ہفتہ , 11 جولائی 2020

سعودی حکومت نے محمد بن سلمان عرف ’’ابو منشر ‘‘ کی مبینہ ’توہین‘ کرنے والی خاتون کو گرفتار کرلیا

ریاض: انسانی حقوق گروپوں نے ایک سعودی خاتون کی حفاظت کے لئے خدشات کا اظہار کیا ہے جسے مبینہ طور پر سوشل میڈیا پر سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان (ایم بی ایس) کی "توہین” کے بعد گرفتار کیا گیا تھا۔ سعودی حکومت نے الزام لگایا ہے کہ  جدہ کے رہائشی 40 سالہ عمانی الزین  نے گزشتہ سال کے آخر میں ایک مصری سماجی کارکن کے ساتھ براہ راست ویڈیو چیٹ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کو مبینہ طور پر تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ’’ابو منشر‘‘ کہا تھا۔ یاد رہے استنبول میں سعودی مملکت کے قونصل خانے میں سرکاری ایجنٹوں کے ذریعہ سعودی صحافی جمال خاشوگی کے قتل اور ان کے ٹکراؤ کے بعد ولی عہد شہزادہ "ابو منشر” کے نام سے مشہور ہوا تھا۔

بدھ کے روز ، سعودی عرب میں سیاسی گرفتاریوں سے باخبر رہنے والے ایک ٹویٹر اکاؤنٹ نے یہ رپورٹ کیا کہ عمانی الزین کو حراست میں

لیا گیا تھا۔ بیروت میں قائم ایڈوکیسی گروپ برائے خلیجی سنٹر برائے انسانی حقوق (جی سی ایچ آر) نے بھی اس خبر کی تصدیق کی ہے۔ "جی سی ایچ آر نے امانی الزائن سمیت دیگر قیدیوں کے خلاف مظالم بند کرنے اور ان کو فوری رہا کرنے کا مطالبہ کیا ہے

بعدازاں بدھ کے روز ، جنیوا کونسل برائے رائٹس اینڈ لبرٹیز نے سعودی حکام سے الزائن کو رہا کرنے کا مطالبہ کیا۔ "جنیوا کونسل فار رائٹس اینڈ لبرٹیز نے آزادی اظہار کے حق کے خلاف گرفتاریوں کی مہمات کو فوری طور پر ختم کرنے اور سعودی حکام سے اپنے مطالبے کی تجدید کی۔ اس گروپ نے عربی زبان میں ایک بیان میں کہا ۔الزائن کی سوشل میڈیا سرگرمی 16 مئی کو رک گئی۔ جی سی ایچ آر کے مطابق ، انہیں 17 مئی کو حراست میں لیا گیا تھا۔

وہ فیس بک اور ٹویٹر دونوں پر سرگرم رہتی تھی ، روزانہ زیادہ تر طرز زندگی اور ادب کے بارے میں روزانہ کئی پوسٹ شائع کرتی تھی۔ جب بھی وہ سیاست سے خطاب کرتی تھیں ، وہ بڑے پیمانے پر سعودی عرب کے حمایتی رائے پر اظہار خیال کرتی تھیں۔ درحقیقت ، انھوں نے گرفتاری سے کچھ دن قبل قطر اور ترکی کے رہنماؤں کے خلاف متعدد ٹویٹس شیئر کیں ، اور علاقائی تنازعات پر ریاض کے نقطہ نظر  پر بھی تنقید کی۔ مصری سماجی کارکن  کے ساتھ ویڈیو چیٹ میں ، الزائن ہنستے ہوئے دکھائی دیتی ہے جب مصری کارکن نے کہا کہ وہ ایم بی ایس سے محبت کرتا ہے اور اس نے مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ سعودی ولی عہد شہزادہ اسے تیل میں ڈبو دے گا۔ مصری سماجی کارکن نے کہا کہ وہ اس لیے محمد بن سلمان سے خوفزدہ ہے۔

ویڈیو گذشتہ اکتوبر میں ریکارڈ کی گئی تھی ، لیکن اس ماہ اس یہ ویڈیو وائرل ہوئی جس کے بعد ہیش ٹیگ کے ساتھ "امانی الزائن نے ولی عہد شہزادے کی توہین کی” کے ٹائٹل کے ساتھ امانی الزائن کے خلاف ٹوئیٹر پر مہم چلائی گئی۔ حکومت کے حامی ٹویٹر صارفین نے بھی امانی الزائن کے خلاف چلائی جانے والی مہم کو جب ٹاپ ٹرینڈ میں دیکھا تو اس کی مذمت کی۔

یہ یاد رہے  ایم بی ایس اپنے مخالفین کے خلاف سخت ایکشن اور ظلم و جبر کرنے کے حوالے سے دنیا میں ابو منشر کے نام سے مشہور ہے انہوں نے ہزاروں سعودیوں کو اپنی توہین کے نام پر حراست میں لیا ہے اور ام لئ اثاثئ چھین لیے گئے ہی اور بہت ساروں کو تو بے دردی سے قتل کر دیا گیا ہے جن میں جمال خاشقجی سر فہرست ہے جن کے قتل کی پوری دنیا نے مذمت کی۔ دنیا بھر کی سماجی اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے ریاض سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ وہ امانی الزائن سمیت دیگر خواتین کے حقوق کا خیال کریں اور ان کو رہا کریں

 

 

 

 


					
									

یہ بھی دیکھیں

لیبیا میں غیرملکی مداخلت کا سلسلہ بند ہونا چاہیے: اقوام متحدہ

لیبیا میں بحران کے خاتمے کے حل کی تلاش کی مساعی میں اقوام متحدہ کے …