بدھ , 8 جولائی 2020

وکلاء تحریک اور آزاد عدلیہ

تحریر:ڈاکٹر توصیف احمد خان

عدلیہ کی آزادی اور بنیادی انسانی حقوق کا تحفظ ایک جمہوری ریاست کے لیے لازمی ہیں۔ پاکستان میں حقیقی جمہوری ریاست کا حقیقی ماڈل ابھی تک عملی شکل اختیار نہیں کرپایا مگر انصاف کی ہر فرد تک رسائی اور آزاد عدلیہ کے تصور کو حقیقی شکل دینے کے لیے وکلاء نے تاریخی جدوجہد کی ہے۔ وکلاء کی جدوجہد کے نتیجہ میں بار ایسوسی ایشن اور بار کونسل مستحکم ہوئی ہیں اور ان تنظیموں نے آئین کی بالادستی اور عدلیہ کی آزادی کے لیے تابناک جدوجہد کی ہے۔

حسین شہید سہروردی متحدہ بنگال کے پریمیئر تھے۔ بنگال میں ہونے والے فرقہ وارانہ فسادات کی آگ کو روکنے کے لیے وہ کلکتہ میں رک گئے اور مہاتما گاندھی کے ساتھ مل کر انھوں نے بنگال کے دونوں حصوں میں امن قائم کرنے کی کوشش کی۔ حسین شہید سہروردی کا شمار ہندوستان کے معروف وکلاء میں ہوتا تھا۔ وزیر اعظم لیاقت علی خان کی حکومت نے کوشش کی کہ سہروردی کو وکالت کا لائسنس نہ ملے مگر پنجاب کے شہر منٹگمری (موجودہ ساہیوال) کی بار ایسوسی ایشن نے سہروردی کو اپنی بار کا رکن بنایا۔ سہروردی صاحب نے انسانی حقوق کی پامالی کے خلاف آواز اٹھانا شروع کی۔

انھوں نے امتناعی قوانین سیکیورٹی ایکٹ کے تحت گرفتار ہونے والے سیاسی کارکنوں کے مفت مقدمات لڑنے شروع کیے۔ ان مقدمات میں راولپنڈی سازش کیس زیادہ مشہور ہوا۔ اس مقدمہ میں فیض احمد فیض بھی ملوث ہوئے۔ نیشنل عوامی پارٹی کے رہنما میاں محمود علی قصوری نے 1947 سے جنرل ضیاء الحق کے دور تک عدلیہ کی آزادی اور بنیادی انسانی حقوق کے لیے عدالتوں میں آواز اٹھائی، وہ عظیم شاعر فیض احمد فیض اور سیکڑوں سیاسی کارکنوں کے وکیل رہے۔ قصوری صاحب نے نیشنل عوامی پارٹی کے رہنماؤں کا حیدرآباد سازش کیس میں دفاع کیا۔ ان کے چیمبر سے تعلق رکھنے والے وکلاء بار کونسلوں کی خودمختاری کی جدوجہد میں اپنا کردار ادا کیا۔

وکلاء کی تحریک کو جلا دینے میں فخر الدین جی ابراہیم کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ انھوں نے 1949 میں وکالت کا آغاز کیا۔ وہ معروف صحافی زیڈ اے سلہری کے وکیل رہے۔ کراچی میں بائیں بازو کی طلبہ تنظیم ڈیموکریٹک اسٹوڈنٹس فیڈریشن (D.S.F) نے جنوری 1953میں تعلیم کو عام اور سستا کرنے کے لیے تحریک چلائی۔ ڈی ایس ایف کے 12 طالب علم رہنماؤں کو سیفٹی ایکٹ کے تحت کراچی سینٹرل جیل میں نظربند کیا گیا۔ کمیونسٹ رہنما حسن ناصر بھی اس وقت نظربند تھے۔

