ہفتہ , 11 جولائی 2020

یورپی پارلیمنٹ کا بھارت میں انسانی حقوق کے کارکنوں کی گرفتاری پر تشویش کا اظہار

یورپین پارلیمنٹ میں انسانی حقوق کی کمیٹی نے بھارت میں انسانی حقوق کے کارکنوں کی گرفتاری اور ان گرفتاریوں کے لیے استعمال ہونے والے قوانین پر شدید تشویش ظاہر کی ہے۔ یورپین پارلیمنٹ میں انسانی حقوق کی کمیٹی نے بھارت میں انسانی حقوق کے کارکنوں کی گرفتاری اور ان گرفتاریوں کے لیے استعمال ہونے والے قوانین پر شدید تشویش ظاہر کی ہے۔ اس تشویش کا اظہار پارلیمنٹ کی سب کمیٹی برائے انسانی حقوق کی چیئر پرسن ماریا ایرینا ایم ای پی نے بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ کے نام تحریر کردہ اپنے ایک خط میں کیا ۔انہوں نے بھارتی وزیر داخلہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہم بھارت میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکنوں کے تحفظ اور نیشنل انویسٹیگیٹیو ایجنسی کی جانب سے گوتم نولکھا اور آنند تلٹومبڈے کی حالیہ گرفتاری پر شدید تحفظات کا اظہار کرنا چاہتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ یہ بات خاص طور پر تشویشناک اور توجہ طلب ہے کہ انسانی حقوق کے یہ محافظین خوف و ہراس کا نشانہ بنے بغیر ہندوستان کے غریب اور پسماندہ ترین برادریوں کے حق میں اپنی آواز بلند نہیں کر سکتے جبکہ یہ بھی ایک اتنی ہی بڑی حقیقت ہے کہ انہیں خاموش کرانے کے لیے دہشت گردی اور غیر قانونی سرگرمیوں کے تحت روک تھام کا قانون UAPA استعمال کیا جا رہا ہے ۔

ماریا ایرینا نے یاد دلایا کہ ہندوستان میں پاس کردہ یہ قانون اقوام متحدہ کے طریقہ کار کے تحت انسانی حقوق کے تمام بین الاقوامی معیارات کی خلاف ورزی ہے۔ اسی کے ساتھ ہی یورپین پارلیمنٹ میں یہ بات بھی نوٹ کی گئی ہے کہ اس قانون کے تحت شہریت کے قانون میں ترمیم سمیت متعدد قسم کے حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کے بارے میں پر امن احتجاج اور تنقید کو بھی دہشت گردی کی سرگرمیوں کے طورپر پیش کیا گیا ہے ۔اسی قانون کے تحت ہی پولیس نے صفورا زرگر، گلفشا فاطمہ، خالد سیفی، میران حیدر، شفا الرحمٰن، ڈاکٹر کفیل خان، آصف اقبال اور شرجیل امام سمیت دیگر افراد کو بھی گرفتار کیا ہے۔

یورپین پارلیمنٹ میں انسانی حقوق کی کمیٹی کی چئیر پرسن ماریا ایرینا نے ہندوستانی وزیر داخلہ امیت شاہ کے نام لکھے گئے خط کو جاری رکھتے ہوئے مزید تحریر کیا کہ اس پس منظر نے اس خدشے میں اضافہ کردیا ہے کہ اس قانون کے تحت "غیر قانونی سرگرمیاں” اور ” دہشت گرد تنظیموں کی رکنیت” کی مبہم تعریف ریاستی اداروں کو قانون کے اطلاق میں وسیع صوابدید کی اجازت دے سکتی ہے۔اس طرح سے ملک میں عدالتی نگرانی اور شہری آزادیوں کے تحفظ کو کافی حد تک کمزور کیا جائے گا۔

یہ بھی دیکھیں

لیبیا میں غیرملکی مداخلت کا سلسلہ بند ہونا چاہیے: اقوام متحدہ

لیبیا میں بحران کے خاتمے کے حل کی تلاش کی مساعی میں اقوام متحدہ کے …