بدھ , 8 جولائی 2020

جَنَّت البَقیع، مستند تاریخی دستاویزات کی روشنی میں

تحقیق و تالیف: حجت الاسلام والمسلمین سید صادق رضا تقوی

8 شوال 1344 ہجری کا دن تاریخ اسلام کا وہ سیاہ ترین دن ہے کہ جب "فرقہ وہابیت” سے تعلق رکھنے والے’’آل سعود‘‘ نے مدینۃ النبی ؐپر قبضہ کرنے کے بعد اسلام کے تاریخی قبرستان اور اُس میں موجود شیعہ و سنی مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات کی قبور، بارگاہوں اور مزاروں کو مسمار کیا۔ جنت البقیع وہ قبرستان ہے کہ جس میں رسول اکرمﷺ کے اجداد، اہل بیت ؑ، اُمّہات المومنین ؓ، جلیل القدر اصحاب ؓ، تابعین ؓاور دوسرے اہم افراد کی قبور ہیں کہ جنہیں 97 سال قبل آل سعود نے مسمار کر دیا کہ اُن میں سے تو اکثر قبور کی پہچان اور اُن کے صحیح مقام کی شناخت ممکن نہیں! یہ عالم اسلام خصوصاً شیعہ و سنی مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے علماء، دانشوروں اور اہل قلم کی ذمہ داری ہے کہ اِن قبور کی تعمیر نو کیلئے ایک بین الاقوامی تحریک کی داغ بیل ڈالیں، تاکہ یہ روحانی و معنوی سرمایہ اور آثار قدیمہ سے تعلق رکھنے والے اِس عظیم نوعیت کے قبرستان کہ جس کی فضیلت میں روایات موجود ہیں، حفاظت اور تعمیر نو کے ساتھ یہاں مدفون ہستیوں کی خدمات کا ادنیٰ سا حق ادا کرسکیں۔ اُمید ہے کہ یہ مختصر سا مقالہ ہمیں اِن عظیم انسانوں اور اِن کی معرفت و حقوق کی ادائیگی کی ذمہ داری کو بطریق احسن نبھانے میں معاون ثابت ہوگا۔ ہمیں امید ہے کہ یہ تحقیقی مقالہ اُمت ِمسلمہ کو  اِس اہم موضوع سے آشنا کرنے میں معاون ثابت ہوگا، ان شاء اللہ۔

تاریخ قبرستان جنت البقیع:
8 شوال تاریخ جہان اسلام کا وہ غم انگیز دن ہے کہ جب 1344 ہجری کو وہابی فرقے سے تعلق رکھنے والے افراد نے جنت البقیع کے تاریخی قبرستان کو منہدم  و مسمار کر دیا تھا۔ یہ دن تاریخ اسلام میں ’’یوم الہدم‘‘ کے نام سے معروف ہے، یعنی وہ دن کہ جب بقیع نامی تاریخی اور اسلامی شخصیات کے مدفن اور مزاروں کو ڈھا کر اُسے خاک میں ملا دیا۔جدّہ کے معروف عرب کالم نویس ’’منال حمیدان” لکھتے ہیں: بقیع وہ زمین ہے کہ جس میں رسول اکرمﷺ کے بعد اُن کے بہترین صحابہ کرامؓ دفن ہوئے اور جیسا کہ نقل کیا گیا ہے کہ یہاں دس ہزار سے زیادہ اصحاب رسول ؓمدفون ہیں کہ جن میں اُن کے اہلبیت، اُمّہات المومنین ؓ۔۔۔، فرزند ابراہیم، چچا عباس بن المطلب ؓ، پھوپھی صفیہ بنت عبدالمطّلب ؓ، اُن کے نواسے حسنؓ، اکابرین اُمت اور تابعین شامل ہیں۔ یوں تاریخ کے ساتھ ساتھ بقیع کا شمار شہر مدینہ کے اُن مزاروں میں ہونے لگا کہ جہاں حجاج بیت اللہ الحرام اور رسول اللہﷺ کے روضہ مبارکہ کی زیارت اور وہاں نماز ادا کرنے والے زائرین اپنی زیارت کے فوراً بعد حاضری دینے کی تڑپ رکھتے تھے۔

