بدھ , 8 جولائی 2020

کیا کورونا حقیقت نہیں فسانہ ہے؟

تحریر:محمد بلال غوری

’’کورونا محض ڈرامہ ہے اورحکومت اس کی آڑ میں عالمی امداد سمیٹنا چاہ رہی ہے‘‘۔اگرچہ بڑے شہروں میں بھی کسی حد تک یہ مفروضہ زیر گردش ہے لیکن اسلام آباد، لاہور اور کراچی سے باہر نکل کر دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اس مفروضے اور تاثر کو حقیقت سے کہیں زیادہ اہمیت حاصل ہے۔

والدہ کے پاس عید کے چار دن گزارنے کیلئے جنوبی پنجاب جانا ہوا تو یوں لگا جیسے کورونا نے بھی ہمارے اربابِ اقتدار و اصحاب اختیار کی طرح اس خطے کو نظر انداز کر رکھا ہے۔ کہیں کوئی شخص ماسک پہنے دکھائی دے تو لوگ اسے یوں گھور کر دیکھتے ہیں جیسے خلائی مخلوق سے آمنا سامنا ہو رہا ہو۔ سماجی فاصلے کا تصور عنقا ہے اور لوگ روایتی انداز میں ’’جپھی‘‘ ڈال کر گلے ملتے اور مصافحہ کرتے ہیں اور کوئی ایک شخص بھی ایسا نہیں ملا جس نے مصافحہ کرنے کے بعد سینی ٹائزر سے ہاتھ صاف کیے ہوں۔

نمازِ عید کی ادائیگی کیلئے جانا ہوا تو ایمان کی حرارت والے نمازی کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے نظر آئے اور لگ بھگ دو ہزار کے مجمع میں کوئی ایک شخص بھی ایسا دکھائی نہیں دیا جس نے ماسک پہن رکھا ہو۔ میں نے گھر سے نکلتے ہی ماسک پہن رکھا تھا کیونکہ اس کے دو فائدے ہیں، ایک تو آپ کورونا کی زد سے محفوظ رہتے ہیں اور دوسرا لوگ پہچان نہیں پاتے اس لئے مصافحہ کرنے سے انکار کرکے آپ کسی کی دل آزاری کے مرتکب نہیں ہوتے۔

لیکن ماسک کی وجہ سے لوگ مجھے یوں مشکوک نظروں سے دیکھ رہے تھے جیسے ان سب میں اکیلا میں ہی کورونا کا مشتبہ مریض ہوں۔ بھلے چنگے پڑھے لکھے افراد سے بات چیت ہوئی تو انہوں نے پورے وثوق کیساتھ کہا کہ الحمدللہ یہاں کورونا کا نام و نشان تک نہیں۔

میں نے پوچھا، حضور! آپ کے ہاں کتنے ٹیسٹ ہوئے ہیں؟ جواب ملا، ایک بھی نہیں یا بعض شہروں میں علامتی طور پر چند ایک۔ میں نے سوچا اگر کورونا سے بچنے کا یہی طریقہ ملکی سطح پر بروئے کار لایا جاتا اور ٹیسٹ ہی نہ کیے جاتے تو ہم چھاتی چوڑی کرکے کہہ سکتے کہ الحمدللہ پاکستان دنیا کا وہ واحد ملک ہے جو کورونا سے پاک ہے۔

تشکیک کا مرض اس حد تک وبا کی شکل اختیار کر چکا ہے کہ بعض سینئر ڈاکٹر بھی رازدارانہ انداز میں پوچھتے رہے کہ آپ تو میڈیا سے ہیں، اندر کی خبر بتائیں، کیا واقعی حکومت جان بوجھ کر کورونا کے مریضوں کی تعداد بڑھا چڑھا کر پیش کر رہی ہے؟ میں نے عرض کیا، یہ تو ممکن ہے کہ حکومت دانستہ یا غیر دانستہ طور پر غلط فیصلے کرکے کورونا کے مریضوں کی تعداد میں اضافے کا باعث بن رہی ہو، ایسا بھی ممکن ہے کہ ہمارے ہاں ٹیسٹوں کی ایکوریسی سو فیصد نہ ہونے کی وجہ سے بعض ایسے افراد کا ٹیسٹ بھی پازیٹیو آ جاتا ہو جن کو کورونا نہیں بلکہ عام نزلہ زکام یا بخار کے باعث اینٹی باڈیز ظاہر ہو رہی ہیں مگر یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ریاستی سطح پر اتنی بڑی جعلسازی کی جا رہی ہو؟

سیکڑوں ٹیکنیشن جو یہ کام کر رہے ہیں، اگر ان سے جھوٹی رپورٹیں بنوائی جا رہی ہوتیں تو کوئی ایک آدھ تو ضمیر کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے یہ راز فاش کرتا۔ بہاول وکٹوریہ ہاسپٹل بہاولپور، جنوبی پنجاب کا دوسرا بڑا ہاسپٹل ہے۔ انتہائی قریبی عزیز کو پیش آئے ٹریفک حادثے کے باعث یہاں چند روز گزارنے کا اتفاق ہوا تو اسپتال کی ناگفتہ بہ صورتحال پر شدید تشویش لاحق ہوئی۔

