اتوار , 12 جولائی 2020

چین بھارت ایٹمی جنگ کیونکر؟

تحریر:تنویر ساحر

چین اور انڈیا کی کشیدگی کوئی اچانک معاملہ نہیں دونوں ممالک گزشتہ 60 سالوں سے زمینی ملکیت کے تنازعہ پر مقابل چلے آرہے ہیں۔ زمینی ملکیت کے تنازعے اکثر مشترکہ سرحدی ممالک کے درمیان چلتے رہتے ہیں۔ چین اور انڈیا کی ساڑھے تین ہزار کلومیٹر سرحد کے کئی مقامات پر یہ وجہ تنازعہ موجود ہے۔ چین اور انڈیا میں 1962 سے لیکر 2017 اور اب 2020 تک پانچ بار معمولی جنگیں اور جھڑپیں ہو چکی ہیں 1962 میں چین نے انڈیا کے ایک ہزار فوجیوں کو موت کے گھاٹ اتارا اور تین ہزار بھارتی فوجی جنگی قیدی بنا لئے گئے۔ چین اور انڈیا کے مابین اب تک 1962 کی جنگ ہی سب سے بڑی جنگ ہے۔ متنازعہ زمینی ملکیت کے حل کے لیے اب تک دونوں ملکوں میں 22 بار ناکام مذاکرات ہو چکے ہیں اس کے باوجود کبھی فیصلہ کن جنگ نہیں ہوئی۔

دنیا کی موجودہ ترجیحات کو مدنظر رکھتے ہوئے چین اور انڈیا کے ان تنازعات کو کسی ایٹمی جنگ کا پیش خیمہ قرار نہیں دیا جاسکتا کیونکہ دنیا اب کسی ایٹمی جنگ کی متحمل نہیں ہو سکتی اب تو دنیا معاشی جنگوں کی طرف جا رہی ہے جن میں بغیر گولی چلائے کسی بھی ملک پر قبضہ کرنے کا پلان بنایا جاتا ہے۔چین اور انڈیا میں ایٹمی ہتھیار پہلے استعمال نہ کرنے کا معاہدہ کئی سالوں سے موجود ہے دونوں میں سے کوئی بھی دوسرے ملک پر ایٹمی حملہ کرنے کی پہل نہیں کر سکتا۔

امریکہ کی ایک سابقہ رپورٹ کے مطابق 14930 جوہری ہتھیار دنیا بھر میں موجود ہیں جن میں 9400 ایٹمی ہتھیار نصب شدہ ہیں جو فیصلہ ہونے کے چند منٹ کے اندر چلائے جا سکتے ہیں۔۔ امریکہ، روس،برطانیہ اور فرانس میں 1800 جوہری ہتھیار ہر وقت الرٹ رہتے ہیں لیکن ان 1800 میں سے آج تک کوئی ایک بھی چلایا نہیں جاسکا۔۔ کچھ غیر مصدقہ اعدادوشمار کے مطابق چین کے پاس 270 پاکستان کے پاس 120 سے 130 تک اور انڈیا کے پاس 110 سے 120 تک ایٹمی ہتھیار موجود ہیں۔اب ملکوں کی بقاء معیشت پر ہے اور معیشت کا دارومدار پیداوار اور تجارت پر ہوتا ہے۔

ہندوستان کے سرحدی ممالک میں چین بنگلہ دیش سری لنکا برما بھوٹان نیپال اور پاکستان شامل ہیں ان تمام ممالک میں چین کے علاوہ اور کوئی بھی ایسا ملک نہیں ہے جو روزمرہ استعمال کی الیکٹرونکس اور موبائل مصنوعات بناتا ہو نہ ہی ان ملکوں کی اتنی زرعی پیداوار ہے کہ ہندوستان کی ایک ارب سے زائد انسانی آبادی کی خوراک کی ضروریات پوری کر سکے اپنی خوراک کی ضروریات میں ہندوستان خود کفیل ہے لیکن روزہ مرہ زندگی کی ضروریات کے لیے وہ چین کا محتاج ہے۔ ہندوستان کے تاجر کا 80 فیصد انحصار چینی الیکٹرونکس اور موبائل مصنوعات پر ہے۔ گو حالیہ کشیدگی کے دوران ہندوستانی بعض طبقوں کی طرف سے چینی مصنوعات کے بائیکاٹ کی مہم دکھائی دے رہی ہے البتہ اس جذباتی مہم سازی سے چین کو کوئی تجارتی خسارہ ہو یا نہ ہو لیکن ہندوستانی چھوٹے بڑے ہر تاجر کی معیشت ضرور خطرے میں چلی جائے گی یہی وجہ ہے کہ ہندوستانی حکومت کی طرف سے ایسی کسی حماقت خیز مہم کی کوئی حوصلہ افزائی دکھائی نہیں دیتی کیونکہ چین کی معیشت پر تب ہی فرق پڑ سکتا ہے جب اس کا انحصار بھی ہندوستانی مصنوعات پر ہو اور وہ اسے میسر نہ رہیں۔

