اتوار , 12 جولائی 2020

کورونا کے معاشی صورتحال پرمنفی اثرات

اداراتی نوٹ

اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی نے شرح سود میں مزید ایک فیصد کمی کر دی، جس کے بعد شرح سود سات فیصد کی سطح پر آگئی ہے۔ یہ اقدام ایک بہتر مستقبل کی بنیاد پر کیا گیا ہے، جسے ہم موجودہ حالات میں معاشی ترقی کو مہمیز کرنے کے لیے مناسب کہہ سکتے ہیں۔دوسری جانب ہم اس بات سے بھی انکار نہیں کرسکتے کہ ملک میں معاشی سست رفتاری برقرار ہے اور اس کی نمو میں کمی کے خطرات بھی بڑھ چکے ہیں۔یہ حقیقت بھی اظہر من الشمس ہے کہ عالمی معاشی منظر نامے میں درپیش خطرات بدستور موجود ہیں اور معاشی و اقتصادی بحالی میں سد راہ ہیں۔ وفاقی بجٹ پیش ہوچکا ہے، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے اثرات اس حد تک ملکی معیشت پر مرتب نہیں ہوئے ہیں جتنی ہم توقع کررہے تھے۔ پاکستان اسٹاک ایکس چینج میں اگلے روز مندی رہی، تاہم ماہرین نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے شرح سود میں مزید ایک فیصد کمی کو مارکیٹ کی سرگرمیوں کو بہتر بنانے کی پیشگوئی کی ہے۔

ہماری ملکی معیشت اس وقت بحرانی دور سے گزر رہی ہے، عالمی بینک کی رپورٹ کے تشویشناک اشارئیے کے مطابق 68 برس بعد پاکستانی معیشت کو منفی گروتھ کا سامنا ہے۔ ایسی بحرانی صورت حال 1951 میں پیدا ہوئی تھی۔ 1965 اور 1971 کی جنگوں کے نتیجے میں بھی ملکی معیشت میں اتنی گراؤٹ نہیں آئی تھی اور نہ1971 میں مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے نتیجے ہی میں ملکی معیشت کا گراف اتنا نیچے آیا تھا ۔ وزارت خزانہ کے بیان کے مطابق بدترین حالات میں ملکی معیشت کی شرح ترقی منفی1.57 رہ سکتی ہے۔ پریشان کن امر یہ ہے کہ معاشی سست روی اب منفی شرح ترقی میں تبدیل ہوچکی ہے۔آئی ایم ایف اور عالمی بینک دونوں بھی اس گھمبیر صورت حال کی نشان دہی کر رہے ہیں۔ ہم اس بات کو کیسے نظر انداز کرسکتے ہیں کہ عالمی وبا کورونا وائرس کے باعث پاکستان کو ہونے والا معاشی نقصان 25 کھرب روپے تک پہنچنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔پاکستان کو برآمدات اور درآمدات کے حوالے سے بھی مشکل صورت حال درپیش ہے۔