فخر الدین جی ابراہیم نے ان رہنماؤں کو رہا کرانے کے لیے عدالتوں کی خاک چھانی۔ فخر الدین جی ابراہیم سندھ ہائی کورٹ کے جج بننے تک شہری آزادیوں کی پامالی کے مقدمات کی پیروی کرتے رہے۔ فخر الدین نے سندھ ہائی کورٹ اور پھر سپریم کورٹ کے جج کی حیثیت سے انسانی حقوق کے تحفظ، آئین اور قانون کی بالادستی کے تاریخی فیصلے دئیے اور جنرل ضیاء الحق کے نافذ کردہ عبوری آئینی حکم (P.C.O) کے تحت حلف اٹھانے سے انکار کیا اور پھر وہ وکلاء کی تحریک کے ایک کارکن کی حیثیت سے کام کرتے رہے، جب گورنر جنرل غلام محمد نے پہلی آئین ساز اسمبلی کو توڑا تو مولوی تمیز الدین نے اس فیصلہ کو چیلنج کیا۔

سید شریف الدین پیرزادہ ، آئی آئی چندریگر اور منظر عالم ایڈووکیٹ نے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے مولوی تمیز الدین کا دفاع کیا۔ (مگراس وقت کے چیف جسٹس منیر نے نظریہ ضرورت کے تحت آئین ساز اسمبلی کے خاتمہ کو جائز قرار دیا)۔مغربی پاکستان ہائی کورٹ کے جسٹس کیانی نے انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے تاریخی فیصلے دئیے۔

جنرل ایوب خان نے دھاندلی کے ذریعہ صدارتی انتخاب میں فاطمہ جناح کو شکست دی، جب کراچی کے لوگوں نے انتخابی نتائج کے خلاف احتجاج کیا تو مسلح افراد نے لالو کھیت میں عوام پر فائرنگ کی اور اس فائرنگ میں کئی افراد ہلاک ہوئے۔ معروف وکیل علی مختار نقوی نے مغربی پاکستان ہائی کورٹ کراچی بنچ میں مقدمہ کی پیروی کی، انھیں دھمکیاں دی گئیں۔ سندھ ہائی کورٹ کے سابق جج حسن فیروز کا کہنا ہے کہ علی مختار نقوی کو حکومت نے ہائی کورٹ کا جج بنانے کی پیشکش کی مگر نقوی صاحب نے اصولوں پر سمجھوتہ سے انکار کیا۔

بعد میں جنرل ایوب کی حکومت نے یہ کراچی کا مقدمہ لاہور منتقل کرادیا۔ جنرل ضیاء الحق نے 5 جولائی 1977 کو آئین معطل کیا اور اقتدار پر قبضہ کرلیا۔ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے ان تمام ججوں کو برطرف کیا گیا جو 1973 کے آئین کی بالادستی میں کسی قسم کا سمجھوتہ کرنے کو تیار نہیں تھے۔ وکلاء تنظیموں کو متحرک کرنے کے لیے ایک اہم مرحلہ آیا۔ بائیں بازو کے رہنما اور  معروف وکیل عابد حسن منٹو کی قیادت میں آل پاکستان وکلاء رابطہ کمیٹی قائم ہوئی۔ اس کمیٹی نے پورے ملک میں 1973کے آئین کی بحالی کے لیے وکلاء تنظیموں کو متحد کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

اس رابطہ کمیٹی کی کوششوں سے عابدحسن منٹو، ملک قاسم افضل حیدر جیسے وکلاء ملک کی سب سے بڑی بار لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدور منتخب ہوئے۔ کراچی میں کراچی بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر حفیظ لاکھو کی قیادت میں وکلاء منظم ہوئے۔ پاکستان بار کونسل کے رکن اختر حسین اپنی یادداشتوں کو سمیٹے ہوئے بتاتے ہیں کہ 1984 میں کراچی بار ایسوسی ایشن نے احتجاجی جلوس نکالا۔ پولیس نے حفیظ لاکھو ، رشید اے رضوی، اختر حسین، فاروق نائک، ضیاء اعوان اور انور اشفاق سمیت کئی وکلاء کو گرفتار کیا۔

