اٹھانے کے قابل ہے یا نہیں؟

اسی سوال کے جواب میں یورپ اور امریکا نیز یورپ اور چین کے مستقبل کے تعلقات کا انحصار ہے۔ گذشتہ چند مہینوں میں امریکی فوجی طاقت کو بہت سے دھچکے لگے ہیں، جس کی وجہ سے اُس کی دفاعی صلاحیتیں مشکوک ہوگئی ہیں۔ امریکہ کے بیشتر بحری بیڑوں میں کرونا کی وبا نے داخل ہو کر امریکی سیلرز کو بری طرح سے متاثر کیا ہے۔ پینٹا گون نے ہدایات جاری کیں کہ کرونا کا شکار ہونے والے امریکی فوجیوں کے بارے میں خبریں نشر نہ کی جائیں۔ سعودی عرب کو بھی امریکہ کی زوال پذیر فوجی طاقت کا اندازہ ہوچکا ہے۔ جنرل قاسم سلیمانی اور مہندس ابو المہدی کی شہادت کے بعد ایران نے جس طرح سے امریکہ سے اعلانیہ بدلہ لیا، اس سے امریکا کے فوجی عزم کی کمزوری ظاہر ہوئی ہے۔ حال ہی میں ایرانی تیل بردار جہاز امریکہ کی دھمکیوں کے باوجود وینز ویلا میں جا پہنچے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی طاقت کے غبارے سے ہوا نکلنا شروع ہوچکی ہے۔ ایسے میں کیا یورپی یونین اپنے دفاع کے لیے امریکہ پر انحصار کرسکتا ہے، علاوہ ازیں یہ سوال بھی اہم ہے کہ کیا یورپی یونین کو دنیا کی کسی طاقت سے حقیقی خطرہ ہے بھی یا نہیں۔ شاید بہت جلد یورپی یونین اس نتیجے پر جا پہنچے کہ اسے سب سے بڑا خطرہ خود امریکہ سے ہے، جس کے لیے اسے دنیا کی دیگر طاقتوں کے ساتھ فوجی معاملات میں پیش رفت کرنا ہوگی۔ اس صورت حال کے جواب میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ حالات چغلی کھا رہے ہیں کہ مستقبل میں عالمی قیادت ایشیا کی طرف منتقل ہونے جا رہی ہے۔

بشکریہ اسلام ٹائمز

یہ بھی دیکھیں

مائنس ون فارمولہ کی سیاسی حقیقت

تحریر:سلمان عابد پاکستان کی سیاست کی خوبی یہ ہے کہ اس میں بحران پیدا کرنا …