دنیا کی موجودہ معاشی صورت حال، لاک ڈاؤن اور معاشی سرگرمیوں میں کمی کے باعث برآمدات میں دس سے 20 فیصد کمی کا امکان ہے جب کہ درآمدات میں اس سے کہیں زیادہ کمی کے خدشات سر پہ منڈلا رہے ہیں۔ اس وقت نئے برآمدی آرڈر کا ملنا بہت مشکل دکھائی دے رہا ہے۔ پاکستان کی بڑی روایتی منڈیاں، امریکا، یورپ اور خلیج کے ممالک خود لاک ڈاؤن کی وجہ سے بری معاشی صورت حال سے دوچار ہیں۔ عالمی تجارت اب تک 12 فیصد سے زائد گر چکی اور اس میں مزید کمی خارج از امکان نہیں۔صنعتوں کے دوبارہ کھلنے کے باوجود پاکستان کے برآمدی شعبے کی مشکلات دیرپا رہنے کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔ امکان یہی ہے کہ موجودہ عالمی معاشی بحران اور کساد بازاری 1929 کے بعد کا سب سے بڑا بحران ہوگا۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کورونا کا اگلا مرحلہ مشکل ہے، لیکن ہمت نہیں ہارنی۔ سیاسی حلقوں کی جانب سے اس امر کا اظہار بار بار کیا جا رہا ہے کہ حکومت کورونا وائرس کے حوالے سے کنفیوژن کا شکار ہے اور اس حوالے سے اس کی پالیسیوں میں ابہام کا دور نہ ہونا مزید مشکلات کا باعث بن رہا ہے۔ قومی اسمبلی میں بجٹ سیشن سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے اس امر کا اعادہ کیا کہ اب بھی اگر احتیاط نہ کی گئی تو اسپتالوں پر پریشر بڑھے گا۔حکومتی حلقوں کے مطابق کورونا وائرس کے حوالے سے وزیراعظم کی فکربالکل صائب ہے، وہ ایک واضح موقف رکھتے ہیں، اپوزیشن کا کام تو صرف تنقید کرنا ہی ہوتا ہے۔ ملک میں کورونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے ضابطہ اخلاق (SoPs) پر عمل درآمد کروانا ضروری ہے۔

ورنہ صحت اور معیشت کا کہیں زیادہ بڑا بحران پیدا ہو سکتا ہے۔ ہمیں اس خوفناک صورت حال سے ہر ممکن بچنا ہے جو امریکا اور یورپ کے کئی ممالک میں پیدا ہوئی ہے۔ حکومت کو ضابطہ اخلاق پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات اٹھانا ہوں گے ورنہ صورت حال تیزی سے خراب ہو سکتی اور حکومت کو مجبوراً دوبارہ لاک ڈاؤن کرنا پڑسکتا ہے۔ عوام بھی جس طرح احتیاطی تدابیر کو نظر انداز کر رہے ہیں، یہ ایک انتہائی خطرناک طرز عمل ہے جو تباہی کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتا ہے۔دوسری جانب چیف جسٹس نے کورونا ازخود نوٹس کیس میں ریمارکس دیے ہیں کہ کورونا وائرس نے لوگوں کو راتوں رات ارب پتی بنا دیا ہے، بظاہر ملک میں کوئی ادارہ کام نہیں کررہا ہے، کسی انفرادی شخصیت کو فیور نہیں ملنی چاہیے۔جناب چیف جسٹس کے ریمارکس نظام میں موجود خرابیوں کی نشاندہی کررہے ہیں۔ وباء کے دنوں میں بھی جہاں فیورٹ ازم نے عوام کی مشکلات میں اضافہ کیا، وہیں بعض کے ارب پتی بن جانے کے عمل نے بھی نظام کی شفافیت پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔ ایسا کونسا جادو ہے کہ جب وبا کی وجہ سے لاکھوں لوگ بے روزگار ہورہے ہیں تو دوسری جانب دولت کے انبار لگ رہے ہیں۔

