بدھ , 8 جولائی 2020

صدام کو کیمیائی ہتھیار دینے والے ممالک کیخلاف بین الاقوامی عدالتوں میں مقدمہ چلنا چاہئے؛ ایران

تہران: ایرانی شہری دفاعی تنظیم کے سربراہ نے کہا ہے کہ صدام کو کیمیائی ہتھیار دینے والے ممالک کیخلاف بین الاقوامی عدالتوں میں مقدمہ چلنا چاہئے۔ابلاغ نیوز نے ایرانی ذرائع ابلاغ ارنا کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ جنرل غلامرضا جلالی نے اتوار کے روز ایک خصوصی نشست سے خطاب کرتے ہوئے  کہا ہے صدام کو کیمیائی ہتھیار دینے والے ممالک کے خلاف بین الاقوامی عدالتوں میں مقدمہ چلنا چاہئے۔انہوں نے ایران- عراق جنگ کے دوران صدام حکومت کو کیمیائی ہتھیار دینے والے ممالک کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ بین الاقوامی عدالتوں میں اس مسئلے کا جائزہ  لیا جانا چاہئے۔

ایرانی جنرل نے کہا کہ ایران اور عراق کے درمیان آٹھ  سالہ جنگ کے دوران عراق کے سابق ڈکٹیٹر صدام حسین نے بار بار ایرانی فوجیوں اور نہتے شہریوں کے خلاف کیمیائی اور مائکروبیل ہتھیاروں کا استعمال کیا۔ سنہ 1366 ہجری شمسی میں ایران کے مغربی شہر سردشت پر کیمیائی حملہ صدام حکومت کے وحشیانہ جرائم میں سے ایک تھا۔

یہ بھی دیکھیں

چین کے خودمختار علاقے منگولیا میں طاعون کا مصدقہ کیس، حکام نے الرٹ جاری کردیا

بیجنگ: چین کے خود مختار علاقے منگولیا میں طاعون کے کیس کی تصدیق ہونے کے …