بدھ , 8 جولائی 2020

کورونا کی دھوپ کسی چھاؤں کی تلاش میں

اداراتی نوٹ

اسٹیٹ بینک آف پاکستان(ایس بی پی) کی کورونا کے معیشت پر اثرات سے متعلق جاری رپورٹ چشم کشا ہے، جس کے مطابق کورونا کے سبب تجارت متاثر ہوئی ہے اور خبردار کیا ہے کہ کئی کمپنیاں دیوالیہ ہوسکتی ہیں، رپورٹ میں مزید کہاگیا ہے کہ کورونا کے باعث مقامی سطح پر کاروباری سرگرمیاں متاثر ہوئیں، عوام کی قوت خرید گھٹ گئی اور بیرونی سرمایہ کاری بھی کم ہوگئی ہے۔اسٹیٹ بینک کے مطابق کورونا وائرس کے سبب عالمی معیشت مثاثر ہونے سے ترسیلات زر اور سرمایہ کاری میں بھی کمی آئی، تیل کی کم قیمتوں سے درآمدی ممالک کو فائدہ ہوا، رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اسٹیٹ بینک نے 2 لاکھ سے زائد افراد کو بے روزگار ہونے سے بچا لیا ہے، اسٹیٹ بینک نے اسپتالوں اور میڈیکل سینٹرز کے لیے قرض کی حد50 کروڑ روپے کر دی ہے، معاشی سست روی سے محصولات میں بھی کمی ریکارڈ کی گئی، ملک میں پھیلے ہوئے کورونا کی وبا کو قابو کرنے کے لیے لاک ڈاؤن کیا گیا جس سے فیکٹریوں اور کاروباری طبقے کا کیش فلو مثاثر ہوا، اگر یہی صورتحال جاری رہی تو صورتحال مزید ابتر ہوسکتی ہے

یہ وہ چیدہ چیدہ اقتصادی نکات یا معاشی خطرات کی بجتی گھنٹیاں ہیں جن کی آواز سے بالعموم حکمرانوں کے کان آشنا نہیں ہوتے، انھیں صرف ایک ہی صدا ئے دلنواز خوشگوار لگتی ہے کہ ’’’سب اچھا ہے‘‘ اور وہ عوام کو درپیش مسائل کو business as usual سمجھ کر کاروباری حیات کی جدلیات، سرمایہ کاری، قرضوں کے بڑھتے ہوئے بوجھ اور بیروزگاری، غربت اور مہنگائی کے شکار خلق خدا کے شب و روز سے بیگانہ رہتے ہیں۔مگر کورونا کی دہشت انگیز صورتحال نے تصویر کا اندوہ ناک رخ دکھلایا ہے، زمینی حقائق سنگلاخ ہیں، کورونا کی وبا نے عالمی سماج، اقتصادیات، اسٹاک مارکیٹس، کاروباری تعلقات، بین الاقوامی روابط، ڈپلومیسی، کلچر، مواصلات، تعلیم، سیاحت، ٹیکنالوجی، صحت اور کھیل و فنون لطیفہ کی دنیا کو درہم برہم کردیا ہے، ماہرین اور سائنس دان اس کھوج میں لگے ہوئے ہیں کہ کورونا کی دنیا پر حکمرانی کب ختم ہوگی، کون سی چیز تغیر وتبدل کے بعد انسانیت کے لیے کارآمد ہوگی اور جنگ وامن کے تصورات میں تبدیلوں اور مثبت نتیجہ انگیزیوں کی شرح کیا ہوگی۔

کیا کورونا دنیا کو صحت کا کوئی نیا شفاف اور صحت افزا ماحول اور قابل اعتبار ہیلتھ سسٹم دے کر رخصت ہوگی یا دنیا میں غربت، افلاس، کارپوریٹ غلامی، طبقاتی کشمکش اور محنت کا استحصال کسی اور رنگ میں عالمی برادری کے لیے چیلنجز کے در کھول دے گا۔ان سوالات سے ان ملکوں کی روشن ضمیر قیادت سبق سیکھ سکتی ہے جو کورونا کے زخم سہتے ہوئے علاج، صحتیابی اور تندی باد مخالف سے گھبرائے بغیر ایک نئی امنگ اور حوصلے سے مستقبل کے لیے تیاری پر کمر باندھتی ہے۔ پاکستان کے حکمران نائن الیون سے کیا سبق سیکھ چکے ہیں اس کا قوم کو پتا نہیں لیکن کورونا اور معاشی صورتحال کے لازم وملزوم ہونے کا یقین ان کے وجود سے الگ نہیں ہے، کورونا نے معیشت کے اعداد وشمار سے زیادہ اس وبا کی سفاکیت پر قوم کو جدوجہد کی ایک نئی سیاسی حقیقت اور نئے فکر وفلسفے کے لیے ذہنی، نظریاتی اور عملی طور پر منزل کے تعین کی راہ دکھلائی ہے۔

