بدھ , 8 جولائی 2020

حضرت عمر بن عبدالعزیز کے مزار کی شہادت کی جھوٹی خبر اور خارجی فکر

تحریر: ڈاکٹر ندیم عباس

عرب سوشل میڈیا پر ایک جھوٹی مہم چلائی گئی کہ دیر سعمان میں حضرت عمر بن عبدالعزیز کے مزار کی بیحرمتی کی گئی ہے اور ان کی قبر تک کو اکھاڑ لیا گیا ہے۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز کا بوجوہ مسلم امہ میں بہت احترام کیا جاتا ہے، ان کے بعض اقدامات کی بہت ہی تحسین کی جاتی ہے۔ عرب سوشل میڈیا سے یہ غیر معروف انگریزی میڈیا میں داخل کی گئی، جہاں سے پاکستانی سوشل میڈیا ورکرز نے اٹھائی اور کل شام تک یہ کافی پھیل چکی تھی۔ جنگ میں بہت سے ناپسندیدہ اقدامات ہوتے ہیں اور سچ پوچھیں تو جنگ اسی لیے قابل نفرت ہے کہ اس میں کیے گئے اکثر اقدامات ناپسندیدہ ہی ہوتے ہیں۔ اس خبر کے ساتھ یہ لاحقہ لگانا ضروری خیال کیا گیا کہ یہ کام ایران کی پشت پناہی میں کام کرنے والی تنظیم نے کیا ہے۔

وطن عزیز کے فرقہ پرستوں نے عوام میں موجود حساسیت سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی کہ شیعوں نے یہ کیا ہے اور وہ ایسا ہی کرتے ہیں۔ کسی نے تحقیق کی نہ تو کوشش کی اور نہ ہی اسے ضروری خیال کیا، کیونکہ مدمقابل کے خلاف جھوٹ ثواب سمجھ کر پھیلایا جاتا ہے۔ ویسے افواہ کے ذریعے ایسے ایسے فوائد حاصل کیے جاتے ہیں، جو اصل واقعات سے بھی حاصل نہیں ہوتے۔ فرقہ واریت ایسا ہتھیار ہے، جو پچھلے کچھ عرصے سے خوارج اور ان کے سرپرست بہت زیادہ استعمال کر رہے ہیں۔ جب زمینی صورتحال ان کے خلاف جانے لگتی ہے تو کوئی ایسا پتہ کھیلتے ہیں، جس سے سادہ لوح مسلمان بہت جلدی متاثر ہو جاتے ہیں۔ شام کی عملی صورتحال یہ ہے کہ کرد علاقوں اور ترکی کے بارڈر کے کچھ علاقے کو چھوڑ کر سب اہم شہروں پر شامی افواج کا قبضہ ہوچکا ہے۔

سوفٹ وار کے طور پر حضرت عمر بن عبدالعزیز کے مزار کی بے حرمتی  کے غیر تصدیق شدہ واقعہ کا سہارا لیا گیا، جس کی تصدیق نہیں ہوسکی، جو کسی معتبر سائیٹ پر نہیں آیا۔ کچھ لوگ یقیناً سوچ رہے ہوں گے کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ خوارج ایسے شخص کی قبر کو گرائیں، جسے وہ بظاہر ہیرو سمجھتے ہوں؟ جی خوارج ہمیشہ سے ایسا کرتے آئے ہیں، زیادہ عرصہ نہیں ہوا کہ انہوں نے ایسی ہی ایک واردات پاکستان میں بھی کی تھی۔ محرم الحرام کا جلوس جب راجہ بازار پہنچا، وہاں موجود ایک مدرسے کو آگ لگا دی گئی۔ لوگوں کی اکثریت یہ سمجھ رہی تھی کہ جلوس والوں نے مخالف مسلک ہونے کی وجہ سے مدرسہ کو جلا دیا ہے۔ وطن عزیز کے سکیورٹی اداروں نے اس واقعہ پر دن رات کام کیا اور اس واقعہ میں ملوث اصل افراد کو گرفتار کر لیا۔ جب ان کی پریس کانفرنس سنائی گئی تو عجیب حقائق سامنے آئے کہ خارجی فکر کے لوگوں نے خود مدرسہ پر حملہ کیا، کئی لوگوں کو مارا کہ الزام مخالف مسلک پر لگا سکیں۔ اس سے پاکستان میں فرقہ واریت بڑھے گی، جس سے پاکستانی افواج ان کے خلاف پوری تندی سے آپریشنز نہ کرسکیں گی۔