ہم اس حقیقت کو بھلا کیسے جھٹلا سکتے ہیں، کوئی بھی معیشت کئی محاذوں پر کھلنے والا اتنا زیادہ نقصان برداشت نہیں کر سکتی ۔ کاروبار میں زوال آئے گا تو لوگ نوکریوں سے نکالے جائیں گے، نوکریاں نہیں ہوں گی تو لوگ بینکوں کی قسطیں نہیں بھر سکیں گے اور راشن اور دوسرے اخراجات، یوٹیلیٹی بلز کی ادائیگی، گاڑی اور گھرکی قسطیں نہیں دے سکیں گے اور اس طرح ایک نہ ختم ہونے والا معاشی چکر چل جائے گا جس میں غربت، وباء سے زیادہ تیزی کے ساتھ لوگوں کو متاثر کرتی چلی جائے گی۔ اسی تناظر میں دیکھا جائے تو اقتصادی ماہرین تین اہم وجوہات بیان کرتے ہیں۔اوّل، ان کا اثر براہِ راست سرمایہ دار طبقے کے اعتماد پر ہوتا ہے اور وہ ملکی معیشت میں سرمایہ لگانا چھوڑ دیتے ہیں اور کوئی نئے منصوبے شروع نہیں کرتے بلکہ پہلے سے موجودہ منصوبہ جات کو بھی مختصر کردیتے ہیں۔ دوسرے ، اس کا بالواسطہ اثر عام آدمی کے اعتماد اور مزید کمانے کی امید پر پڑتا ہے اور وہ صرف انتہائی ضروریاتِ زندگی کے سوا ہر قسم کے خرچ سے ہاتھ کھینچ لیتا ہے اور تیسرا اثر، براہِ راست اشیا اور افرادی قوت کی سپلائی پر پڑتا ہے۔ اگر کسی کے پاس خام مال نہیں ہوگا یا اس سے بنائی جانے والی مصنوعات کے لیے افرادی قوت نہیں ہوگی تو مصنوعات مارکیٹ تک نہیں پہنچیں گی جس سے مارکیٹ میں کاروبار مندی کا شکار ہو جائے گا۔

حکومت کے لیے مشکل امر یہ ہے کہ وہ دونوں بحرانوں سے بیک وقت نبرد آزما ہے۔ کورونا وائرس قابو سے باہر ہوتا ہے تو دوبارہ لاک ڈاؤن کرنا پڑے گا، جس سے معیشت کا پہیہ دوبارہ سے رک جائے گا۔ حکومت کو معیشت کا پہیہ چلانے اور کورونا وائرس کو روکنے کے اقدامات بیک وقت کرنا ہوں گے۔ پاکستانی برآمدی صنعتوں کے پاس موجود آرڈر نہ صرف تاخیر کا شکار ہیں بلکہ کئی ایکسپورٹرز کے پیسے بھی پھنسے ہوئے ہیں۔ عالمی تجارت کے متاثر ہونے سے نہ صرف برآمدات پربرا اثرپڑا ہے بلکہ درآمدات بھی متاثر ہوئی ہیں۔صنعتوں کو خام مال کی درآمد کے حوالے سے بھی مشکلات کا سامنا ہے۔ پاکستان میں کئی کاروبار ایسے ہیں جن کا دارومدار درآمدات پر ہے۔ درآمدات متاثر ہونے سے نہ صرف کمرشل امپورٹرزکے کاروبارمتاثر ہوئے بلکہ صنعتی امپورٹرزکو بھی مشکلات کا سامنا ہے۔ ان کی پیداوار خام مال نہ ملنے کے باعث یا تو رک گئی ہے یا پھر کم ہوئی ہے۔ اس کا نتیجہ ریونیومیں کمی، ملازمتوں کے خاتمے اورتنخواہوں میں کمی کی صورت میں سامنے آئے گا۔

اقتصادی ماہرین کی نظر میں کورونا وائرس کی موجودہ وبا جنگِ عظیم دوم کے بعد معاشی بحران کا سب سے بڑا سبب بنے گی۔ سوال یہ نہیں کہ معاشی بحران آئے گا یا نہیں، سوال یہ ہے کہ اس کا دورانیہ کتنا ہوگا اور یہ کتنی گہرائی میں جا کر کسی بھی ملک کی معیشت کو جڑوں سے کھوکھلا کرے گا۔ یہ ایک نازک وقت ہے، ہماری حکومت کو ایسی معاشی پالیسیاں ترتیب دینی ہیں ،جس کے نتیجے میں ملکی معیشت کا پہیہ بھی رواں رہے، اور عام آدمی کو دو وقت کی روٹی بھی بآسانی ملتی رہی۔

بشکریہ: ایکسپریس نیوز

یہ بھی دیکھیں

سیاسی پرندے

تحریر: سہیل وڑائچ سیاسی منڈیر پر بیٹھا کالا کوا خبردار کر رہا ہے کہ اگلے …