جمعرات , 1 اکتوبر 2020

امریکہ دوسروں کا وعظ کرنے کے بجائے اپنے ملک کی حالات کو سنبھالے: ایران

تہران:ایرانی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے امریکی اٹلانٹک کونسل کے ایک ممبر کے حالیہ بیانات کے رد عمل میں کہا ہے کہ امریکہ دوسروں کا وعظ کرنے کے بجائے اپنے ملک کی حالات کو سنبھالے۔ان خیالات کا اظہار "سید عباس موسوی” نے اتوار کی رات امریکی اٹلانٹک کونسل کے ایک رکن "باربارا اسلاوین” کے حالیہ بیانات کے رد عمل میں ایک ٹوئٹر پیغام میں کیا۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ وہی بات ہے جس کو ایرانی وزیر خارجہ "محمد جواد ظریف” نے اپنے امریکی ہم منصب "مائیک پمپیو” کو کہا تھا۔واضح رہے کہ اسلاوین نے امریکہ میں سیام فام لوگوں سے امتیازی سلوک کرنے کے اختتام سے متعلق ایرانی وزیر خارجہ کے بیانات کے رد عمل میں کہا تھا کہ آپ پہلے اپنے ملک کو سدھاریں، ہم خود اپنے ملک کی حالات کا انتظام کرلیں گے!

موسوی نے اسلاوین کے حالیہ بیانات کے رد عمل میں کہا کہ آپ تصاویر کو دیکھیں، بے شک آپ سمجھ گئے ہیں؛ لیکن آپ دوسروں کا وعظ کرنے کے اتنے عادی ہیں کہ آپ کو یہ یاد دلانا ناگوار گزرا ہے کہ "آپ کو اتنا تکبر نہیں کرنا چاہئے کہ ایران کا وعظ کریں” آپ کی امریکہ سے متعلق مزید معلومات ہیں۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ ایرانی وزیر خارجہ "محمد جواد ظریف” نے گزشتہ رات کو، 27 جون 2018ء میں امریکی وزیر خارجہ "مائیک پمپیو” کیجانب سے ایران مخالف بیان کی تصویر کو شیئر کرتے ہوئے متشابہ جملوں سے امریکی عوام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ "کچھ لوگ نہیں سوچتے ہیں کہ سیہ فام لوگوں کی جان کی قدر و قیمت ہے، ہم لوگوں میں سے جو سیہ فام لوگوں کی زندگی کی اہمیت دیتے ہیں کو جاننا ہوگا کہ اب وہ وقت آگیا ہے کہ دنیا نسل پرستی کیخلاف مقابلہ کرے۔

ٹویٹ سے منسلک تصویر میں ابتدائی متن کا ترجمہ اور 30 مئی 2020ء میں امریکی حالیہ مظاہروں کے رد عمل میں ایرانی محکمہ خارجہ کے بیان درج ذیل ہیں؛امریکی حکومت اپنے شہریوں کے وسائل کو ضائع کررہی ہے۔ خواہ وہ ایشیاء ، افریقہ یا لاطینی امریکہ میں اس کی مہم جوئی ہو، لاتعداد آمروں کی حمایت ہو یا اس کے جوہری ہتھیاروں کی مہنگی ترقی کے عزائم ، یہ سب کچھ صرف امریکی عوام کے دکھوں میں اضافہ کرتا ہے؛ جیسا کہ میں نے پہلے کہا تھا یہ کوئی حیرت کی بات نہیں ہے کہ امریکہ میں احتجاج کا سلسلہ جاری ہے، امریکی عوام چاہتے ہیں کہ ان کے حکام عوام کو بھی ملک کی دولت میں حصہ لیں اور ان کی ضروریات کو پورا کریں۔

ایرانی محکمہ خارجہ نے کہا ہے کہ ہم مظاہرین کو دبانے، قید کرنے اور امریکی عوام کی مایوسی کی تردید میں حکومت کی غیر موثر حکمت عملی کی مذمت کرتے ہیں؛ امریکی عوام، نسل پرستی، بدعنوانی، ناانصافی اور اپنے حکام کی نااہلی سے تنگ آچکے ہیں اور دنیا ان کی آواز کو سن رہی ہے۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ حالیہ دنوں میں امریکی شہر مینیپولیس میں ایک سیاہ فام شخص "جورج فلوئیڈ” کی پولیس کی تحویل میں ہلاکت کے بعد احجتاجی مظاہروں میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان تصادم کے واقعات پیش آئے ہیں۔

یہ واقعہ منیپولیس میں پیش آیا اور اس واقعے کے تناظر میں تین روز سے مظاہرے ہو رہے ہیں؛ مظاہرین نے ایک پولیس سٹیشن کو بھی آگ لگا دی تھی۔صدر ٹرمپ نے طیش میں آ کر ٹویٹ کی اور کہا کہ یہ بدمعاش، جورج فلوئیڈ کی یاد کی بے حرمتی کر رہے ہیں اور میں ایسا نہیں ہونے دوں گا۔ اگر مشکل ہوئی تو ہم کنٹرول سنبھال لیں گے، جب لوٹ مار شروع ہو گی تو گولیاں چلنی شروع ہوں گی، شکریہ۔یاد رہے کہ ٹوئٹر پر صدر ٹرمپ اس دوران منی ایپلس کے میئر جیکب فرے پر تنقید کر رہے تھے کہ انھیں چاہیے کہ شہر کے حالات کو قابو میں رکھیں ورنہ میں نیشنل گارڈ بھیج کر خود ہی کام کروا لوں گا۔

یہ بھی دیکھیں

ایران اور حزب اللہ کے خلاف شاہ سلمان کی ہرزہ سرائی، مخالف اتحاد بنانے کا مطالبہ

ریاض: سعودی عرب کے شاہ سلمان نے اسلامی جمہوریہ ایران اور اسلامی مزاحمتی تحریک حزب …