اتوار , 12 جولائی 2020

مافیا اور عمران خان کے یوٹرن

تحریر: ڈاکٹر ندیم عباس

ٹی وی سکرین پر نظر آنے والوں کی اکثریت عام پاکستانیوں کے مسائل سے آگاہ ہی نہیں ہوتی۔ ان لوگوں نے بارہ بجے بیدار ہو کر ایک بجے ناشتہ کرنا ہوتا ہے۔ ان کے کام کا آغاز ہی تین بجے ہوتا ہے اور رات تین بجے تک چلتا ہے۔ اس دروان یہ لوگ نہ منڈی جاتے ہیں اور نہ اشیائے ضروریہ کی خریداری کرتے ہیں، میٹنگز کے نام پر انہیں ذہنی عیاشی دستیاب ہے، جس سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہیں۔ ایک پروگرام کے پچاس ہزار سے لے کر پانچ لاکھ تک لینے والے یہ لوگ ایک مافیا کی شکل اختیار کرچکے ہیں۔ بہت سے ایسے ہیں، جو فقط ذاتی مفاد ملنے پر بحران کو نعمت ثابت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور مفاد کو نقصان پہنچنے پر فروانی کو قحط بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہ مفادات ہی ہیں جو انسان کو حقیقت کے بیان سے مانع بن جاتے ہیں۔

پچھلے ہفتے کی بات ہے، یوٹیلٹی سٹور سے چینی لینے گیا، پتہ چلا کہ چینی نہیں ہے، سٹور والے نے کہا کہ ایک دو دن تک پتہ کریں آجائے گی، میں نے کہا ٹھیک ہے۔ ٹی وی دیکھا تو پتہ چلا کہ پاکستان میں چینی کا بحران چل رہا ہے۔ حکومت کا ریٹ   69 روپے ہے اور وہ چاہتی ہے کہ چینی سپلائی کرنے والے اس ریٹ پر چینی عوام کو فراہم کریں۔ چینی برآمد کا سکینڈل، اس کی رپورٹ اور اربوں روپے وزیراعظم پاکستان کے دائیں بائیں موجود لوگوں کی جیبوں میں گیا، وہ اپنی جگہ ایک تلخ حقیقت ہے۔ کسی کے خلاف کارروائی نہ کرسکنا یا نہ کرنا بھی اپنے دعووں سے یوٹرن ہے۔ دو دن بعد دوبارہ چینی لینے پہنچا تو چینی نہیں تھی، پھر آنے کا کہا گیا، اب کون ان کے کل کل کے وعدوں پر اعتبار کرتا، مارکیٹ سے چینی 84 روپے پر کلو میں خریدی۔ اس سستا کرنے کا کیا فائدہ جو دستیاب ہی نہ ہو؟ اور مہنگی خریدنے کے لیے بھی دھکے کھانے پڑیں۔

خان صاحب نے پٹرول کو سستا کر دیا اور جب سستا ہوا تو ایسے بحران نے جنم لیا، جس نے پی پی دور کے گیس بحران کی یاد تازہ کر دی، لمبی لمبی قطاریں لگ گئیں۔ کئی چھوٹے شہر ایسے تھے کہ پورے شہر میں پٹرول دستیاب نہیں تھا، بڑی تگ و دو کی، مگر تیل دستیاب نہ ہونا تھا اور نہ ہی ہوا۔ عوام ذلیل ہوگئے اور حکومت کو صلواتیں سنانے لگے۔ مشاہداللہ خان نے سینٹ میں تقریر کرتے ہوئے بڑا دلچسپ نقطہ نکالا کہ ماضی میں حکومتیں اشیاء کی قیمتیں بڑھانے پر ذلیل ہوتی تھیں، یہ تاریخ کی واحد حکومت ہے، جو قیمتیں کم کرنے پر ذلیل ہو رہی ہے۔ ویسے ہمارے وزیراعظم نے اس کا خوبصورت حل نکالا کہ آج پٹرول کا ریٹ تقریباً ساڑھے پچیس روپے فی لیٹر بڑھا دیا۔ اب تیل پاکستان بھر میں دستیاب ہے، جس میں طاقت ہے خرید لے۔ ایک اندازے کے مطابق صرف اس فیصلے سے سرمایہ کاروں کو سات ارب روپے کا براہ راست فائدہ پہنچایا گیا۔

