ہفتہ , 15 اگست 2020

یہ ہم نے کیا کر دیا؟؟؟

تحریر: انصار عباسی

پی آئی اے کی حالت تو پہلے سے ہی خراب تھی لیکن تحریک انصاف حکومت نے اب اس بات کو یقینی بنا دیا ہے کہ قومی ائیر لائنز کو مکمل طور پر تباہ ہی کر دیا جائے۔وزیر ہوا بازی کے اس بیان کہ پی آئی اے کے 40فیصد پائلٹس کے لائسنس جعلی ہیں، نے دنیا بھر میں پی آئی اے کی بچی کھچی ساکھ کو نہ صرف تباہ و برباد کر دیا بلکہ دنیا بھر کی ائیرلائنز میں کام کرنے والے پاکستانی پائلٹس کے کیریئرز کو بھی خطرے میں ڈال دیا۔

یورپی یونین کے ساتھ ساتھ برطانیہ نے بھی پی آئی اے کے آپریشن کو چھ ماہ کے لیے معطل کر دیا ہے۔ اس فیصلہ سے پی آئی اے کے ریوینو کا ایک بڑا حصہ ختم ہو جائے گا۔یورپی یونین اور برطانیہ کے اس فیصلے کے بعد خطرہ بڑھ گیا ہے کہ امریکہ، جاپان، عرب ریاستوں سمیت دوسرے ممالک بھی اسی قسم کا کوئی فیصلہ کریں گے۔ جو ہو چکا اُس کو ہی پی آئی اے کے لیے برداشت کرنا ممکن نہیں لیکن اگر دوسرے ممالک کی طرف سے بھی ایسا ہی فیصلہ کیا جاتا ہے تو پھر پی آئی اے کی تباہی نوشتہ دیوار ہے۔

سوال یہ ہے کہ وزیر موصوف نے اپنا بیان جاری کرنے سے پہلے کیا سوچا کہ اس کے کتنے سنگین اثرات ہو سکتے ہیں؟ کیا حکومت کو اس معاملہ کو غور و خوض کے بعد حکمت کے ساتھ اس طرح حل نہیں کرنا چاہیے تھا کہ ایک طرف جعلی پائلٹس کو بھی نکال دیا جاتا اور دوسری طرف پی آئی اے کا رہا سہا بزنس بھی تباہ نہ ہوتا؟اگر وزیر صاحب کا بیان واقعی درست ہے تو پھر سب سے پہلے تو جعلی پائلٹس کو نکال باہر کیا جاتا اور پھر دنیا کو بتایا جاتا کہ دیکھیں حکومت نے کیسے اپنی قومی ائیر لائنز کو صاف کر کے محفوظ بنا دیا ہے۔ مجھے تو شک ہے کہ وزیر موصوف کے بیان میں مبالغہ آرائی ہے۔ تصدیق اور انکوائری کے بغیر اتنی خطرناک بات کرنا انتہائی غیر ذمہ داری کا مظاہرہ ہے۔ اور اگر جو کہا گیا، وہ سچ ہےتو پہلا کام ایسے جعلی پائلٹس کو فارغ کرنا ہونا چاہیے تھا نہ کہ سیاسی بیان بازی جو ملک کو مہنگی پڑ گئی۔اس اقدام سے پی آئی اے تو تباہی کے دہانے پر پہنچ ہی گئی ہے پاکستان کی بھی دنیا بھر میں جگ ہنسائی ہوئی ہے۔ لیکن تحریک انصاف کے لوگ خصوصاً سوشل میڈیا کے ذریعے اس غیر ذمہ داری اور انتہا کی بیوقوفی کا خوب دفاع کر رہے ہیں۔

سینئر صحافی مرتضیٰ سولنگی نے اس پر بہت خوب تبصرہ کیا۔ اُن کا کہنا تھا کہ وہ بات جو حکومتی وزیر نے کہی اور جس کے نتیجے میں پی آئی اے کے آپریشن کو یورپ اور برطانیہ میں چھ ماہ کے لیے معطل کر دیا گیا، اگر یہی بات کوئی صحافی کرتا یا اس بارے میں خبر دیتا اور نتیجتاً پی آئی اے کے انٹرنیشنل آپریشن پر پابندی عائد کر دی جاتی تو ایسے صحافی کو حکومت نے فوری جیل میں ڈال دیا ہوتا اور اُس پر غداری اور ملک دشمنی کے فتوے بھی صادر کر دیے گئے ہوتے۔

تحریک انصاف وعدہ تو کر کے آئی تھی کہ خسارے میں چلنے والے تمام قومی اداروں کو نقصان سے نکال کر فائدہ مند بنائیں گے لیکن سب کچھ الٹ ہو رہا ہے۔ پی آئی اے کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا، پاکستان اسٹیل ملز کو منافع بخش کیا بنانا تھا، اُس کو بند ہی کر دیا، ریلوے کا خسارہ بھی کم کرنے کا وعدہ تھا لیکن اس ادارے کا خسارہ بھی پہلے سے بڑھ گیا اور حادثات بھی زیادہ ہو گئے۔

خواب تو یہ بھی دکھائے تھے کہ پاور سیکٹر میں بھی اصلاحات لائیں گے اور کرپشن ختم کر کے سرکلر ڈیٹ کا خاتمہ کریں گے لیکن عملاً اس کا الٹ ہوا اور سرکلر ڈیٹ جو پہلے ہزار بارہ سو ارب روپے تھا، اب بڑھ کر تقریباً انیس سو ارب تک پہنچ گیا ہے۔ ڈالر 168روپے کا ہو گیا، قرضے پچھلے 71سال کے مقابلہ میں پچھلے دو سال سے بھی کم عرصہ میں 40فیصد بڑھ چکے اور خطرہ ہے کہ تحریک انصاف کے پانچ سالہ دور میں یہ ڈبل ہو جائیں گے۔معیشت تباہ، ٹیکس پہلے سے بھی کم اکٹھا ہو رہا ہے۔ سوچتا ہوں کیا اس تبدیلی کو لانے والے بھی کبھی سوچتے ہوں گے کہ پاکستان کے ساتھ کیا ظلم کر دیا؟ کیا کوئی پچھتاوا، کوئی رنج کہ ہم نے کیا کر دیا؟

بشکریہ جیو نیوز

 

یہ بھی دیکھیں

پنجاب اسمبلی میں تکفیری سوچ کا راج اور ہماری ذمہ داری!

تحریر: غلام مرتضی جعفری پاکستان کی حکمراں جماعت تحریک انصاف جب سے برسراقتدار آئی ہے …