ہفتہ , 11 جولائی 2020

امریکہ، بدامنی، اینٹی فا اور مکافاتِ عمل

تحریر: تصور حسین شہزاد

شوشل میڈیا پر وائرل ہونیوالی ایک ویڈیو نے پورے امریکہ میں آگ لگا دی ہے۔ 25 مئی کو امریکہ کے معروف شہر منی پولس میں سیاہ فام شہری جارج فلوئیڈ کی ہلاکت کے بعد پھوٹنے والے ہنگاموں نے پورے امریکہ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ سیاہ فام شہری پر تشدد کی ویڈیو وائرل ہوتے ہی امریکہ میں مظاہرے شروع ہوگئے، جو اس وقت پُرتشدد ہوچکے ہیں، جبکہ ان کے باعث اب تک امریکہ کے 40 شہروں میں کرفیو نافذ ہے، 15 شہروں میں نیشنل گارڈز تعینات ہیں، اس کے باوجود حالات قابو میں نہیں آرہے۔ مختلف شہروں میں لوٹ مار کا سلسلہ بھی جاری ہے اور اب تک سینکڑوں سٹورز اور مالز لوٹے جا چکے ہیں۔ وائٹ ہاﺅس کے سامنے بھی گذشتہ روز میدان جنگ کا سماں رہا، جہاں مشتعل مظاہرین نے تاریخی چرچ سینٹ جان کو آگ لگا دی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان پُرتشدد مظاہروں کی ذمہ داری اینٹی فا (ANTIFA) نامی تنظیم پر عائد کرتے ہوئے اسے دہشتگرد تنظیم قرار دے دیا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ٹویٹ کے ذریعے اس پر پابندی کا اعلان کیا ہے، تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا کہ اس تنظیم کو کیسے کالعدم قرار دیا جائے گا اور اس کیلئے کیا اقدام کئے جائیں گے۔ قانونی ماہرین کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پاس یہ اختیار نہیں کہ وہ کسی ملکی تنظیم کو اپنی طرف سے دہشتگرد قرار دیدیں یا اسے کالعدم قرار دیں۔ یہ تنظیم دراصل ہے کیا اور اس کے کیا مقاصد ہیں؟ اس حوالے سے جو معلومات سامنے آئی ہیں، ان کے مطابق یہ تنظیم 1920ء کی دہائی میں اٹلی کے ڈکٹیٹر مسولینی کیخلاف قائم ہوئی تھی۔ پھر اس کا دائرہ دیگر یورپی ممالک اور امریکہ تک پھیل گیا۔ تاہم چند سال میں ہی اس کا وجود ایک طرح سے ختم ہوگیا۔ 1960ء میں یہ تنظیم یورپ میں ایک بار پھر منظرعام پر آئی اور 1970ء کی دہائی میں امریکہ پہنچ گئی۔ اس تنظیم سے وابستہ لوگ سرمایہ دارانہ نظام کے مخالف سوچ کے حامل ہوتے ہیں۔

اس تنظیم سے وابستہ لوگ بائیں بازو کے خیالات کے حامی ہوتے ہیں اور حکومتوں کے بھی مخالف ہوتے ہیں۔ ان لوگوں میں اکثریت سوشلٹس، انارکسٹس اور کمیونسٹس کی ہوتی ہے، جو خود کو انقلابی کہتے ہیں۔ یہ کوئی باقاعدہ تنظیم نہیں، جس میں عہدے ہوں اور عہدیداروں کی شناخت ہو۔ یہ کئی آزاد گروپوں اور افراد کے مجموعے کا نام ہے، جو سوشل میڈیا اور ویب سائٹس کے ذریعے مظاہروں کا انعقاد کرتے ہیں اور ان کے مظاہرے پُرتشدد ہوتے ہیں، کیونکہ یہ لوگ پالیسیوں اور اصلاحات کے ذریعے معاملات میں اصلاحات لانے کی بجائے احتجاج اور توڑ پھوڑ کے ذریعے بات منوانے پر یقین رکھتے ہیں۔ تنظیم کے کچھ لوگوں نے نیٹ ورک بنا رکھے ہیں، جن میں فرد سے فرد کا رابطہ ہوتا ہے۔ یہ لوگ رابطے کیلئے سگنل جیسی آن لائن میسجنگ سروسز استعمال کرتے ہیں، جو انکرپٹڈ ہوتی ہیں اور ان پر ہونیوالی گفتگو کا سراغ لگانا مشکل ہوتا ہے۔

