بدھ , 8 جولائی 2020

فلسطین کے موضوع پر ایک اور نصیحت

اداراتی نوٹ
رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے یوم القدس کے موقع پر جو تاریخی خطاب کیا ہے اُس کی گونج بدستور عالمی حلقوں میں سنائی جا رہی ہے۔ فلسطینی تنظیموں کیطرف سے بھی ہر روز ایک نئے زاوئیے سے تائید و تحسین نظر آ رہی ہے۔ فلسطینی تنظیمیں رہبر انقلاب اسلامی کے اس خطاب کو اپنے لیے لائحہ عمل اور روڈ میپ قرار دے رہی ہیں۔ فلسطینی تنظیموں کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس خطاب نے فلسطینی تحریک کو ایک نئی زندگی عطا کر دی ہے اور اس خطاب میں رہبر انقلاب اسلامی نے جس یقین کے ساتھ یہ کہا ہے کہ غاصب صیہونی حکومت کا اختتام اور زوال یقینی ہے اور اس نے برباد ہونا اور صفحہ ہستی سے ضرور مٹنا ہے۔ رہبر انقلاب کا یہ ارشاد روشنی کی ایک کرن ہے، جس نے فلسطین کے ان بچوں کو بھی پُراُمید کر دیا ہے جو اپنے گھروں میں یا اسرائیلی حملوں کی زد میں اسکولوں یا ابتدائی سطح کے تعلیمی اداروں میں تعلیم و تربیت میں مشغول ہیں۔

فلسطینی عوام کیطرف سے رہبر انقلاب اسلامی کے اس خطاب کا خیر مقدم بہت سی عالمی اور علاقائی حکومتوں کو انتہائی ناگوار گزر رہا ہے۔ رہبر انقلاب اسلامی نے اپنے تاریخی خطاب میں ترتیب کے لحاظ سے جو چوتھی نصیحت کی ہے اُس پر خصوصی توجہ کی ضرورت ہے۔ آپ نے یہ بات کھل کر بیان کی ہے کہ امریکی و صیہونی سیاست کا ھدف جنگ کو مزاحمتی محاذ کے پیچھے منتقل کرنا ہے اور مزاحتمی محاذ کو مصروف رکھنے اور اسکی توجہ منحرف کرنے کے لیے انہیں داخلی جنگوں اور جھگڑوں میں مشغول کرنا ہے تاکہ اُن کی توانائیاں اسرائیل کی بجائے ایک دوسرے کو نیچا دکھانے میں صرف ہو جائیں۔ رہبر انقلاب اسلامی نے اس کی مثال داعش کی سرگرمیوں کی صورت میں بیان کی ہے۔

آج یہ بات روزِ روشن کی طرح واضح ہو رہی ہے کہ عراق و شام میں داعش کو لانچ کرنے کا بڑا ھدف مزاحمتی محاذ کو باہمی اور آپسی جنگ میں مشغول کرنا تھا۔ لبنان، ایران، شام، عراق اور دیگر ملکوں کے مجاہدین کو داعش کے ساتھ جنگ میں مصروف کر دیا گیا اور اس دوران غاصب اسرائیل کیطرف توجہ کم ہو گئی۔ داعش کے خاتمے کے لیے جو توانائیاں خرچ ہوئیں اگر غاصب اسرائیل کے خلاف صرف ہوتیں تو آج اسرائیل سنچری ڈیل جیسے منصوبوں اور غرب اردن کی زمینوں کو ہڑپ کرنے کے ناپاک ارادوں کا اعلان کرنے کی جرات نہ کرتا۔ رہبر انقلاب نے اپنی اس نصیحت میں واضح کر دیا ہے کہ فلسطین کی آزادی کے لیے ہمیں باہمی جھگڑوں اور داعش جیسی سازشوں کا ادراک کر کے اس کے خاتمے کیلئے میدان عمل میں آنا ہوگا۔

یہ بھی دیکھیں

مائنس ون فارمولہ کی سیاسی حقیقت

تحریر:سلمان عابد پاکستان کی سیاست کی خوبی یہ ہے کہ اس میں بحران پیدا کرنا …