نقل کیا گیا ہے کہ آنحضرت ؐ نے وہاں کی زیارت کی، وہاں مدفون افراد پر سلام کیا اور استغفار کی دعا کی۔‘‘ (الشرق الاوسط؛ ۱۵ ذی الحجہ ۱۴۲۶ ہجری، شمارہ ۹۹۰۹) تین ناموں کی شہرت رکھنے والے اِس قبرستان ’’بقیع، بقیع الغرقد یا جنت البقیع‘‘ کی تاریخ، قبل از اسلام زمانے سے مربوط ہے، لیکن تاریخی کتابیں اِس قبرستان کی تاریخ پر روشنی ڈالنے سے قاصر ہیں، لیکن اِس سب کے باوجود جو چیز مسلّم حیثیت رکھتی ہے، وہ یہ ہے کہ بقیع، ہجرت کے بعد شہر مدینہ کے مسلمانوں کیلئے دفن ہونے کا واحد قبرستان تھا۔ شہر مدینہ کے لوگ وہاں مسلمانوں کی آمد سے قبل اپنے مردوں کو دو قبرستانوں ’’بنی حرام‘‘ اور ’’بنی سالم‘‘ میں دفن کیا کرتے تھے۔(حجت الاسلام محمد صادق نجمی؛ تاریخ حرم ائمہ بقیع، صفحہ ۶۱)

بقیع میں مدفون شخصیات:
اِس قبرستان میں اسلام کی اہم شخصیات میں ائمہ اربعہ تشیع (حضرت امام حسن مجتبیٰ ؑ، حضرت امام زین العابدین ؑ، حضرت امام محمد باقر ؑاور حضرت امام جعفر صادق ؑ) کے علاوہ اور بھی شخصیات مدفون ہیں۔ علامہ سید محمد امین ؒ اِس بارے میں لکھتے ہیں: بقیع میں رسول اللہﷺ کے چچا حضرت عباس بن المطّلب ؒ بھی مدفون تھے، اِسی طرح حضرت ختمی مرتبتﷺ کے والد امجد حضرت عبداللہ ؓ، اُمّہات ُ المومنین ؓ، عثمان بن عفان ؓ، اسماعیل بن جعفر الصادق ؑ اور مذہب مالکی کے پیشوا، امام ابو عبداللہ مالک بن انس الاصبحی ؓ(متوفی ۱۷۹ہجری) کی قبور کو بھی ویران کیا گیا ہے۔‘‘(کشف الارتیاب؛صفحہ ۵۵) خلیفہ سوم عثمان بن عفانؓ کے قتل کے بعد جب اُنہیں بقیع میں دفن ہونے سے روکا گیا تو اُنہیں بقیع سے باہر مشرقی حصے میں ’’حش کوکب‘‘ نامی حصے میں دفن کر دیا گیا، لیکن معاویہ ابن ابی سفیان کے زمانے میں جب مروان بن حکم مدینے کا والی بنا تو اُس نے حش کوکب اور بقیع کی درمیانی دیوار کو ہٹا کر اُن کی قبر کو اِسی قبرستان میں داخل کر دیا اور پتھر کا وہ ٹکڑا کہ جسے خود رسول اکرمﷺ نے اپنے ہاتھوں سے حضرت عثمان بن مظعون ؓ کی قبر پر رکھا تھا، اُٹھا کر حضرت عثمان کی قبر پر رکھتے ہوئے کہا:’’واللّٰہ لا یکون علی قبر عثمان بن مظعون حجرٌ یعرف بہ‘‘ خدا کی قسم! عثمان بن مظعون ؓکی قبر پر کوئی نام و نشان نہ ہو کہ وہ اُس کے ذریعے سے پہچانی جائے۔(اسد الغابۃ؛جلد ۳،صفحہ ۳۸۷۔تاریخ المدینہ ابن زبالہ نقل از وفاء الوفاء ؛جلد۳،صفحہ ۹۱۴۔۸۹۴)

