اتوار , 5 جولائی 2020

امریکہ کو خطے میں آنے کی اجازت دینا اسٹریٹیجک غلطی ہے: وزیر دفاع

ایران کے وزیر دفاع نے خلیج فارس کے علاقے میں بدامنی کی بابت سخت خبردار کرتے ہوئے اسکی امن و سلامتی کا اصل ذمہ دار علاقائی ممالک کو قرار دیا۔بندرعباس میں زیر تعمیر جنگی جہازوں کے معائنے کے موقع پر صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے وزیر دفاع جنرل امیر حاتمی نے کہا کہ اگر خلیج فارس میں امن رہے گا تو خطے کے تمام ممالک کو اس کا فائدہ پہنچے گا اور اگر خلیج فارس میں بدامنی پھیلی تو پھر خطے کا کوئی بھی ملک اس بدامنی سے محفوظ نہیں رہے گا۔

ایران کے وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ خلیج فارس کے ساحلی ممالک ہی اس علاقے کی سلامتی اور امن کے ذمہ دار ہیں اور ہمسایہ ممالک کی جانب سے امریکہ کو خطے میں آنے کی اجازت دینا اسٹریٹیجک غلطی ہے۔جنرل امیر حاتمی نے واضح کیا کہ پچھلی ایک صدی کے تجربات سے اس بات کی نشاندھی ہوتی ہے کہ بیرونی طاقتوں نے قیام امن کے نام پر اس علاقے میں بدامنی اور بحرانوں کو جنم دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرونی طاقتیں ایرانوفوبیا کے ذریعے خطے کے ممالک کو خود سے وابستہ کر کے، انہیں اربوں ڈالر کے ہتیھار فروخت اور علاقے میں قائم اپنے فوجی اڈے باقی رکھنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

ایران کے وزیر دفاع نے کہا کہ ملکی بحریہ نے اپنی آبی سرحدوں کی حفاظت کے حوالے سے اپنی طاقت کو ثابت کر دیا ہے اور پوری قوت اور تسلط کے ساتھ مختلف بین الاقوامی سمندری مشن میں حصہ بھی لے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کھلے سمندروں میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایرانی بحریہ کو قابل اطمینان فورس سمجھا جاتا ہے۔قابل ذکر ہے کہ تباہ کن بحری جہاز دنا اور بارودی سرنگیں صاف کرنے والا فلوٹ صبا اس وقت اپنی تیاری کے ‏‏آخری مراحلے میں ہیں۔ مذکورہ دونوں منصوبوں پر ایران کی وزارت دفاع کے ماہرین کام کر رہے ہیں۔

یہ بھی دیکھیں

روس میں آئينی اصلاحات کا ریفرنڈم، یورپ اور امریکہ چراغ پریشان

یورپی یونین اور امریکہ نے روس میں آئینی اصلاحات کے لیے کرائے جانے والے ریفرنڈم …