بدھ , 8 جولائی 2020

عراقی کردستان کے صوبے دہوک میں ترکی کی فوجی مداخلت انسانی بحران کا سبب

عراقی کردستان میں دھوک صوبے کے شمال میں واقع سرحدی دیہات پر ترکی کی بم باری کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر مادی نقصان پہنچا ہے۔ابلاغ نیوز نے ایک مقامی ذمے دار کے حوالتے سے نقل کیا ہے کہ مذکورہ نقصان کے علاوہ کرد دیہات سے لوگوں کی ایک بڑی تعداد جبری ہجرت پر مجبور ہو گئی ہے۔مذمتی بیانات اور بغداد میں انقرہ کے سفیر کی طلبی اور احتجاج کے باوجود ترکی نے عراقی کردستان کے اندر دہوک صوبے میں سرحدی پہاڑی علاقوں میں داخل ہونے کا سلسلہ ابھی تک جاری رکھا ہوا ہے۔ یہ کارروائی انقرہ کے مخالف کردستان ورکرز پارٹی کے مسلح عناصر کے تعاقب کے نام پر کی جا رہی ہے۔

ترکی کے توپ خانوں کی گولہ باری اور لڑاکا طیاروں کی بم باری کے سبب علاقے میں سیکڑوں ایکڑ کاشت کی گئی زرعی اراضی جل گئی۔ سرحدی علاقوں کی آبادی کا کہنا ہے کہ بم باری اور گولہ باری نے انہیں گھروں اور املاک چھوڑ کر جانے پر مجبور کر دیا۔ترکی کی فوج نے زاخو شہر کے مشرق میں تزویراتی اہمیت کے حامل سرحدی پہاڑ "خامتير” پر قبضہ کر لیا۔ اس سے قبل ترکی کی فوج اور اپوزیشن جماعت کردستان ورکرز پارٹی کے مسلح ارکان کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔ اس لڑائی میں نقصان اٹھانے والا واحد فریق مقامی دیہات کی آبادی ہے جو پھلوں کی کاشت حاصل کرنے کے سیزن میں اپنی روزی کے واحد ذریعے سے محروم ہو گئے ہیں۔

یہ بھی دیکھیں

چین کے خودمختار علاقے منگولیا میں طاعون کا مصدقہ کیس، حکام نے الرٹ جاری کردیا

بیجنگ: چین کے خود مختار علاقے منگولیا میں طاعون کے کیس کی تصدیق ہونے کے …