اُمّہات المومنین ؓ میں حضرت زینب بنت خزیمہ ؓ، حضرت ریحانہ بنت زبیر ؓ، حضرت ماریہ قطبیہ ؓ، حضرت زینب بنت جحش ؓ، ام ّحبیبہ بنت ابو سفیانؓ، حضرت سودہ ؓ اور حضرت عائشہ بنت ابو بکر ؓ مدفون ہیں۔ اِس کے علاوہ حضرت ختمی مرتبتﷺ کے فرزند ابراہیم ؓ، امیر المومنین حضرت علی ابن ابیطالب ؑکی والدہ ماجدہ حضرت فاطمہ بنت اسد ؑ، زوجہ حضرت مولائے کائنات حضرت علی ؑ جناب اُمّ البنینؑ، حلیمہ سعدیہ ؓ، حضرت عاتکہ ؓ، عبداللہ بن جعفرؓ، محمد بن حنفیہ ؓاور عقیل بن ابو طالب ؑ، نافع مولا عبد اللہ بن عمر شیخ القراء السبعہ ؓ(متوفی ۱۶۹ہجری) کی قبور مبارکہ بھی وہاں موجود ہیں۔ (البقیع؛ یوسف الہاجری، صفحہ ۳۷۔ مرآۃ الحرمین؛ ابراہیم رفعت پاشا، صفحہ ۴۲۷۔ آثار اسلامی مکہ ومدینہ؛ صفحہ ۹۹۔ تاریخ المعالم المدنیۃ المنوّرۃ؛ سید احمد آل یاسین، صفحہ ۲۴۵۔ طبقات القرای؛ جلد ۲، صفحہ ۳۳۰۔ تہذیب التھذیب؛ جلد ۱۰، صفحہ ۴۰۷) اِس کے علا وہ یہاں مقداد بن الاسود ؓ، مالک بن حارثؓ، مالک اشتر نخعی ؓ، خالد بن سعیدؓ، خزیمہ ذو الشہادتینؓ، زید بن حارثہؓ(پیغمبر اسلام ؐ کا منہ بولا بیٹا)، سعد بن عبادہؓ، جابر بن عبداللہ انصاری ؓ، حسّان بن ثابت ؓ، قیس بن سعد بن عبادہؓ، اسعد بن زارہؓ، عبد اللہ بن مسعودؓ اور معاذ بن جبل ؓسمیت دوسر ے جلیل القدر صحابہ اکرام ؓ بھی یہاں مدفون ہیں۔(مستدرک حاکم؛ جلد ۲، صفحہ ۳۱۸۔ سیرہ ابن ہشام؛ جلد ۳،صفحہ ۲۹۵)۔

