اتوار , 12 جولائی 2020

ایران کے خلاف کیمیاوی ہتھیاروں کا استعمال امریکہ، یورپ اور عالمی اداروں کی مرضی سے ہوا: صفوی

عسکری امور میں رہبر انقلاب اسلامی کے مشیر جنرل سید یحیی رحیم صفوی نے کہا ہے کہ ممکنہ کیمیاوی، جراثیمی اور ماحولیاتی خطرات کا مقابلہ کرنے کے لئے دفاعی آمادگی بڑھانا اور اسے مضبوط بنانا ایران کی کیمیاوی دفاعی حکمت عملی کا بنیادی حصہ ہے۔ ابلاغ نیوز نے سحر نیوز کے حوالہ دیتے ہوئے نقل کیا ہے کہ جنرل یحیٰ رحیم  صفوی نے اتوار کو کیمیاوی دفاع کے زیرعنوان سے منعقدہ قومی اجلاس سے خطاب میں عراق کی صدام حکومت کے ذریعے ایران کے سرحدی شہر سردشت پر کی جانے والی کیمیاوی بمباری کی جانب اشارہ کیا اور کہا کہ یہ ملت ایران کی تاریخ کا ایک سیاہ دن تھا۔

جنرل رحیم صفوی نے کہا کہ صدام حکومت کے ہاتھوں کیمیاوی ہتھیاروں کا استعمال ، بین الاقوامی اداروں اور امریکہ و یورپ کی مرضی سے ہوا تھا۔ انہوں نے کہا کہ صدام نے ایران کے خلاف مسلط کردہ جنگ کے دور میں ایرانی عوام کے خلاف دو سو باون بار ممنوعہ ہتھیار استعمال کئے جس کے نتیجے میں آٹھ ہزار افراد شہید اور ایک لاکھ سات ہزار زخمی ہوئے۔عسکری امور میں رہبر انقلاب اسلامی کے مشیر جنرل رحیم صفوی نے کہا کہ مختلف قسم کے کیمیاوی، جراثیمی اور ماحولیاتی خطرات کا مقابلہ کرنے کے لئے آٹومیٹک سسٹم قائم کرنا اور اسے فروغ دینا ایران کے کیمیاوی دفاعی نظام کے پروگرام کا بنیادی حصہ ہے۔عراق کے ڈکٹیٹر صدام نے اٹھائیس جون انیس سو ستاسی کو ایران کے سرحدی شہر سردشت پر کیمیاوی بمباری کی تھی جس کے نتیجے میں کم سے کم ایک سو دس عام شہری شہید اور آٹھ ہزار سے زائد افراد زخمی ہو گئے تھے۔

یہ بھی دیکھیں

افغانی کے نام پر ایرانی سیب درآمد کرنے پر 22 امپورٹر، کسٹم ایجنٹ گرفتار

پشاور کسٹمز حکام نے افغانستان سے ایرانی سیبوں کی درآمد کی مد میں قومی خزانے …