اب اصل کام پی ٹی آئی حکومت کا ہے کہ وہ کورونا سے جنگ لڑنے کے لیے غیر روایتی طریقے اختیار کرتی ہے یا حالات پھر سے ماضی کی بھول بھلیوں، سیاسی تضادات،باہمی اختلافات، الزام تراشی اور کردار کشی کی نورا کشتیوں کی نذر ہوجائیں گے۔ لیکن غالب امکان اس بات کا ہے کہ حکومت کورونا کو ایک نصاب کا درجہ دے چکی ہے، وزیراعظم عمران خان نے مکمل لاک ڈاؤن سے گریز کی صائب حکمت عملی اختیار کی، غربت اور دیہاڑی دار مزدوروں کی مشکلات کو پیش نظر رکھا اور سندھ حکومت کے اختلافی انداز نظر سے قطع نظر ملک کے 22کروڑ عوام کی معاشی صورتحال کو کورونا کی حقیقت سے مشروط کردیا۔ حکومت معاشی مسئلہ کی اہمیت سے واقف ہے اور یقینا مرکزی بینک کے انتباہ سے بھی ارباب اختیار صرف نظر کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔جہاں تک مرکزی بینک کی رپورٹ کا تعلق ہے وہ اقتصادی اور کاروباری میکنزم سے متعلق حقائق کے انکشافات سے مربوط ہے، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کمپنیاں دیوالیہ ہونے سے بینکوں کی آمدنی متاثر ہوگی اور کاروبار بند ہونے سے بے روزگاری میں بھی اضافہ ہوگا جب کہ موجودہ صورتحال میں زرمبادلہ کے ذخائر گھٹ سکتے ہیں، رپورٹ کے مطابق اگر حالات اسی طرح رہے تو روپے کی قدر میں کمی کا خدشہ ہے، معاشی ترقی کی شرح اور بجٹ متاثر ہوگا۔

اسٹیٹ بینک کے مطابق کورونا کی وبا سے قبل پاکستان کی معیشت میں بہتری آنا شروع ہوگئی تھی، معیشت میں بہتری کے لیے حکومت نے کئی اقدامات کیے جس سے درآمدات میں کمی اور برآمدات میں اضافہ ہوا تھا، ریٹنگ ایجنسیوں نے پاکستان کی ریٹنگ کو مستحکم رکھا جب کہ مالی سال 2020 کے آغاز میں محصولات بڑھنا شروع ہوئے تھے، کاروباری طبقے کے اعتماد میں اضافہ ہوا تھا اور بیرونی سرمایہ کاری بھی تیزی سے بڑھنا شروع ہوگئی تھی، رپورٹ کے مطابق صحت کے شعبے پر حکومتی اخراجات خطے کے دیگر ممالک سے کم ہیں۔موجودہ صورتحال میں عوام کی آگاہی بہت ضروری ہے، لاک ڈاؤن سے کھانے پینے اور معاشرتی تحفظ کی فراہمی چیلنج ہوگا، اسٹیٹ بینک کے مطابق پاکستان کے قرضوں میں اضافہ ہو رہا ہے، پاکستان کی معیشت کھپت پر مبنی ہے اور عوام کی قوت خرید کم ہونے سے جی ڈی پی متاثر ہوگی۔ اب ضرورت ایک وژن، تدبر اور ’’ عوام اورینٹڈ‘‘ معاشی پالیسیوں کی ہے جو ملک کو صنعتی ترقی، مالیاتی شفافیت، ملک کی غریب آبادیوں میں زندگی کی بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے ٹارگٹ کو مکمل کرے۔ لوگ اس تبدیلی کو دیکھیں جو کورونا کی دھوپ میں جھلس کر رہ گئی ہے اور اب وہ حکومت کی سیاسی، معاشی اور اصلاحی چھاؤں کی تلاش میں ہے۔

