جمعرات , 1 اکتوبر 2020

امریکہ میں انسانی حقوق اور شہری آزادیوں کی پامالی

اداراتی نوٹ
دنیا بھر میں انسانی حقوق، آزادی اور شہری حقوق کا ڈھنڈورہ پیٹنے والا امریکہ ایک بار پھر بے نقاب ہوگیا ہے۔ یوں تو امریکہ کی تاریخ انسانیت کشی اور انسانی حقوق کی پامالی سے بھری پڑی ہے، لیکن مغربی میڈیا مسلسل جھوٹ بول بول کر امریکہ کی ان خامیوں اور نقائص پر پردہ ڈالتا رہتا ہے۔ اسی میڈیا نے سوشل میڈیا کے ڈر سے اپنی حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے امریکی پولیس کے ہاتھوں سیاہ فام شہری کے کھلم کھلا قتل کی جو خبریں اور ویڈیو کلپ نشر کیے ہیں، اُس نے امریکی پولیس کے تہذیب یافتہ ملک کی پولیس ہونے کی حقیقت کو بے نقاب کر دیا ہے۔

کئی منٹوں تک سرعام ایک سیاہ فام امریکی شہری کو پولیس والے نے جس انداز سے گلا گھونٹ کر قتل کیا، اُس نے دنیا میں موجود ہر باضمیر اور انسانیت سے محبت رکھنے والے کو آزردہ اور رنجیدہ کر دیا ہے۔ اس قتل کے خلاف بعض ریاستوں میں مظاہروں اور فسادات کا پھوٹنا ایک فطری ردعمل تھا، لیکن ڈونالڈ ٹرامپ نے جس ڈھٹائی سے مظاہرین کو بدمعاش اور بہت غلط سلط کہا ہے، اُس نے امریکہ میں انسانی آزادیوں کا بھی بھانڈا پھوڑ دیا ہے۔ امریکی صدر کا یہ منفی رویہ صرف مظاہرہ کرنے والوں کے خلاف ہی نہیں، بلکہ وہ اپنے ہر مخالف کو بدمعاش اور غیر معقول انسان قرار دیتے ہیں۔

امریکہ میں سیاہ فام امریکی جارج فلائیڈ کا قتل، بعض امریکی ریاستوں میں سخت ردعمل، امریکہ کے مستقبل کے بارے میں پیشگوئی کر رہا ہے۔ کرونا کے موضوع پر امریکی ریاستوں کے درمیان واضح اختلاف امریکی صدر کا سیاہ فاموں کو راستے سے ہٹا کر سفید فاموں کو پہلے درجے کا شہری سمجھنا، اس بات کی علامت ہے کہ امریکی معاشرہ طبقاتی تقسیم کا شکار ہوچکا ہے۔ سفید فاموں، رنگین فاموں کے بعد مسلمانوں اور غیر امریکیوں کے خلاف ایک نیا طوفان آنے کو ہے۔ امریکی معاشرہ میں طبقاتی دراڑ پڑ چکی ہے اور ہر آنے والا دن اس دراڑ میں اضافے کا باعث بنے گا۔

یہ بھی دیکھیں

محمد علی جناح: معاملہ بانی پاکستان کی ایک روپیہ تنخواہ اور دو بار نمازِ جنارہ کا

عقیل عباس جعفری بانی پاکستان محمد علی جناح کی وفات صرف 72 سال پرانا واقعہ …