امریکہ میں صدر ٹرمپ کے آنے کے بعد سفید فام بالادستی کا تاثر ایک بار پھر ابھر کر سامنے آیا، جس کے بعد یہ تنظیم ایک بار پھر مبینہ طور پر امریکہ میں متحرک ہوگئی ہے، کیونکہ اس تنظیم کے نظریات کے مطابق کسی نسل کی بالادستی کا تصور بھی فاشزم کے زمرے میں آتا ہے۔ یہ تنظیم صدر ٹرمپ اور ان کے حامیوں کو بھی فاشسٹ قرار دیتی ہے۔ چونکہ اس تنظیم کی کوئی باڈی یا آرگنائزیشن نہیں، لہٰذا یہ معلوم کرنا ناممکن ہے کہ اس وقت یہ کس طرح متحرک ہے اور کس علاقے میں اس کے اراکین کی تعداد کتنی ہے۔ اس تنظیم کا اپنا ایک لوگو ہے، جس پر سرخ اور سیاہ رنگ کے دو جھنڈے بنے ہوئے ہیں اور دائرے میں اوپر نیچے اینٹی فاشسٹ ایکشن لکھا ہوا ہے، تاہم تنظیم کے رکن اپنی شناخت مخفی رکھنے کیلئے اس جھنڈے کا کھلے عام استعمال کم ہی کرتے ہیں۔ امریکہ میں ہونیوالے مظاہروں میں شدت کا ذمہ دار بھی اسی تنظیم کو قرار دیا جا رہا ہے۔

صدر ٹرمپ نے براہ راست ساری صورتحال کا الزام اس تنظیم پر اس لئے عائد کیا ہے کہ کیونکہ یہ تنظیم صدر ٹرمپ کی نسلی امتیاز کی پالیسی پر تنقید کرتی رہی ہے۔ حالیہ واقعات میں بھی ایک سیاہ فام شہری کی سفید فام پولیس اہلکار کے ہاتھوں ہلاکت کے بعد احتجاج میں شدت آگئی اور یہ اب احتجاج امریکہ نہیں بلکہ برطانیہ بھی پہنچ چکا ہے اور برطانیہ کے متعدد شہروں میں مظاہرے ہوئے ہیں، جبکہ جس شدت کے ساتھ مظاہروں کا دائرہ بڑھ رہا ہے، ایسے لگتا ہے کہ یہ مظاہرے پورے یورپ کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔ ماضی میں ایسا ہوتا آیا ہے کہ امریکہ دیگر ممالک بالخصوص مسلم ممالک میں مبینہ طور پر ایسے پُرتشدد مظاہروں کو "سپانسر” کرتا تھا، یہ مکافات عمل ہے کہ آج وہی آگ امریکہ کے اپنے دروازے پر پہنچ چکی ہے۔ اس آگ کی شدت اتنی زیادہ ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کو اپنی جان بچانے کیلئے بینکر میں پناہ لینا پڑی اور اہم شہروں میں کرفیو نافذ کرنا پڑا۔

امریکی عوام یہ جان چکے ہیں کہ دنیا میں بدامنی کا ذمہ دار امریکہ ہی ہے، جو دوسروں کیلئے گڑھے کھودتا ہے اور اس کا خمیازہ امریکی عوام کو بھگتنا پڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکی عوام کی یہ نفرت ایک سیاہ فام کے قتل پر نہیں بڑھی بلکہ یہ وہ لاوا ہے، جو ایک عرصے سے پک رہا تھا اور اب پُھوٹ پڑا ہے۔ امریکہ میں نکلنے والا یہ عوامی سیلاب سامراج کے تاج و تخت کو بہا لے جائے گا۔ امریکی صدارتی امیدوار جوبائیڈن نے بھی صورتحال کا ذمہ دار ڈونلڈ ٹرمپ کی ناقص پالیسیوں کو قرار دیا ہے اور سیاہ فام امریکیوں کے ساتھ کھڑے ہونے کا عزم کیا ہے۔ جوبائیڈن نے اعتراف کیا ہے کہ ٹرمپ نے امریکہ میں نسلی امتیاز کو فروغ دیا ہے، جس کے باعث صورتحال یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ قابو میں نہیں آرہی۔

بشکریہ اسلام ٹائمز

یہ بھی دیکھیں

ایران شام سیکورٹی معاہدہ

اداراتی نوٹ ایران اور شام کے درمیان ایک اہم سیکورٹی معاہدے پر دستخط ہوئے جس …