مورخین اور معروف سیاح اور قبرستان بقیع کی تاریخ:
جنت البقیع ۴۹۵ ہجری یعنی پانچویں صدی ہجری کے اواخر سے صاحب ِگنبد و بارگاہ تھا۔ معروف اہل سنّت اندلسی مؤرّخ، سیاح، مصنف اور شاعر ابوالحسین محمد بن احمد بن جبیر (۵۴۰۔۱۴ ۶ ہجری) جو ساتویں صدی ہجری میں حجاز کے اپنے سفرنامہ (تدوین شدہ ۸۷۵ ہجری) میں لکھتے ہیں: (www.cgie.org.ir؛ جلد۵، مقالہ ۱۸۵۴) ’’وہ سربفلک گنبد موجود بقیع کے ساتھ ہی واقع ہے۔‘‘ (رحلہ ابن جبیر؛ مطبوع دار الکتاب اللُّبْنَانیہ، صفحہ ۱۵۳) ابن جبیر کے سفر کے ڈیڑھ سو سال بعد آٹھویں صدی ہجری میں ابن بطولہ نے شہر مدینہ کا سفر کیا اور اپنے مشاہدات کو یوں رقم کیا: ’’حرم ائمہ بقیع (ائمہ اربعہ اہل تشیع) میں موجود قبور پر دراصل ایک ایسا گنبد ہے، جو سر بفلک ہے اور جو اپنے استحکام کی نظر سے فن تعمیر کا بہترین اور حیرت انگیز شاہکار ہے۔‘‘ (رحلہ ابن بطولہ؛صفحہ ۸۹) قرن معاصر کے معروف سفر نامہ ’’مرآۃ الحرمین‘‘ کے مصنف ’’ابراہیم رفعت پاشا ‘‘جو  ۱۳۱۸ہجری، ۱۳۲۰ہجری، ۱۳۲۱ہجری اور  ۱۳۲۵ ہجری میں مصری حجاج کے قافلے کے امیر محافظ محمل کی حیثیت سے اپنے پہلے سفر حج اور اُس کے بعد امیر الحجاج کی حیثیت سے اپنے بعد کے سفر حج کے چار سفروں کو ’’مرآۃ الحرمین‘‘ نامی سفر نامہ میں مفصل طور پر جنت البقیع کے منہدم کیے جانے سے اُنیس سال قبل لکھتے ہیں: ’’عباس بن عبد المطّلبؓ، حسن بن علی ؑ اور تین ائمہ (امام علی بن الحسین ؑ، امام محمد بن علی ؑاور امام جعفر بن محمدؑ) ایک ہی گنبد کے نیچے مدفون ہیں، ان کا گنبد دوسروں سے بہت زیادہ اونچا ہے۔‘‘ (مرآۃ الحرمین؛ جلد ۱، صفحہ ۴۲۶، طبع مصر  ۱۳۴۴ہجری مطابق ۱۹۲۵ عیسوی)

جابری انصاری، کتاب ِ’’تاریخ اصفہان‘‘ میں ۱۳۴۴ ہجری کے واقعات کے ضمن میں وہابیوں کے ملک حجاز پر حملہ کرنے اور وہاں موجود اہم اسلامی شخصیات کی قبور اور مزارات کو منہدم کرنے کے بارے میں لکھتے ہیں: ’’حاجی امیر السلطنت کی جانب سے حکم دیئے جانے کے نتیجے میں ۱۳۱۲ہجری میں دو سال کی مدت میں بنائی جانے والی ضریح کو وہاں (موجود ائمہ بقیع کی قبور) سے اُکھیڑ لیا گیا اور جب وہابیوں نے چاہا کہ وہ (قبرستان بقیع کو منہدم و مسمار کرنے کے بعد) حضرت ختمی مرتبتﷺ کے حرم میں داخل ہوں تو اُن میں سے ایک نے ’’یٰاَیُّھَا الَّذِیْنَ آمَنُوا لَا تَدْخُلُوْا بُیُوْتَ النَّبِیّ۔۔۔۔‘‘(اَے صاحبان ایمان! نبی ؐکے گھر میں داخل نہ ہو۔۔۔۔۔۔کی آیت کی تلاوت کی تو وہ اِس جسارت کو انجام دینے سے رُک گئے۔‘‘ (تاریخ اصفہان؛صفحہ۳۹۲)! میرزا محمد حسین فراہانی ؒ نے ۱۳۰۲ ہجری میں اپنے سفر حج میں بقیع اور اُس میں موجود ائمہ اربعہ کی زیارت کا احوال کچھ یوں درج کیا ہے: ’’قبرستان بقیع ایک بہت بڑا قبرستان ہے، جو شہر مدینہ کے مشرق میں دروازہ ٔسور سے متصل ہے۔۔۔۔۔ یہ قبرستان حج کے موسم میں حاجیوں کیلئے ہر دن مغرب کے وقت تک کھلا رہتا ہے اور جو بھی اِس کی زیارت کرنا چاہے، وہ اِس میں جا سکتا ہے لیکن حج کے علاوہ یہ جمعرات کے زوال سے جمعہ کے غروب تک کھلا رہتا ہے۔‘‘