یہ وکلاء 8 ماہ تک کراچی جیل میں نظربند رہے۔ سندھ ہائی کورٹ کے سابق جج جسٹس حسن فیروز ایم آر ڈی کراچی کے کنوینئر تھے۔ انھوں نے کراچی بار ایسوسی ایشن کے دفتر کے سامنے گرفتاری دی۔ وکلاء کی تحریک 1973کے آئین کی بحالی تک جاری رہی۔ جب سابق صدرپرویز مشرف نے اکتوبر 1999ء میں وزیر اعظم نواز شریف کی حکومت کو برطرف کیا اور عبوری آئینی حکم نہ ماننے پر ے ججوں کو برطرف کیا تو بار ایسوسی ایشن نے ایک دفعہ پھر نعرہ حق بلند کیا۔

وکلاء تحریک میں ایک اہم ترین موڑ سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری کی معطلی کے وقت آیا۔ ملک کے تمام وکلاء سابق صدر پرویز مشرف کے اس فیصلہ کو غیرآئینی سمجھتے تھے۔ اس وقت سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر منیر اے ملک تھے۔ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے جسٹس افتخار چوہدری کی بحالی کے لیے تحریک چلانے کا فیصلہ کیا۔ حزب اختلاف کی تمام سیاسی جماعتوں اور پروفیشنل تنظیموں نے اس تحریک کی حمایت کی۔ اس تحریک کے دوران جسٹس افتخار چوہدری کے طویل جلوس نکلے۔ منیر اے ملک سمیت بہت سے وکلاء کو گرفتار کیا گیا اور پھر سپریم کورٹ نے افتخار چوہدری کو بحال کردیا۔وکلاء تنظیموں نے پرویز مشرف کے صدارتی انتخاب میں کاغذات نامزدگی کو چیلنج کیا۔صدر پرویز مشرف نے ایمرجنسی نافذ کردی۔

چیف جسٹس افتخار چوہدری سمیت سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے بہت سے ججوں کو برطرف کردیا گیا۔ وکلاء تنظیموں نے 2008 کے انتخابات کے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا۔ اعتزاز احسن کی قیادت میں چلائی جانے والی تحریک کے نتیجہ میں جسٹس افتخار چوہدری بحال ہوئے اور عدلیہ کی آزادی کا ایک نیا دور شروع ہوا۔ وکلاء نے عاصمہ جہانگیر کو سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کا صدر منتخب کیا۔ اس موقعے پر وکلاء دو گروہوں میں بٹ گئے۔ ایک گروپ کی قیادت عاصمہ جہانگیر اور دوسرے کی قیادت حامد خان نے کی۔

ملک کی تاریخ میں انتخابات میں ایک دوسرے کی شدید مخالفت کرنے والے گروپوں کا عدلیہ کی آزادی کے لیے متحد ہونا ایک منفرد مثال ہے۔ سینئر وکیل اختر حسین کہتے ہیں کہ وکلاء مارشل لاء کے دور میں تو متحد ہوجاتے ہیں مگر جب منتخب حکومتیں برسر اقتدار آتی ہیں تو بہت سے وکلاء اپنی پسند کی سیاسی جماعتوں کی پیروی کرنے لگتے ہیں۔ اس رویہ سے آزاد عدلیہ اور آئین  کی بالادستی کی تحریک کو نقصان ہوا ہے۔ وکلاء تحریک اگر فعال رہتی ہے تو کسی طالع آزما کو آئین کو پامال کرنے کی جرات نہیں ہوگی۔

بشکریہ ایکسپریس نیوز

یہ بھی دیکھیں

مائنس ون فارمولہ کی سیاسی حقیقت

تحریر:سلمان عابد پاکستان کی سیاست کی خوبی یہ ہے کہ اس میں بحران پیدا کرنا …