جمعرات , 2 جولائی 2020

امامِ انقلاب

اداراتی نوٹ
بانی انقلاب اسلامی حضرت امام خمینیؒ کی اکتیسیویں برسی کی مناسبت سے رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے جو خطاب فرمایا اُسے ’’امام شناسی‘‘ یعنی امام خمینیؒ کی شخصیت اور تحریک کو سمجھنے کی کلید قرار دیا جا سکتا ہے۔ رہبر انقلاب اسلامی نے امام خمینیؒ کو تبدیلی و انقلاب کا امام قرار دیکر آپ کی شخصیت کو آئینہ سے شفاف کر کے پیش کر دیا ہے۔ تبدیلی، انقلاب، تحول، چینج (Change) وہ الفاظ ہیں جنہیں آج کے سایسی قائدین کثرت سے استعمال کرتے ہیں۔ لیکن حقیقی تبدیلی کیا ہوتی ہے اُسے امام خمینیؒ نے ایران، عالم اسلام بلکہ عالمی سطح پر انجام دیکر دکھا دیا ہے۔ ایک ایسا ایران جو آمریت، ڈکٹیٹرشپ اور شہنشاہیت کے گھٹا ٹوپ اندھیرے میں ٹامک ٹوئیاں مار رہا تھا، اُسے امام خمینیؒ نے قرآن کی روشنی میں جمہوریت، آزادی، خودمختاری اور اسلام پسندی کی راہ پر گامزن کر دیا۔

وہ عالم اسلام جو دین  سیاست کو دریا کے دوکنارے سمجھ رہا تھا۔ اُسے ایران کی اسلامی حکومت جیسے ایک عملی نمونے سے سمجھا دیا کہ دین اور سیاست جدا نہیں اور دین عین سیاست اور الہٰی سیاست عین دین ہے۔ خمینیِؒ بت شکن نے عالمِ انسانیت کو اس بات کا احساس دلا دیا کہ سامراج، استکبار، عالمی طاقتیں نہ صرف اندر سے کھوکھلی ہیں بلکہ شکست پذیر ہیں۔ امام خمینیؒ نے سپر طاقتوں کے خلاف جو آواز اٹھائی تھی، اُسے عالمی پذیرائی حاصل ہوئی اور ایک سپر پاور تاریخ کے کوڑے دان میں پہنچ چکی ہے جبکہ مغرب کی سپر پاور تیزی سے زوال پذیر ہے۔ رہبر انقلاب اسلامی نے آج کے خظاب میں اس نکتہ کی جانب بھی اشارہ کیا کہ انقلاب اور تبدیلی کا متضاد لفظ یا اصطلاح جمود، پسماندگی اور قدامت پسندی ہے۔

لیکن آج بعض معاشروں میں تجدد، ماڈرن ازم اور جدت پسندی کے نام پر اسلامی اور روایتی معاشروں کو حقیقی انسانی اقدار سے دور کر دیا گیا ہے۔ ماڈرن اور پوسٹ ماڈرن جیسی اصطلاحوں کے دھوکے میں انسانیت کا استحصال کیا جا رہا ہے۔ جدت کے نام پر تہذیب و تمدن کو دفن کیا جا رہا ہے۔ انسانیت، ہیومن ازم کے نام پر اقدار کو انسان سے دور اور الگ کر دیا گیا ہے اور اس جدت پسندی کے نتیجے میں ایک انسان اپنے اھداف کے حصول کے لیے خودغرضی کے اس مقام پر پہنچ جاتا ہے کہ وہ دوسرے انسان کو اپنے مفاد کیلئے نابود بھی کر دیتا ہے۔ رہبر انقلاب اسلامی نے امام خمینیؒ کی شخصیت پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا ہے کہ امام خمینیؒ نے تبدیلی اور انقلاب کے ذریعے عقل و خرد کی صلاحیتوں کو بیدار کر کے نئی نسل کو ظلم کے خلاف قیام اور عدل و انصاف کے حصول کیلئے نئے افق سے روشناس کرا دیا۔

یہ بھی دیکھیں

شیطان اپنے اولیاء کو وحی کر رہے ہیں

تحریر: ثاقب اکبر پاکستان میں جس طرح کے فتنے مذہب کے نام پر رونما ہو …