ائمہ اثنیٰ عشر کے چار امام ؑایک بڑے سے بقعہ(بارگاہ) میں جو ہشت ضلعی شکل میں بنایا گیا ہے، مدفون ہیں۔۔۔۔ اِس بقعہ کی تعمیر کی صحیح تاریخ کا علم نہیں، لیکن محمد علی پاشا مصری نے ۱۲۳۴ ہجری میں سلطان محمود خان عثمانی کے حکم کے مطابق اِسے تعمیر کرایا ہے اور اِس کے بعد سے تمام عثمانی سلاطین کی جانب سے یہ بقعہ اور اِس قبرستان میں واقع دیگر تمام بقعہ جات ہر سال مرمت و تعمیر کیے جاتے رہے ہیں۔ یہاں کچھ ’’مقامات‘‘مشہور ہیں، جو حضرت فاطمہ صدیقہ طاہرہ ؑ کی قبر کے نام سے معروف ہیں، اُن میں سے ایک بقیع میں موجود حجرہ ہے، جسے ’’بیت الاحزان‘‘ کہا جاتا ہے اور اِسی وجہ سے یہاں آنے والے حجاج اور زائرین حضرت فاطمہ زہرا  ؑکی زیارت پڑھتے ہیں۔ یہاں موجود قبر کے سامنے سونے اور چاندی کے تاروں سے مزین ایک پردے کو گنبد کے چاروں طرف ڈالا ہوا ہے اور اُس پر یہ عبارت درج ہے: سلطان احمد بن سلطان محمد بن سلطان ابراہیم(سنۃ اِحدي وثلاثین و مأۃ بعد الف ۱۱۳۱ہجری)۔‘‘ (سفر نامہ فراہانی؛ صفحہ ۲۸۱، طبع ۱۳۶۲ شمسی ایرانی ، تدوین: مسعود گلزاری، چاپ چہارم)

حاجی فرہاد میرزا ۱۲۹۲ ہجری میں اپنے سفر حج کے مشاہدات کو اپنے سفر نامہ ’’ہَدْیَۃُ السَّبِیْل‘‘میں لکھتے ہیں: ’’میں باب ِجبرئیل ؑسے باہر آکر ائمہ بقیع کی زیارت سے مشرف ہوا۔۔۔۔ متولّی نے ضریح کا دروازہ کھولا، میں اندر گیا اور ضریح کے گرد چکر لگایا، وہاں پیر کی طرف کی جگہ بہت چھوٹی ہے کہ جہاں صندوق (قبر) اور ضریح کا درمیانی فاصلہ نصف ذراع سے بھی کم ہے۔ ‘‘(ہَدْیَۃُ السَّبِیْل؛صفحہ ۱۲۷) نائب الصدر شیرازی ۱۳۰۵ ہجری میں اپنے سفر حج کے مشاہدات کو اپنے سفر نامہ ’’تُحْفَۃُ الْحَرِمَین” میں لکھتے ہیں: ’’وادی بقیع داہنے ہاتھ پر واقع ہے، جو ایک سر پوشیدہ مسجد ہے کہ جس (کے صدر دروازے) پر یہ عبارت درج ہے:’’ھٰذَا مَسْجِدُ اُبَی بْنِ کَعْب وَصَلّیٰ فِیْہِ النَّبِیُّ غَیْرَ مَرَّۃٍ‘‘،(یہ مسجد اُبی بن کعبؓ ہے کہ جس میں رسول اللہﷺ نے کئی مرتبہ نماز پڑھی ہے)۔