سہولتوں کی عدم دستیابی کا یہ عالم کہ شعبہ حادثات میں مریضوں کو منتقل کرنے کیلئے معقول تعداد میں اسٹریچر اور وہیل چیئرز دستیاب نہیں۔ ضرورت کے پیش نظر عام کرسیوں کے نیچے گھومنے والے پہیے لگا کر کام چلایا جا رہا ہے اور اسٹریچر بھی دیسی انداز میں خود تیار کیے گئے ہیں۔ اسپتال کے ایم ایس میاں عزیز بھلے آدمی معلوم ہوئے مگر شاید وسائل کی عدم دستیابی کے باعث اس صورتحال کا سامنا ہے۔

شعبہ حادثات اور دیگر وارڈز میں ڈاکٹر بغیر حفاظتی کٹس اور N95ماسک کے کام کر رہے ہیں۔ میں نے بیسیوں ڈاکٹروں سے سوال کیا کہ حکومت کے مطابق آپ سب کو ماسک اور حفاظتی کٹس فراہم کی گئی ہیں تو یہ کیا ماجرا ہے؟ بتایا گیا کہ کٹس تو صرف ان ڈاکٹروں کو دی گئی ہیں جو کورونا وارڈ میں ڈیوٹی کر رہے ہیں مگر باقی ڈاکٹروں کو ایک ایک ماسک دیا گیا تھا اور ایک ماسک کتنے دن چلایا جا سکتا ہے۔ اور باقی رہا نرسنگ اسٹاف اور درجہ چہارم کے ملازمین تو وہ اللہ توکل پہ کام کر رہے ہیں۔

کوئی ڈاکٹر خواہ کسی بھی وارڈ یا شعبے میں کام کر رہا ہو، کورونا سے متاثر ہو سکتا ہے اور اسے بغیر حفاظتی کٹ کے ڈیوٹی کرنے پر مجبور کرنا ایسے ہی ہے جیسے کسی فوجی کو بلٹ پروف جیکٹ اور دیگر ضروری ساز و سامان فراہم کیے بغیر محاذ پر بھیج دیا جائے۔

سوال یہ کہ کورونا سے متعلق اس طرح کے شکوک وشبہات کیوں پیدا ہوئے اور لوگ کیوں یہ یقین کرنے کو تیار نہیں کہ کورونا کی وبا ایک حقیقت ہے اور اسے سنجیدگی سے نہ لینے کے نتائج انتہائی خطرناک ہو سکتے ہیں؟ جب بڑے عہدوں پر بیٹھے متلون مزاج لوگ اوٹ پٹانگ فیصلے کریں گے اور غیر سنجیدہ نوعیت کے بیانات دیے جائیں گے تو عوام سے سنجیدگی کی توقع کیسے کی جا سکتی ہے؟

سچ تو یہ ہے کہ خود حکومتی شخصیات نے متضاد باتیں اور عجیب و غریب فیصلے کرکے کورونا سے متعلق ریاستی بیانیے کو مذاق بنا دیا ہے۔ اب صورتحال یہ ہے کہ کورونا کا ذکر آتے ہی لوگ قہقہہ لگاتے ہوئے پوچھتے ہیں کہ کہاں ہے کورونا؟ ہماری گلی، ہمارے محلے اور ہمارے شہر میں تو اب تک کوئی نہیں مرا کورونا سے۔ لیکن حکومت نے عید سے پہلے لاک ڈائون ختم کرکے جس طرح بازار اور شاپنگ مال ہی نہیں مزارات اور ٹرانسپورٹ سمیت سب کچھ کھول دیا، اس سے یوں لگتا ہے جیسے موت کے راستے میں کھڑی رکاوٹیں دور کر دی گئی ہیں اور اب شاید ان لوگوں کی خواہش پوری ہو جائے جو چاہتے تھے کہ ان کے پڑوس میں، قریبی عزیزوں اور دوستوں میں کورونا کا مرض پھیلے تاکہ انہیں یقین آئے کہ واقعی کورونا افسانہ نہیں حقیقت ہے۔خدا خیر کرے مگر خاکم بدہن مجھے لگتا ہے کہ آئندہ چند روز میں اس غیر سنجیدگی کے نہایت خوفناک نتائج سا منے آنا شروع ہو جائیں گے۔

بشکریہ جیو نیوز

یہ بھی دیکھیں

مائنس ون فارمولہ کی سیاسی حقیقت

تحریر:سلمان عابد پاکستان کی سیاست کی خوبی یہ ہے کہ اس میں بحران پیدا کرنا …