وزیراعظم نے قومی رابطہ کمیٹی کے اجلاس کے بعد کہا کہ حکومت نے مخصوص شعبوں کے سوا باقی کاروبار کھولنے کا فیصلہ کیا ہے، وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ ڈاکٹروں کے خدشات کا ادراک ہے، اگر لاک ڈاؤن بڑھاتے ہیں تو غربت بڑھے گی، اس لیے صرف ہفتہ و اتوار کو مکمل لاک ڈاؤن ہوگا، ایس اوپیز کے تحت حکومت نے سیاحت کو بھی کھول دیا ہے، ٹرانسپورٹ بھی اوپن ہورہی ہے، لیکن ابھی فیصلوں کا ابہام ختم نہیں ہوا، شادی ہالز، اسکولز، ریسٹورنٹس بند ہیں، صنعت، ماہی گیری اور فنون لطیفہ کے شعبوں سے وابستہ محنت کش بیروزگار ہیں، تھیٹر بند ہیں، کیوں؟وزیراعظم نے کہا کہ کورونا کا علم ہوتے ہی ہم نے محض26 کیسز پر ہی اجلاس طلب کیے، اور لاک ڈاؤن کیا، کسی کو معلوم نہ تھا کہ آگے کیا ہوگا۔ انھوں نے کہا کہ امیر ترین ملک بھی اس حقیقت کو تسلیم کرچکے کہ اب کورونا کے ساتھ ہی جینا ہے، جب تک ویکسین نہیں ملے گی یہ وائرس ختم نہیں ہوگا۔ دوسری طرف ملک کے کچھ معتبر مسیحاؤں نے سوال کیا ہے کہ کیا پاکستانی سائنس دان اور ڈاکٹرز کورونا کی دوائی تیار کرنے سے معذور ہیں،کیا حکومت یورپ اور امریکا جیسی ایمرجنسی کی ضرورت سے آگاہ ہے، اور ادویہ کی تیاری کے لیے تیار ہے، یہ سوال بنیادی نوعیت کے ہیں کیونکہ ملک غیر ملکی ویکسین کا منتظر ہے، جب کہ چین اور بھارت کو دواسازی کی صنعت میں ترقی یافتہ ملکوں پر سبقت حاصل ہے۔

ہمیں اس سوال پر اپنا احتساب کرنا چاہیے۔ ایک اطلاع ہے کہ بدنام زمانہ ایبولہ وائرس نے پھر سے کانگو میں سر اٹھایا ہے، عالمی ادارہ صحت نے لاطینی امریکا کے نظام صحت کو درپیش سنگین خطرات کی نشاندہی کردی ہے، وزیراعلیٰ سندھ نے وزیر اعظم سے التماس کی ہے کہ وہ کورونا کے بارے میں اقدامات سے پہلے صوبوں کو اعتماد میں لیں، مشیر صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے تلقین کی ہے کہ عوام N95 ماسک مستقل طور پر نہ لگائے رکھیں، یہ ماسک صرف طبی عملہ کی معمول کی ضرورت کے تحت استعمال میں لایا جاتا ہے، انھوں نے ڈیلی بریفنگ میں کہا کہ عوام سماجی فاصلہ کی پابندی کو اپنا شعار اور عادت بنالیں۔ بلاشبہ حکومت کو اس تھیسس پر بھی سوچنا چاہیے کہ جب عوام کو ہی کورونا سے نمٹنا ہے، تو لاک ڈاؤن کی درد سری اور بحث کا بھی کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا۔اگر لاک ڈاؤن نسخہ کیمیا ہے تو لاہور میں کیسز 6 لاکھ 70 ہزار تک کیسے پہنچے، اور کیوں 25 لاکھ تک مریضوں کی تعداد پہنچنے سے عوام کو خوفزدہ کیا جارہا ہے، ایک طرف حکومت کہتی ہے کہ مکمل لاک ڈاؤن حل نہیں، دوسری جانب کسی حکومتی ذمے دار شخص کا کہنا ہے کہ ضرورت ہوئی تو مکمل لاک ڈاؤن بھی ہوگا، اسد عمر نے کہا کہ کسی صوبے نے سخت لاک ڈاؤن کی بات نہیں کی، اس فکری افراط وتفریط کا خاتمہ ہونا چاہیے، جہاں تک سماجی فاصلہ کی پابندی کا معاملہ ہے تو اس پر سپریم کورٹ کے چیف جسٹس گلزار احمد نے اگلے روز دوران سماعت کورٹ روم میں ہجوم دیکھ کر سخت برہمی کا اظہار کیا اور کمرہ عدالت میں ایک دوسرے کے ساتھ مل کر بیٹھنے والوں سے کہا کہ آپ لوگ کون ہیں، کیوں یہ مجمع لگایا ہے؟ضرورت اس بات کی ہے کہ کورونا کو حقیقت سمجھنے میں اب مزید پیچیدگی پیدا کرنے سے بہتر ہے کہ قومی زندگی میں تفہیم، اعتدال، توازن اور سنجیدگی پیدا ہو، ہم صبر سے کام لیں، ٹاک شوز میں قومی فکر اور یکجہتی کا احساس اجاگر کیا جائے، حکمراں فروعی باتوں، ٹکراؤ اور تناؤ سے گریز کرتے ہوئے قومی اتفاق رائے کو راستہ دیں، وائرس کا مقابلہ کرنے کا ماحول اور جذبہ ابھاریں۔ اسی میں سب کی بقاہے۔

بشکریہ ایکسپریس نیوز

یہ بھی دیکھیں

ڈاکٹرز کے ہاتھوں ڈاکٹر کی موت

تحریر: جاوید چوہدری ڈاکٹر حافظ سلمان علی لاہور کے نوجوان سرجن تھے‘ ان کی چھوٹی …