یہاں امام حسن ؑ، امام زین العابدینؑ، امام باقر ؑ اور امام صادق ؑکی قبور مطہرہ ایک ضریح میں دن دفن ہیں، اُس کے سامنے ایک پردے دار ضریح ہے کہ جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہاں حضرت فاطمہ زہرا  ؑمدفون ہیں۔‘‘ (تُحْفَۃُ الْحَرِمَیْن؛صفحہ ۲۲۷) معروف مدینہ شناس، مؤرّخ، محدث، رجال شناس اور ادیب شافعی ابو عبد اللہ محب الدین محمد ’’ابن نجار‘‘ (۵۷۸۔۴۳ ۶ ہجری) کہتا ہے: (www.cgie.org.ir؛جلد۵،مقالہ ۱۸۵۴) ’’وَعَلَیْھَا بَابَانِ یَفْتَحُ اَحَدُھُمَا  فِی کُلِّ  یَوْم  لِلزِّیَارَۃِ ‘‘، قبرستان بقیع کے دو دروازے تھے کہ جن میں سے ایک دروازہ ہر دن زائرین کیلئے کھولا جاتا تھا۔‘‘ (اخبار مدینۃ الرسول؛ مکتبۃ دار الثقافۃ، مکۃ مکرمۃ، صفحہ ۱۵۳)
بقیع
قبرستان بقیع کی تعمیر، ضریح اور حرم کی منظر کشی:
قبرستان بقیع اپنی تاریخ میں تین مرتبہ تعمیر کیا گیا ہے۔ معروف سیاح اور مؤرّخ ابن جبیر اپنے سفر نامہ میں لکھتے ہیں: ’’بقیع پہلی مرتبہ ۵۱۹ ہجری میں ’’اَلْمُسْتَنْصَر بِاللّٰہِ‘‘ اور تیسری مرتبہ تیرہویں صدی کے اواخر میں ’’سلطان محمود غزنوی‘‘ کے ذریعے سے تعمیر کیا گیا ہے۔ یہاں موجود کُتبوں پر درج عبارتیں کہ جن کو سیاحوں نے اپنے اپنے سفر ناموں میں بیان کیا ہے، اِسی حقیقت کی عکاسی کرتی ہیں۔‘‘ (رحلہ ابن جبیر؛ مطبوع دار الکتاب اللُّبْنَانیہ، صفحہ ۱۷۳)
ایک حقیقت!
ایک نکتے کی جانب اشارہ ضروری ہے اور وہ یہ کہ ائمہ بقیع پر حرم و بارگاہ کی تعمیر  ۵۱۹ ہجری سے قبل ہوئی تھی اور اُس کی اصلاح اور مرمت کا کام بعد میں انجام دیا گیا تھا۔ مشہور مؤرّخ ’’سمہودی‘‘ ابن جبیر کی بات کے بر خلاف کہتا ہے: ’’۵۱۹ ہجری میں تعمیر شدہ بارگاہ و گنبد کے وجود میں آنے کے پچاس سال بعد اِس حرم کی پہلی تعمیر عباسی خلیفہ ’’مسترشد باللہ‘‘ کے حکم سے ہوئی۔ حضرت عباس بن عبد المطّلب ؓکی قبر کے پاس طاق میں موجود ایک چھوٹے سے کُتبے پر یہ عبارت درج ہے: اِنَّ الْأمْرَ بِعملہ المُسْتَرشِد باللّٰہ تسع و عشرۃ و خمسمأۃ۔‘‘ (وفاء الوفاء؛ جلد۳، صفحہ ۹۱۶)

