ہفتہ , 11 جولائی 2020

امریکہ میں انسانی حقوق اور شہری آزادیوں کی پامالی

اداراتی نوٹ
دنیا بھر میں انسانی حقوق، آزادی اور شہری حقوق کا ڈھنڈورہ پیٹنے والا امریکہ ایک بار پھر بے نقاب ہو گیا ہے۔ یوں تو امریکہ کی تعریف انسانیت کشی اور انسانی حقوق کی پامالی سے بھری پڑی ہے لیکن مغربی میڈیا مسلسل جھوٹ بول بول کر امریکہ کی ان خامیوں اور نقائص پر پردہ ڈالتا رہتا ہے۔ اسی میڈیا نے سوشل میڈیا کے ڈر سے اپنی حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے امریکی پولیس کے ہاتھوں سیاہ فام شہری کے کھلم کھلا قتل کی جو خبریں اور ویڈیو کلپ نشر کیے ہیں اُس نے امریکی پولیس کے تہذیب یافتہ ملک کی پولیس ہونے کی حقیقت کو بے نقاب کر دیا ہے۔

کئی منٹوں تک سرعام ایک سیاہ فام امریکی شہری کو پولیس والے نے جس انداز سے گلا گھونٹ کر قتل کیا، اُس نے دنیا میں موجود ہر باضمیر اور انسانیت سے محبت رکھنے والے کو آزردہ اور رنجیدہ کر دیا ہے۔ اس قتل کے خلاف بعض ریاستوں میں مظاہروں اور فسادات کا پھوٹنا ایک فطری ردعمل تھا، لیکن ڈونالڈٹرامپ نے جس ڈھٹائی سے مظاہرین کو بدمعاش اور بہت غلط سلط کہا ہے، اُس نے امریکہ میں انسانی آزادیوں کا بھی بھانڈا پھوڑ دیا ہے۔ امریکی صدر کا یہ منفی رویہ صرف مظاہرہ کرنے والوں کے خلاف ہی نہیں، بلکہ وہ اپنے ہر مخالف کو بدمعاش اور غیر معقول انسان قرار دیتے ہیں۔

امریکہ میں سیاہ فام امریکی جارج فلائیڈ کا قتل، بعض امریکی ریاستوں میں سخت ردعمل، امریکہ کے مستقبل کے بارے میں پیشگوئی کر رہا ہے۔ کرونا کے موضوع پر امریکی ریاستوں کے درمیان واضح اختلاف امریکی صدر کا سیاہ فاموں کو راستے سے ہٹا کر سفید فاموں کو پہلے درجے کا شہری سمجھنا، اس بات کی علامت ہے کہ امریکی معاشرہ طبقاتی تقسیم کا شکار ہو چکا ہے۔ سفید فاموں، رنگین فاموں کے بعد مسلمانوں اور غیر امریکیوں کے خلاف ایک نیا طوفان آنے کو ہے۔ امریکی معاشرہ میں طبقاتی دراڑ پڑ چکی ہے اور ہر آنے والا دن اس دراڑ میں اضافے کا باعث بنے گا۔

یہ بھی دیکھیں

ایران شام سیکورٹی معاہدہ

اداراتی نوٹ ایران اور شام کے درمیان ایک اہم سیکورٹی معاہدے پر دستخط ہوئے جس …