ویسے تو یہ واقعہ سرے سے مشکوک ہے، اگر اس میں تھوڑی بہت صداقت بھی فرض کی جائے تو بھی یہ انہی خوارج کی کارروائی ہے، جو زمینی طور پر تو شکست کھا چکے ہیں، اب ایسے ہتھکڈوں کے ذریعے فرقہ واریت پھیلا کر اپنے مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ شیعہ مزارات بنانے والے ہیں گرانے والے نہیں ہیں۔ تقریباً سو سال پہلے جس فکر نے اصحاب رسولﷺ اور خاندان پیغمبرﷺ کے مزارات پر بلڈوزر چلا دیئے تھے اور جو آج تک اس پر فخر کرتے ہیں، فقط وہی ایسے لوگ ہیں، جو دنیا میں کہیں بھی صحابہ، اہلبیتؑ اور اولیاء اللہ کے مزارات کے ساتھ یہ سلوک کریں۔ شام میں ہی حضرت حجر بن عدی بن حاتم کے مزار کو شہید کیا گیا اور قبر تک کو کھودا گیا، اسی طرح خاتم الانبیاء ﷺ کی نواسی کے مزار پر راکٹ حملوں سے لے کر خودکش حملے تک کیے گئے۔ یہ شام کی ریاستی پالیسی بھی نہیں ہے، کیونکہ بنو امیہ کے بڑوں کی قبریں دمشق میں موجود ہیں اور کسی نے انہیں نہیں گرایا۔

ویسے اس بار انہوں نے پروپیگنڈا کے لیے جس شخصیت کا انتخاب کیا ہے، اس میں ان سے چوک ہوگئی ہے۔ ان کے خیال میں شیعہ سب بنو امیہ کی آنکھیں بند کرکے مخالفت کرتے ہیں، اس لیے جب یہ تصاویر میڈیا پر جائیں گے تو فرقہ وارانہ بحث شروع ہو جائے گی۔ شیعہ حضرت عمر بن عبدالعزیز کا ذکر ہمیشہ احترام سے کرتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے امیر المومنین حضرت علیؑ کے خلاف ریاستی سرپرستی میں منبروں سے جاری سب و شتم کے سلسلے کو بند کرا دیا اور حکم دیا کہ خطیب اس کی جگہ قرآن مجید کی یہ آیت پڑھا کریں: إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالإِحْسَانِ وَإِيتَاء ذِي الْقُرْبَى وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاء وَالْمُنكَرِ وَالْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ(سورۃ النحل:۹۰) "یقیناً اللہ عدل اور احسان اور قرابتداروں کو (ان کا حق) دینے کا حکم دیتا ہے اور بے حیائی اور برائی اور زیادتی سے منع کرتا ہے۔ وہ تمہیں نصیحت کرتا ہے شاید تم نصیحت قبول کرو۔” اس سے محبین امام علیؑ کے دلوں کو ٹھنڈ پڑی اور حضرت عمر بن عبدالعزیز کا دوسرا کام فدک بنی فاطمہؑ کو دینا تھا۔ امام محمد باقرؑ نے انہیں نجیب بنی امیہ خطاب کیا ہے۔

حد تو یہ ہے کہ صرف مخالف مسلک کی مخالفت میں وہ بھی لوگ بھی مزار کی بے حرمتی پر رو رہے ہیں کہ رہے رب کا نام۔ ہم جانتے ہیں کہ بہت سے لوگ جو سرے سے مزارات کے خلاف ہیں اور ہمیشہ ہم سے یہ بحث کرتے ہیں کہ ائمہ اہلبیتؑ اور دیگر اولیاء اللہ کے مزارات کو گرا دینا چاہیئے، قبر پر تعمیرات کو شرک و کفر گردانتے  ہیں، ان کی اسلام نے کسی صورت میں اجازت نہیں دی ہے۔ آج وہ لوگ بڑے دھڑلے سے حضرت عمر بن عبدالعزیز کا مزار گرانے پر مرثیہ خواں ہیں۔ ویسے سچ پوچھیں تو مجھے بہت خوشی ہو رہی ہے کہ مزارات بنانا، اولیاء اللہ کے ایام منانا اور ان کے ذکر کو عام کرنا عامۃ المسلمین میں رائج عمل ہے۔ یوم ولادت باسعادت خاتم الانبیاء حضرت محمدﷺ کی ولادت کا دن پوری امت بڑے شوق سے مناتی ہے، لگ یوں رہا ہے کہ سب اسی سمت بڑھ رہے ہیں۔

بشکریہ اسلام ٹائمز

یہ بھی دیکھیں

مائنس ون فارمولہ کی سیاسی حقیقت

تحریر:سلمان عابد پاکستان کی سیاست کی خوبی یہ ہے کہ اس میں بحران پیدا کرنا …