یہاں ایک اور نکتے کی جانب اشارہ ضروری ہے اور وہ یہ اِس حرم کی اصل عمارت اِس تاریخ سے قبل ہے کہ جسے سمہودی نے بیان کیا ہے اور حرم کی تعمیر کا اُس کا حکم اُس کی مرمت اور اصلاح کیلئے تھا۔ دوسری بات یہ کہ مسترشد باللہ اُنتیسواں(۲۹) عباسی خلیفہ ہے، جو ۵۱۲ ہجری میں اپنے باپ ’’مستظہر باللہ‘‘ کے بعد خلافت کو حاصل کرتا ہے اور ۵۲۹ ہجری میں قتل کر دیا گیا۔ حرم ائمہ بقیع کی دوسری تعمیر و مرمت عباسی خلیفہ ’’مستنصر باللّٰہ‘‘ کے حکم سے ۶۲۳ ہجری اور۶۴۰ہجری کے درمیانی عرصے میں انجام پائی۔ سمہودی اِس بارے میں لکھتا ہے: ’’حرم بقیع میں موجود محراب کے اوپر لگے ہوئے چھوٹے سے کُتبے پر یہ عبارت درج ہے: اَمر بعملہ المنصور المستنصر باللّٰہ۔‘‘ (وفاء الوفاء؛ جلد۳، صفحہ ۹۱۶) مستنصر باللہ کا اصل نام منصور، کنیت ابو جعفر تھی، وہ ’’الظَّاہر باللّٰہ‘‘ کا بیٹا تھا اور وہ تیتیسواں (۳۳) عباسی خلیفہ ہے اور علامہ سیوطی ؒ کے قول کے مطابق۶۲۳ہجری میں خلافت حاصل کرتا ہے اور۶۴۰ ہجری میں دار ِفانی کو وداع کہتا ہے۔(تاریخ الخلفاء؛صفحہ ۴۲۴)

اِس حرم کی تیسری تعمیر تیرہویں صدی کے اوائل میں عثمانی خلیفہ سلطان محمود غزنوی کے حکم سے ہوئی۔ ’’فرہاد میزرا‘‘ ۱۲۹۲ ہجری میں حج کی سعادت کے حاصل ہونے کے بعد بقیع کا حال کچھ یوں بیان کرتا ہے: ’’بقیع میں بقعہ مبارکہ کی تعمیرنو سلطان محمود خان کے حکم سے ایک ہزار دو سو ہجری میں ہوئی، وہ سلطان محمد ثانی ہے، جو تیسوواں عثمانی خلیفہ ہے۔ سلطان محمود چوبیس سال کی عمر میں۱۲۲۳ ہجری میں خلافت کو پہنچا اور ۱۲۵۵ ہجری میں انتقال کر گیا۔‘‘(نامہ فرہاد میرزا؛ چاپ مطبوعات علمی ۱۳۶۶ شمسی ایرانی، تہران، صفحہ ۱۴۱) (رجوع کریں: قاموس الاعلام ترکی؛ جلد۶، صفحہ ۴۲۲۵؛ فصلنامہ میقات ِحج؛ سال دوم، شمارہ پنجم صفحہ ۱۱۸۔ شمارہ ششم، زمستان ۱۳۷۲ شمسی ایرانی) معروف سیاح اور مؤرّخ ابن جبیر اپنے سفر نامہ میں لکھتے ہیں: ’’قبرستان بقیع کے دو دروازے ہیں کہ جن میں سے ایک ہمیشہ بند رہتا ہے اور دوسرا دروازہ صبح سے غروب تک زائرین کیلئے کھلا رہتا ہے۔ حرم بقیع ’’ہشت ضلعی‘‘ ہے اور اِس کی دوسری خصوصیت اِس میں محراب کا ہونا ہے، نیز اِس حرم کے بہت سے خادم تھے۔ دوسرے تمام حرموں کی مانند حرم ائمہ بقیع میں بھی ضریح، روپوش، بڑے فانوس، شمعدان اور قالین موجود تھے۔‘‘(رحلہ ابن جبیر؛ مطبوع دار الکتاب اللُّبْنَانیہ، صفحہ ۱۷۳)