عمران خان صاحب فرمایا کرتے تھے اور بالخصوص ان کے معاشی امور کے مشیر خاص جناب اسد عمر صاحب کہ تیل کی قیمتیں صرف حکومتوں کی نااہلی سے بڑھتی ہیں، ورنہ جو تیل اس وقت ستر روپے میں لیٹر تھا، وہ بیالیس روپے میں مہیا کیا جا سکتا تھا اور یہ حکومت کی نااہلی اور مافیا سے ملی بھگت ہے کہ بجائے ٹیکس نٹ بڑھانے کے غریبوں پر بوجھ لاد دیتی ہے۔ اب وہ تفریق شائد ضرب میں تبدیل ہوگئی ہے، اسی لیے پٹرول کی قیمت ملکی تاریخ میں ایک بار میں سب سے زیادہ بڑھائی گئی ہے۔ کرونا ٹیسٹ لیبارٹریز بھی ایک مافیا کی شکل اختیار کرچکی ہیں، کئی لیبارٹریز نے پندرہ پندرہ، بیس بیس ہزار تک ٹیسٹ کی فیس لی۔ کرونا کے مریض تو دنیا کے مظلوم ترین لوگ بن چکے ہیں، ایک طرف اپنے بال بچوں، بہن بھائیوں اور والدین تک سے مل نہیں سکتے اور دوسری طرف حکومتی ہسپتالوں میں جگہ نہیں، اگر جگہ ہے تو علاج نہیں ہے۔

کسی دل جلے نے لکھا تھا کہ سرکاری ہسپتالوں میں جان نہیں بچتی اور پرائیویٹ ہسپتالوں میں جیب نہیں بچتی۔ ادوایات کی قیمتیں چار سو فیصد کے قریب بڑھ چکی ہیں، بہت سے نوٹسز بھی حکومت نے لیے، نتیجہ کیا نکلا؟ حد یہ ہے کہ گردوں کے انتہائی غریب مریضوں کو بھی اس مافیا نے نہیں بخشا، ایک غریب مریض جسے ایک ماہ میں آٹھ بار گردے واش کرانا ہوتے ہیں، اس کو کم از کم چودہ ہزار روپے خرچ کرنے پڑتے ہیں۔ عمران خان صاحب سے پہلے جس مافیا کی حکومت تھی، اس میں گردے فری واش ہوتے تھے۔ اب ہمیں معلوم نہیں کہ کونسا مافیا اچھا ہے۔؟ آج جب تیل کی قیمتیں پچیس روپے سے بھی زیادہ ایک ہی بار میں بڑھا دی گئیں تو ہمارے وزیر اطلاعات محترم جناب شبلی فراز کا بیان آیا کہ عوام کی فلاح پہلی ترجیح ہے، انھیں ریلیف دینے کی کوشش کرتے رہیں گے۔

جناب آپ اور وزیراعظم عمران خان صاحب کے ریلیف کے کسی بھی اعلان سے ڈر لگتا ہے، ریلیف رہنے دیں، جو چیزیں جیسے مل رہی ہیں، ویسے ہی ان کی سپلائی بحال رکھیں تو ہم شکر گزار ہوں گے۔ آپ لوگ جیسے ہی قیمتوں میں کمی کا اعلان کرتے ہیں، چیز مارکیٹ سے غائب ہو جاتی ہے اور ہمیں دوہری قیمت پر خریدنا پڑتی ہے۔ ہر وزیر کو شائد یہ ٹاسک دیا گیا ہے کہ وہ عوامی توجہ ہٹانے کے لیے ہر روز کوئی نہ کوئی بیان دے دے۔ محترمہ زرتاج گل صاحبہ کے کرونا کے انیس نکات کی شہرت تھمی ہی تھی کہ ریاض فتیانہ صاحب کی یہ تجویز سامنے آگئی کہ ٹڈی دل سے کرونا کا علاج ہونے کا اعلان کر دیں، اس سے ٹڈی دل سے جان چھوٹ جائے گی۔ رات گیارہ بجے پٹرول کی ایک لمبی لائن لگی ہوئی تھی، اس میں ایک منچلے نے ایک پوسٹر اٹھایا ہوا تھا، جو موجودہ حالات کی مکمل عکاسی کر رہا تھا، اس پر لکھا تھا کہ سکون صرف قبر میں ہے۔ ویسے عرض کر دیں کہ قبر میں سکون صرف انہی کو ہوگا، جو یہاں حقوق و فرائض ادا کر گئے، نہیں تو وہاں بھی۔

بشکریہ اسلام ٹائمز

یہ بھی دیکھیں

سیاسی پرندے

تحریر: سہیل وڑائچ سیاسی منڈیر پر بیٹھا کالا کوا خبردار کر رہا ہے کہ اگلے …