جمعرات , 2 جولائی 2020

افغانستان کے بارے نیا حکمنامہ

اداراتی نوٹ
نیٹو میں امریکہ کے مستقل مندوب نے افغانستان میں امریکی فوجیوں کے انخلاء کو مسترد کر دیا ہے۔ کی بلی ہیچی سن (Ki belli hutcheson) نے میڈیا میں آنے والی ان خبروں کو مسترد کیا ہے کہ حالیہ امریکی صدارتی انتخابات سے پہلے افغانستان سے امریکی فوجیں چلی جائیں گی۔ نیٹو میں امریکی حکومت کے نمائندے کا یہ موقف اس بات کو واضح کر رہا ہے کہ امریکہ اور طالبان کے درمیان قطر میں جو معاہدہ ہوا تھا، اُس کی کوئی حیثیت نہیں۔ امریکہ نے طالبان کے ساتھ معاہدہ کرکے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ وہ افغانستان میں امن و سلامتی کے قیام کے لیے طالبان جیسے گروہوں سے بھی مذاکرات کی میز پر بیٹھ سکتا ہے۔

دوسری طرف یہ کہ طالبان کے اندر امریکہ مخالف گروہوں کو بھی گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا۔ امریکہ نے طالبان واشنگٹن معاہدے کو سامنے رکھ کر ڈونالڈ ٹرامپ کے مسخ شدہ چہرے کو بھی ابتر بنا کر پیش کرنے میں کامیابی حاصل کر لی ہے۔ امریکہ افغانستان میں صرف افغان ایشو کی وجہ سے داخل نہیں ہوا تھا۔ افغانستان کی اسٹریٹیجک اہمیت بالخصوص روس اور چین کی ہمسائیگی، ایسا بنیادی محرک ہے، جو افغانستان سے امریکی انخلاء کو کبھی ممکن نہیں بنا سکتا۔ امریکہ نے طالبان کے اندر جہاں ایک اپنا ہمدرد حلقہ بنا لیا ہے، وہاں داعش کو لانچ کرنے میں بھی امریکہ سب سے آگے ہے۔

افغانستان میں سیاسی مسائل ہوں یا سلامتی کا مسئلہ ہو، ڈرگ مافیا کا مسئلہ ہو یا انرجی کے انتقال کا گیٹ وے، امریکہ کبھی بھی اس ملک کو اپنے حال پر نہیں چھوڑے گا۔ امریکہ افغانستان میں پینترے بدل بدل کر موجود رہے گا اور اس کا خمیازہ افغانستان اور افغانستان کے ہمسایہ ممالک کو بہرحال بھگتنا پڑیگا۔ نیٹو میں امریکہ کے مستقل نمائندے نے امریکی فوجوں کے فوری انخلاء کو مسترد کرتے ہوئے ایک بار پھر کہہ دیا ہے کہ امریکہ ایسا ہاتھی ہے، جس کے دکھانے کے دانت اور ہیں اور کھانے کے دانت اور ہیں۔

بشکریہ اسلام ٹائمز

یہ بھی دیکھیں

شیطان اپنے اولیاء کو وحی کر رہے ہیں

تحریر: ثاقب اکبر پاکستان میں جس طرح کے فتنے مذہب کے نام پر رونما ہو …