محمد لبیب مصری(بتنونی) ۱۳۲۷ ہجری میں حجاز کے اپنے سفرنامہ ’’رحلہ بتنونی‘‘ کے بارے میں لکھتے ہیں: ’’مقصورۃ سیِّدنا الحسن فیھا فخیمۃ جدّاًو ھی من النّحاس المنقوش بالکتابۃ الفارسیّۃ وأظنّ أنَّّھا من عمل الشّیعۃ الأعاجم‘‘؛وہاں ’’قُبَّہُ البین‘‘ نامی ایک معروف گنبد موجود ہے کہ جس میں ایک حجرہ موجود ہے اور اُس میں ایک گڑھا ہے کہ جس کے بارے میں یہ بات شہرت رکھتی ہے کہ یہاں آنحضرتﷺ کا دندانِ مبارک گرا تھا، اِس کے علاوہ امام حسن ابن علی کی قبر ایک اور قبہ(بارگاہ) کے نیچے واقع ہے کہ جسے تانبے کی دھات سے بنایا گیا ہے اور اُس پر فارسی رسم الخط کی کوئی عبارت درج ہے کہ جس کے بارے میں میرا خیال ہے کہ یہ عجمی شیعوں کی جانب سے لکھی گئی ہے۔‘‘  (رحلہ بتنونی؛ مطبوعہ  ۱۳۲۹ مصر، صفحہ ۲۳۷)

پہلی ضریح:
’’بتنونی‘‘ کے اِس بیان کی روشنی میں واضح ہو جاتا ہے کہ یہ پہلی ضریح ہے کہ جسے ایرانیوں نے بنایا ہے۔ اگر یہ تقریبی گمان و خیال واقعیت رکھتے ہوں تو اِس ضریح کی تقریبی ساخت کی تاریخ اور اِن کے بانیوں کا بھی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ائمہ بقیع کے بقعہ جات کی تعمیر کے ساتھ ساتھ یہ ضریح پانچویں صدی ہجری کے دوسرے نصف میں ’’مجد الملک براوستانی” کے حکم سے بنائی گئی ہے۔
دوسری ضریح:
سید اسماعیل مرندی اپنی کتاب ’’توصیف ِمدینہ‘‘ کہ جسے اُنہوں نے ۱۲۵۵ ہجری میں تالیف کیا ہے، میں لکھتے ہیں: ’’یہ پانچوں مطہر تن ایک ضریح میں دفن ہیں، جو لکڑی کی جالی دار ضریح ہے اور عباس بن المطّلب ؓاِسی ضریح میں اِن کے سرہانے بالکل جدا دفن ہیں۔”

یہ صرف وہ جسارتیں ہیں کہ جن کو صرف بقیع کے مسمار کیے جانے کے ضمن میں بیان کیا گیا ہے، جبکہ آل سعود نے وہابی فرقے کی تعلیمات کے مطابق مکہ، مدینے، طائف اور دیگر بلاد ِاسلامی کے تمام تاریخی آثار و مزار اور بارگاہوں کو نابود کیا ہے کہ جن کا تعلق شیعہ سنی مکاتب ِفکر سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات سے ہے! فرقہ وہابیت کی تعلیمات سے آگاہی اور اُن کے شبہات کا جواب دینے کیلئے ایک الگ کتاب لکھنے کی ضرورت ہے۔ یہ عالم اسلام کی چودہ سو سالہ تاریخ کا ایک مختصر سا ورق ہے کہ جو تاریخی اسناد و دستاویزات کی روشنی میں آل سعود اور فرقہ وہابیت کے سیاہ کارناموں کی ایک زندہ اور حقیقی مثال ہے اور دورِ حاضر کا مسمار قبرستان بقیع آج کے مسلمانوں سے اِس بات کاسوال رہا ہے کہ وہ اِس تاریخی بے حرمتی پر کیوں خاموش ہیں۔؟

بشکریہ اسلام ٹائمز

یہ بھی دیکھیں

ڈاکٹرز کے ہاتھوں ڈاکٹر کی موت

تحریر: جاوید چوہدری ڈاکٹر حافظ سلمان علی لاہور کے نوجوان سرجن تھے‘ ان کی چھوٹی …