زمینی حقائق یہ ہیں کہ بھارت بظاہر آئی ٹی میں بہت آگے ہے لیکن پورے ہندوستان میں کثرت سے استعمال ہونے والے موبائل فون چین کے بنے استعمال ہوتے ہیں اور چین کے اکیلے علی بابا گروپ کی بھارت میں پے۔ٹی ایم اور بک باسکٹ میں 801 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری موجود ہے۔۔ موبائل انڈسٹری اس وقت ملکوں کی تجارتی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی بن چکی ہے کیونکہ دنیا بھر میں اس کے صارفین کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔۔ دوسری طرف ہندوستان کا دنیا بھر میں انسانی اور زرعی ادویات میں بیس فیصد شیئر ہے لیکن چین میں بھارت کی کوئی بھی ادویات درآمد نہیں ہو رہی ہیں چین اور انڈیا کا یہ تجارتی عدم توازن کئی دہائیوں سے موجود ہے جو چین کو مستحکم اور بھارت کو کمزور کرتا ہے۔۔ بھارت ہر صورت میں مجبور ہے کہ وہ اپنی روزمرہ کی الیکٹرونکس اور موبائل مصنوعات چین سے خریدے جو اس کے اپنے ملک میں اتنی سستی تیار نہیں ہو رہیں۔ وہ یہ مصنوعات جاپان تائیوان یا امریکہ سے لینے کی حماقت کر ہی نہیں سکتا کیونکہ ان ممالک کی یہ مصنوعات ایک تو چین کے مقابلے میں مہنگی ہیں اور بھارت تک آتے آتے ان کے سفری اخراجات کئی گنا بڑھ جائیں گے جن کی قوت خرید ہندوستانی عوام کے بس کا کام نہیں ہے۔

آج کے انسان کو زندہ رہنے کے لیے جتنی خوراک کی ضرورت ہے اتنا ہی الیکٹرونک مصنوعات اور موبائل اس کی زندگی کا حصہ بن چکے ہیں۔۔چین کے سرحدی ممالک میں برما نیپال ہندوستان شمالی کوریا منگولیا پاکستان افغانستان روس بھوٹان لاؤس ویت نام قازقستان کرغیرستان اور تاجکستان شامل ہیں اگر ایک ہندوستان بظاہر اس کی مصنوعات کا بائیکاٹ بھی کر دے جو ممکن نہیں ہے تو بھی باقی 13 ممالک سمیت آدھی سے زاید دنیا میں چین کی تجارتی منڈیاں ہیں جہاں چینی مصنوعات خریدا جانا مجبوری ہے کیونکہ اس سے سستی چیز کوئی ملک اپنے ملک میں تیار ہی نہیں کر سکتا یہی وجہ ہے کہ چینی قوم اس وقت دوسری بڑی معاشی سپر پاور کے طور پر سامنے آ رہی ہے۔۔ چین کی اتنی مضبوط معیشت کا باعث ان کی گھر گھر میں لگی انڈسٹری ہے۔

بشکریہ: نوائے وقت

یہ بھی دیکھیں

منفی ایک کا مطلب ’منفی ایک‘ نہیں ہوتا!

تحریر:شہباز علی خان نومبر 1988 میں غیر جماعتی بنیادوں پر انتخابات کرانے کا اعلان کیا …